Umar bin Abdul Aziz Justice 37

’جو دلوں کوجیت لے وہی فاتح‘ حضرت عمر بن عبدالعزیز کےعدل و انصاف کا ایمان افروز قصہ

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے قصے ہمارے لیے نہایت ہی سبق آمیز ہیں، ان کا ایک قصہ ملاحظہ کریں-
سمر قند کے غیر مسلموں یعنی ذمیّوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک وفد بھیجا اور اس وفد کے سربراہ نےعمر بن عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ سے شکایت کی کہ آپ کے ایک سپہ سالار نے مسلمانوں کی اسلامی شریعت کے اصولوں سے انحراف کیا ہے اور ہم سے کوئی بات چیت کیے بغیر ہمارے علاقے پر حملہ کر دیا ہے اوراس پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔ ہم یہاں آپ سے گزارش کرنے آئیں ہیں کہ آپ ہمیں انصاف دلائیں-

یہ سب سننے کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے سمرقند کے گورنروقت سلیمان ابن ابی سریٰ کوخط یعنی گرامی نامہ لکھا اور کہا کہ سمر قندکے شہریوں نے مجھ سے اپنے اوپر ہونیوالے ظلم کی شکایت کی ہے، سومیرا خط پڑتے ہی سمر قند کے شہریوں کا مقدمہ سننے کیلئے کوئی قاضی مقرر کرو، اگر قاضی نے ان لوگوں کے حق میں فیصلہ کردیا تو وہ لوگ دوبارہ سے اپنا اقتدار سنبھال لیں گے اورمسلمان اس علاقے کو چھوڑ کرپہلے والے مقام پر واپس آجائیں۔

گورنرنے عمر بن عبدالعزیز کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک قاضی کا تقرر کردیا۔ قاضی نے سارا ماجرا سننے کے بعد اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے سمر قند کے غیر مسلموں یعنی ذمیّوں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ علاقہ اورچھاونی خالی کردیں اوراپنے پہلے والے مقام پر واپس چلے جائیں اور وہاں اس مقام پرجاکر اہلِ سمر قند سے مصالحت کی کوشش کریں، اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوں تو پھر بیشک جنگ کا راستہ اختیار کریں۔ عدل وانصاف کے اس مظاہرے کو دیکھتے سمر قند والے بہت حیران و پریشان ہوئے، انھیں اس کی بالکل توقع نہ تھی کہ ایک مسلمانوں کا قاضی اپنے لشکر کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیگا۔اہلِ سمر قند نے متفقہ طور پرآپس میں طے کیا کہ ہم پہلی والی حالت میں ہی ٹھیک ہیں۔ ہم نے مسلمانوں کا اقتدار دیکھ لیاہے، وہ کوئی ظلم نہیں کرتے اور ہمارے ساتھ امن وامان کی زندگی بسر کرتے ہیں، جنگ کی صورت میں قتل و غارت ہی ہوگااورکون جانتا ہےکہ کامیابی کس کی ہوگی لہٰذا ہمیں بخوشی مسلمانوں کا اقتدار قبول ہے۔

  تاریخ طبری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں