12 verses of Torah on which Imam Ali A.S thought 81

تورات کی وہ 12 آیات جن پر حضرت علی کرم اللہ وجہ روزانہ تین بار غورو فکرکرتے تھے ان آیات میں لکھا کیا تھا؟ دلچسپ اسلامی معلومات

حضور اکرم سرور کائنات ﷺ کی ایک خوبصورت حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کا دروازہ. حضرت علی ابن ابی طالب کی حکمت و دانش سے لبریز کتاب نہج البلاغہ آپ کے علم ، حکمت و دانش کا ایسا سورج ہے جو تا قیامت لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کے عظیم منبع اسلام کی جانب مبذول کراتا رہے گا ۔ حضرت علیؓ نہ صرف مدینہ منورہ کے یہودیوں میں اپنی حکمت و دانش کے باعث مشہور تھے بلکہ مشرکین مکہ بھی آپ کے علم اور عمدہ فیصلوں کے قائل نظرآتے تھے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات سے بارہ کلمات اخذ کیے ہیں جن پر روزانہ تین بار غور کرتا ہوں اور وہ کلمات درج ذیل ہیں۔

ایک: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! تجھ کو کسی حاکم اور دشمن حتیٰ کہ جن اور شیطان سے بھی جب تک میری حکومت باقی ہے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے۔

دو: اے آدم کے بیٹے! تو کسی قوت و طاقت اور کسی کے باعث روزی ہونے کے سبب اس سے مرعوب نہ ہو جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق باقی ہے اور میں تیرا حافظ ہوں اور یاد رکھ میرا خزانہ لافانی اور میری طاقت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

تین: اے آدم کے بیٹے! جب تو ہر طرف سے عاجز ہو جائے اور کسی سے کچھ بھی تجھ کو نہ ملے اور کوئی تیری فریاد سننے والا نہ ہو، اگر تو مجھے یاد کرے اور مجھ سے مانگے تو یقینا میں فریاد کو پہنچوں گا اور جو تو طلب کرے گا، دوں گا کیونکہ میں سب کا حاجت روا اور دعاوں کا قبول کرنے والا ہوں۔

چار: اے ابنِ آدم! تحقیق کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں، پس تجھے بھی چاہیے کہ میرا ہو جا اور مجھے یاد رکھ۔

پانچ: اے ابنِ آدم! جب تک تو پل صراط سے پار نہ ہو جائے تب تک تو میری طرف سے بے فکر مت ہو جانا۔

چھ: اے اولاد آدم! میں نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا اور نطفہ کو رحم مادر میں ڈال کر اس کو جما ہوا خون کر کے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا، پھر رنگ و صورت اور شکل تجویز کر کے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا، پھر اس کو انسانی لباس پہنا کراس میں اپنی روح پھونکی، پھر مدت معینہ کے بعد تجھ کو عالم اسباب میں موجود کر دیا، تیری اس ساخت اور ایجاد میں مجھے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی، پس اب تو سمجھ لے کہ جب میری قدرت نے ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تو کیا وہ تجھ کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے گی؟ پھرتو کس وجہ سے مجھ کو چھوڑ کر غیر سے طلب کرتا ہے۔

سات: اے ابنِ آدم! میں نے دنیا کی تمام چیزیں تیرے ہی واسطے پیدا کی ہیں اور تجھے خاص اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، مگر افسوس تو نے ان اشیاء پر جو تیرے لیے پیدا کی گئی تھیں، اپنے آپ کو قربان کر دیا اور مجھ کو بھول گیا۔

آٹھ: اے اولاد آدم! دنیا کے تمام انسان اور تمام چیزیں مجھے اپنے لیے چاہتی ہیں اور میں تجھ کو صرف تیرے لیے چاہتا ہوں اور تو مجھ سے بھاگتا ہے۔

نو: اے ابنِ آدم! تو اپنی اغراض فسانی کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتا ہے مگر اپنے نفس پر میرے لیے کبھی غصہ نہیں ہوتا۔

دس: اے اولادِ آدم! تیرے اوپر میرے حقوق ہیں اور میرے اوپر تیری ساری روزی، مگرتو میرے حقوق کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، لیکن میں پھر بھی تیرے کردار پر خیال نہ کرتے ہوئے برابر تجھے رزق پہنچاتا رہتا ہوں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

گیارہ: اے ابنِ آدم!تو کل کی روزی بھی مجھ سے آج ہی طلب کرتا ہے اور میں تجھ سے اس روز کے فرائض کی بجا آوری آج نہیں چاہتا۔

بارہ: اے اولادِ آدم! اگرتو اپنی اس چیز پر جو میں نے تیرے مقسوم میں مقدر کر دی ہے راضی ہوا تو بہت ہی راحت اورآسائش میں رہے گا اور اگر تو اس کے خلاف میری تقدیر سے جھگڑے اور اپنے مقسوم پہ راضی نہ ہوا تو یاد رکھ میں تجھ پر دنیا مسلط کر دوں گا اور وہ تجھے خراب و خستہ کرے گی اور تو کتوں کی طرح دروازوں پر مارا مارا پھرے گا، مگر پھر بھی تجھ کو اسی قدر ملے گا جو میں نے تیرے لیے مقرر کر دیا ہے۔

معالی الہمم صفحہ نمبر ۲۲ از حضرت جنید بغدادی ؒ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تورات کی وہ 12 آیات جن پر حضرت علی کرم اللہ وجہ روزانہ تین بار غورو فکرکرتے تھے ان آیات میں لکھا کیا تھا؟ دلچسپ اسلامی معلومات” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں