A Faithful Story of Hazrat Noah A.S with Women 22

حضرت نوح ؑ طوفان کے دوران کشتی میں ایک خاتون کو وعدہ کر کے بھی لے جانا بھول گئے لیکن! ایمان افروز واقعہ

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ایک مومنہ بوڑھی خاتون روز اللہ کے نبی کے پاس اپنی گٹھڑی لے کر آتی اور کہتی اے اللہ کے نبی، کب کشتی روانہ ہوگی؟ حضرت نوح ؑ فرماتے ابھی دیر ہے۔ وہ عورت شام تک بیٹھی رہتی اور پھر اٹھ کر چلی جاتی اور اگلے دن پھر آ جاتی۔ ایک دن حضرت نوح ؑ نے فرمایا کہ اے عورت، جب جانا ہوا تو تمہیں بتا دیا جائے گا۔ یہ عورت واپس چلی گئی اور انتظار کرنے لگی کہ کب نوح بلائیں گے۔ اس دوران عذاب آگیا اور کشتی روانہ ہو گئی لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس عورت کو نہ بلایا (ظاہری طور پر نوح ؑ کو اس کو بلانا بھلا دیا گیا)۔

طوفان نے پوری دنیا میں ہر طرف تباہی مچا دی اور جو بھی اس کشتی میں موجود تھا، بس وہی زندہ رہا۔ جب طوفان تھم گیا توایک دن حضرت نوح ؑ کے دل میں محبت اٹھی کہ شہر کو دیکھوں جہاں سے چلا تھا۔ وہاں آئے اور قریب جا کر دیکھا تو ایک جھونپڑی میں دیا جل رہا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام یہ دیکھ کر چونک گئے کہ روئے زمین پر کوئی ایسا گھر بھی ہے کہ اتنے عظیم طوفان کے بعد بھی جس میں چراغ جل رہا ہے۔ انہوں نے وہاں تکبیر بلند کی تو وہ عورت سامان لے کر آگئی اور کہنے لگی یا نبی اللہ، کیا کشتی تیار ہے چلیں؟ حضرت نوح ؑ نے حیرت سے اسکو دیکھا اور فرمایا رکو بوڑھیا! کیا تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا؟ وہ کہنے لگی یا نبی اللہ، کیا نہیں پتا چلا؟ فرمایا: اتنا بڑا سیلاب آیا، بارش آئی، تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا۔ بڑھیا کہنے لگی یا نبی اللہ، بس ایک دن بادل گرجے تھے اور کچھ ہلکی سی پھوہار پڑی تھی۔

حضرت نوح ؑ حیران ہو کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور کہا میرے اللہ، یہ کیا ماجرا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ پر وحی بھیجی کہ اے میرے پیارے نبی، اس عورت کے دل میں چونکہ تمھاری محبت تھی اور تم نے اسے پابند کر دیا تھا اور چونکہ تمہارا اس سے وعدہ بھی تھا کہ نجات کی کشتی میں اسے لے جاؤ گے، تب جبکہ تم نے اپنا وہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ لیکن اے نوح ؑ، میں تو تمہارے وعدے کا ذمے دار تھا، اس لیے میں نے اس بڑھیا تک عذاب پہنچنے ہی نہیں دیا۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے پاس بیٹھے اپنے مومنین سے فرمایا: او مومنو، یہ حدیث قیامت تک کے مومنین تک پہنچانا تم پر واجب ہے۔ انہیں بتا دو کہ جس نے ہم سے محبت کی، قیامت کا عذاب ضرور آئے گا لیکن جیسے اس بڑھیا کو پتہ نہیں چلا، ہمارے مومنوں کو بھی پتہ نہیں چلے گا کہ کب قیامت آئی اور کب چلی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں