A King And His 4 Sons 5

ایک بادشاہ اور زندگی کا انمول سبق

ایک بادشاہ کے چار بیٹے تھے، چاروں بیٹے کسی پر بھی بہت جلدی اعتبار کر لیتے تھے۔ بادشاہ چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے ذندگی کا یہ انمول سبق سیکھ لیں کہ کسی کو پرکھنے میں جلدی کا مظاہرہ کبھی بھی نہیں کرنا چائیے۔ لہذاء اس بات کو سمجھانے کے لئے اس نے اپنے چاروں بیٹوں کو ایک سفر پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دور دراز علاقے میں واقع ایک امرودوں کے ایک درخت کو دیکھنے کے لئے بھیجا۔ ایک وقت میں ایک ہی بیٹے کو سفر پر بھیجا کہ جاو اور اس درخت کو دیکھ کر آؤ۔

باری باری سب کا سفر شروع ہوا۔ پہلا بیٹا سردی کے موسم میں گیا، دوسرا بہار میں، تیسرا گرمی کے موسم میں اور سب سے چھوٹا بیٹا خزاں کے موسم میں گیا۔ اس دوران اس نے کسی بھی بیٹے کو آپس میں ملنے بھی نہ دیا۔ جب آخری بیٹا بھی سفر سے لوٹ آیا تو بادشاہ نے ایک محفل کا انعقاد کیا اور سب بیٹوں کو وہاں بلایا۔ اور سب سے باری باری ان کے سفر کی تفصیلات کے بارے میں پوچھا۔ پہلا بیٹا جو جاڑے کے موسم میں درخت دیکھنے گیا تھا، اس نے کہا کہ ابا جان وہ درخت بہت بد صورت، ٹھیڑاسا تھا۔ دوسرے بیٹے نے کہا، بادشاہ سلامت، وہ درخت تو ہرا بھرا تھا، ہرے بھرے پتوں سے بھرا ہوا۔ تیسرے بیٹے نے اپنے دونوں بھائیوں سے اختلاف کیا اور کہا کہ وہ درخت تو پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور اس سے حسین منظر تو اس نے پہلے کبھی دیکھا ہی نہ تھا۔ جبکہ چوتھے بھائی نے اپنے سب بھائیوں سے اتفاق ظاہر کیا اور کہا کہ وہ درخت تو پھل سے بھرا ہوا تھا اور بہت حسین لگ رہا تھا۔

یہ سب سن کر بادشاہ نے مسکرا کر اپنے چاروں پیٹوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم چاروں ہی اپنی اپنی جگہ پر بالکل صحیح کہ رہے ہو۔ یہ جواب سن کر اس کے بیٹے حیران ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ تب بادشاہ نے اپنی بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ میرے بیٹوں تم کسی بھی درخت یا آدمی کو صرف ایک موسم یا ایک حالت میں دیکھ کر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے، کسی فرد کو جانچنے کے لئے تھوڑا وقت ضروری ہوتا ہے۔

انسان کبھی کسی کیفیت میں ہوتا ہے اور کبھی کسی۔ اگر درخت کو تم نے جاڑے کے موسم میں بے رونق دیکھا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس پر کبھی پھل نہیں آئے گا۔ اسی طرح تم کسی آدمی کو ایک بار میں ہی دیکھ کر یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے۔ میرے بیٹوں کبھی بھی جلد بازی میں کوئی فیصہ نہ کرنا، کسی کو اس وقت سمجھا یا پرکھا جا سکتا ہے جب یہ تمام موسم اس پر گزر جائیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تم کسی کو جانچنے میں بہت دیر کر دو اور وہ تمھیں نقصان پہنچا دے۔ بلکہ اس انسان کو مختلف ماحول میں دیکھو اور فیصلہ کرنے کے بعد اس پر اعتبار کرو۔ اگر تم ایک موسم یا ایک حالت میں ہی نتیجہ اخذ کر کے یہ اندازہ لگا لوگے تو کوئی بعید نہیں کہ تم نقصان اٹھا لو۔ اس کے علاوہ ایک دکھ یا پریشانی کے لئے اپنے زندگی کی باقی خوشیوں کو داو پر مت لگانا۔ زندگی کے ایک برے موسم کو بنیاد بنا کر باقی زندگی کو مت پرکھو۔

دوستوں مجھے امید ہے کہ آپ بھی آج سے اپنی زندگی میں اس اصول کو اپنائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں