A lesson for those who do women march 9

عورت مارچ کرنے والی خواتین کے لئے سبق آمیز واقعہ

اشفاق احمد مرحوم فرماتے ہیں کہ میں ایک بار اپنی اہلیہ بانو کے ساتھ انگلینڈ کے ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں تبلیغی جماعت کے کچھ نوجوان چہل قدمی کرتے ہوئے پارک میں آئے اور گومنے لگے، اتنے میں مغرب کا وقت ہوا تو انہوں نے وہیں جماعت شروع کردی۔ ان نوجوانوں کو نماز پڑھتا دیکھ کر کچھ نوجوان لڑکیوں کا ایک گروپ ان کے پاس پہنچ کر رک گیا، گروپ حیرت سے ان کا عمل دیکھ رہا تھا اور نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ آو دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان کیا بات ہوتی ہے۔ مرحوم فرماتے ہیں کہ ہم دونوں میاں بیوی بھی وہاں اس جماعت کے پاس چلے گئے اور نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔

نماز ختم ہوتے ہی ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر جماعت کروانے والے نوجوان سے پوچھا کہ کیا تمھیں انگلش آتی ہے؟ تو نوجوان نے کہا کہ جی ہاں آتی ہے۔ تو لڑکی نے سوال کیا کہ تم نے ابھی یہ کیا عمل کیا؟ تو نوجوان نے بتایا کہ ہم نے اپنے رب کی عبادت کی ہے۔ تو لڑکی نے پوچھا آج تو اتوار نہیں ہے تو آج کیوں کی؟ تب نوجوان نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہم روز دن میں پانچ بار یہ عمل کرتے ہیں، تو لڑکی نے حیرت سے پوچھا کہ پھر باقی کام کیسے کرتے ہو تم؟ تو اس نوجوان نے اسے مکمل وضاحت سے پوری بات سمجھائی۔ بات ختم ہونے کے بعد لڑکی نے شکریہ کے طور پر مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا تو نوجوان نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میں آپ کو چھو نہیں سکتا، یہ ہاتھ میری بیوی کی امانت ہے اور یہ صرف اسے ہی چھو سکتا ہے۔ یہ سن کر وہ لڑکی زمین پر بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور روتے ہوئے بولی کہ اے کاش! یورپ کا نوجوان بھی اسی طرح کا ہوتا تو آج ہم بھی کتنی خوش ہوتیں۔ پھر بولی کہ واہ کتنی خوش نصیب ہے وہ لڑکی جس کے تم شوہر ہو۔ یہ کہہ کر وہ لڑکی وہاں سے چلی گئی۔

اشفاق مرحوم لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ”بانو! آج یہ نوجوان اپنے عمل سے وہ تبلیغ کر گیا جو کئی کتابیں لکھنے سے بھی نہیں ہوتی۔”

بے شک عزت اور سر بلندی اسلام میں ہی ھے۔ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی لڑکیوں، جاؤ اور جا کر یورپ میں عورت کا حال دیکھو اور خدا کا شکر ادا کرو تم ایک مسلمان پیدا ہوئی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں