A Real Story of a Girl Life 5

ایک لڑکی کی زندگی ۔۔۔ سبق آمیز کہانی

کلاس میں پروفیسر رشتوں کی اہمیت پر لیکچر دے رہے تھے، اس کے دوران اچانک پروفیسر نے ایک married لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25 سے 30 لوگوں کے نام لکھیں جو تمہیں اپنی ذندگی میں سب سے زیادہ عزیز ہوں، پیارے ہوں۔
لڑکی اٹھی اور بورڈ کے پاس آ کر سوچنے لگی، پھر پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے اور واپس پروفیسر کی جانب دیکھا۔ ساری کلاس بھی حیران ہو کر یہ سب دیکھ رہی تھی کہ آخر ہونے کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر نے لڑکی سے ان تمام ناموں میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5 نام مٹانے کے لیے کہا
لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے۔
پروفیسر نے اور 5 نام مٹانے کے لیے کہا۔
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسیوں کے نام بھی مٹا دیے۔
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا۔
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے۔
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے امی، ابو، شوہر اور بچے کا نام تھا۔
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو۔
لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے امی اور ابو کا نام مٹا دیا۔
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے اپنے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا۔
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے۔ شوہر اور بیٹے کا نام۔
اب پروفیسر نے پھر کہا کہ ایک نام اورمٹا دو۔
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی، بہت سوچنے کے بعد بھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا لیکن پھرافسردہ ہوتے ہوئے اس نے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا۔
پروفیسر پرسکون تھے، جیسے انھیں ان کا جواب مل گیا ہو، انھوں نے اس لڑکی سے کہا کہ تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاو اور سب کی طرف غور سے دیکھا، لڑکی واپس جا کر بیٹھ گئی۔
پھر پروفیسر نے پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا۔
سب خاموش رہے۔
پھر پروفیسر نے اسی لڑکی سے پوچھا کہ اسکی کیا وجہ ہے؟
اس نے جواب دیا کہ میرا شوہر ہی مجھے میرے ماں باپ، بہن بھائی، حتیٰ کے اپنے بیٹے سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ وہ میرے ہر دکھ سکھ کا ساتھی ہے، میں اس سے ہر وہ بات شیئر کر سکتی ہوں جو میں اپنے بیٹے یا کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتی، میں اپنی زندگی سے اپنا نام تو مٹا سکتی ہوں، مگر اپنے شوہر کا نام کبھی نہی مٹا سکتی۔
پروفیسر نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ لڑکی کی زندگی اتنی مختصر ہے، شادی سے پہلے ماں باپ کی اور شادی کے بعد بس شوہر۔
بیوی گھر کی ملکہ ہوتی ہے پاوں کی جوتی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں