A True Story of a British Muslim 7

ایک انگریز مسلمان کی پاکستان چھوڑ جانے کی سچی کہانی

اس سے تعارف اُس وقت ہوا جب کچھ سال پہلے میں کوالالمپور کے ایک خوبصورت قصبے میں علاج کی غرض سے مقیم تھا۔ میں ان دنوں کندھے میں درد کا شدید شکار تھا اور یہاں میں آپریشن کے غرض سے آیا تھا۔ پہلی دفعہ اسے میں نے کوالالمپور کی مسجد میں دیکھا ایک دم سفید فام انگریز، جسے ہم پاکستانی عام طور پر گورا کہتے ہیں وہ بہت عاجزی سے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں اسے ملا اور چند دنوں میں ہم دوست بن چکے تھے، اکثر اسکی سفیدفام بیوی بھی مسجد میں اسکے ساتھ ہوتی، اس نے بتایا کہ وہ دونوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور اسلام قبول کرکے ہمیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔ میری بیوی ڈاکٹر ہے اور وہ خود بزنس مین۔ خیرآپریشن کے بعد میں پکستان واپس آگیا۔

ایک ماہ پہلے اس کا فون آیا کہ وہ اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ میری خوشی کا تھکانہ نہ تھا، میں نے اسے اپنے گھر کا فوراََ پتہ بتایا اورآنے کی فرمائش کی لیکن اس کا اصرار تھا کہ میں اسکے ہوٹل آﺅں کیونکہ اس کے پاس وقت کم تھا اور شام کی فلائٹ سے اس نے واپس اپنے ملک انگلینڈ جانا ہے، چناچہ میں فوراََ ہی اس کے ہوٹل کی طرف نکل گیا۔

میں تین گھنٹے اسکے پاس بیٹھا، ہم نے دنیا جہان کی باتیں کیں، جب میں نے اس سے پوچھا کہ وہ پاکستان کیوں آیا تھا، پہلے تو وہ بات ٹالنے کی کوشش کرتارہا لیکن جب میں نے اصرار کیا اور اس نے لمبی آہ بھری اور وجہ بتانا شروع کی، تو سچی بات یہ ہے کہ میرے ہوش اُڑ گئے میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کہوں اس نے بتایا کہ وہ پاکستان مستقل رہنے کےلئے آیا تھا لیکن چھ ماہ یہاں گذارنے کے بعد وہ اپنا ارادہ بدل کر واپس جا رہا ہے ا سکی تفصیل کچھ یہ تھی کہ وہ کئی سال سے کسی مسلمان ملک میں آباد ہونے کا سوچ رہا تھا اسکی نگاہِ انتخاب پاکستان پراس لئے پڑی کہ یہ واحد مسلمان ملک تھا جو کہ ایٹمی طاقت تھی اس کا خیال تھا کہ اسلامی دنیا میں یہ ملک سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوگا۔ یہ ترقی اسکے اندازے کےمطابق ذہنی بھی ہوگی اور معاشی بھی۔ چناچہ وہ اپنی بیوی کو لے کر یہاں آگیا، اس نے یہاں اپنا کاروبار بھی شروع کیا۔ لیکن افسوس اسکے سارے اندازے غلط اور سارے خواب جھوٹے نکلے۔

اس نے بتایا کہ پہلا بڑا جھٹکا اُسے اُس وقت لگا جب اس نے اپنی بیوی کے ساتھ لاہور سے پشاور تک سفر کیا، مسلمان ہونے کے بعد وہ دونوں میاں بیوی ترکی ، سعودی عرب اور چند دوسرے مسلمان ملکوں میں تاریخِ اسلام اور اسلامی معلومات حاصل کرنے کیلئے گئے تھے لیکن پاکستان میں یہ سفر ان کیلئے ایک بہت عجیب و غریب تجربہ تھا جو کہ دلچسپ تو خیر کیا ہونا تھا، خوفناک ضرور تھا جو اس شخص کی زبانی کچھ یوں تھا۔

ہم جس مسلمان ملک میں بھی گئے ، میری بیوی کو نماز پڑھنے میں وہاں کبھی کوئی دشواری نہیں ہوئی، ترکی اور سعودی عرب میں میری بیوی مسجد ہی میں نماز پڑھتی تھی۔ دوسری خواتین بھی ہر نماز میں موجود ہوتی تھیں امریکہ و برطانیہ کی مسجدوں میں بھی یہی معمول تھا یہاں تک کہ قرطبہ اور غرناطہ کی مسجدوں میں بھی میری بیوی دوسری خواتین کےساتھ نمازیں ادا کرتی رہی۔ پاکستان میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا اس سے ہم سخت خوف زدہ ہو گئے ہم نے لاہور سے پشاور تک جی ٹی روڈ پر سفر کیا، ہم یہ تاریخی شاہراہ دیکھنا چاہتے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے بزنس کیلئے کچھ مشاہدے بھی کرنا چاہتے تھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہوا اور ہم ایک مسجد میں رکے تو معلوم ہوا کہ یہاں مساجد میں خواتین کی نماز کا تصور ہی نہیں، وضو والی جگہ مردوں سے بھری ہوئی تھی یہاں کسی عورت کا وضو کرنا ناممکن سا تھا۔ ہم ایک کے بعد دیگرراستے میں سات مساجد میں رکے، کسی ایک مسجد میں بھی خواتین کیلئے نماز پڑھنے کی سہولت نہیں تھی۔ ترکی میں خواتین مساجد کے ہال میں مردوں کے پیچھے صفیں بنا لیتی ہیں لیکن یہاں وہ بھی ممکن نہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے پاکستان کی مساجد میں صدیوں سے کوئی عورت داخل ہی نہیں ہوئی ہو اور اگر کوئی عورت داخل ہو بھی جائے تو یہ ایک عجوبہ ہو گا۔

یہاں ریستورانوں کے باتھ روم تو وہ اس قدر گندے اور عفونت زدہ تھے کہ وہاں وضو کرنے کا تصور ہی سے روح کانپ جاتی تھی، زیادہ تر باتھ رومز کے فرش بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، فلش ٹوٹے ہوئے تھے اور جو سلامت تھے ان میں پانی نہیں تھا، کموڈ جن پر بیٹھا جانا تھا ان پر جوتوں کا کیچڑ لگا تھا جس سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ ان پر پاوں کے بل بیٹھا جاتا رہا ہے حالانکہ اس مقصد کیلئے دیسی سٹائل کی ڈبلیو سی موجود تھیں۔ دنیا کی واحد ایٹمی اسلامی طاقت میں صفائی کے اس ماتمی معیار پر ہمارا دل جیسے خون کے آنسو رو رہا تھا- راولپنڈی گذری تو کچھ دیر کے بعد ہم نے اٹک کا پُل کراس کیا، اٹک پُل سے لے کر پشاور تک میری بیوی کہیں بھی وضو نہ کر سکی اور تیمّم کر کے نماز گاڑی میں سیٹ پر بیٹھ کر پڑھتی رہی یوں تو سارے سفر ہی کے دوران میری بیوی کو ہر جگہ بہت ہی “غور سے یا گھور کر” دیکھا جاتا رہا، تاہم اٹک کے پار اس سرگرمی میں اضافہ ہو گیا۔ پشاور سے واپس ہم نے ہوائی جہاز سے آنا تھا، ایرپورٹ پر پی آئی اے کے ایک اہلکار سے ہم کوئی بات کر رہے تھے، آن کی آن میں ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ جمع ہو گئے وہ سب میری بیوی کو اور اسکے لباس کو اس قدر غور سے دیکھ رہے تھے کہ وہ سخت خوفزدہ ہوگئی۔ ایک سمجھ دار اہلکار کا بھلا ہو وہ اس صورت حال میں ہمارا خوف بھانپ گیا اورہمیں فوراََ ایک دفتر نما کمرے میں لے گیا۔ ہمیں انگلینڈ میں اپنے رشتہ داروں اورمسلمان دوستوں کی ایک بات رہ رہ کر یاد آرہی تھی ہم نے جب اسلام قبول کیا تو بہت لوگوں نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے تم نے اسلام قرآن پاک پڑھ کر قبول کیا ہے لیکن جب تم مسلمان ملکوں میں جاﺅ گے تو اکثرملکوں میں تمہارا تجربہ افسوسناک ہو گا اس دنیا کی سب گندی غلیظ اور گمراہ کن قوم مسلمان آج مسلمان ہیں اور پاکستان کے مسلمان اس میں سب سے آگے ہیں- افسوس انکی یہ بات سچ نکلی۔

ہم اپنا بزنس سنٹر اسلام آباد میں قائم کرنا چاہتے تھے ہم نے ایک عمارت اس مقصد کیلئے کرائے پربھی لے لی، اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ اس قدرعجیب و غریب ہے کہ کبھی کبھی تو خود ہم میاں بیوی کو یقین نہیں آتا، پورے اسلام آباد میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو وعدہ پورا کرتا ہو یا سچ بولتا ہو۔ ہم نے اپنی عمارت میں جن لوگوں سے فرنیچر کا کام کرایا وہ وعدہ کرنے کے باوجود کئی کئی دن غائب ہوتے رہے، گارنٹی زبانی تھی یہاں لکھ کر کوئی نہیں دیتا ہمارے انگلینڈ میں ایسے نہیں ہوتا۔ فرنیچر کو چند ہفتوں میں ہی کیڑا لگ گیا وہ لوگ کہتے رہے کہ آکر ٹھیک کر دینگے یا تبدیل کر دینگے، لیکن کچھ بھی نہ ہوا اور تنگ آ کر ہم نے کہنا ہی چھوڑ دیا۔ جس پارٹی نے لوہے کا کام کیا وہ مشہور لوگ ہیں اور ان کا بہت بڑا سیٹ اپ تھا، لیکن انکا بھی سارا کام ناقص نکلا۔ گیٹ، بل کھاتی سیڑھیاں، ریلنگ، کچھ بھی اسکے مطابق نہ تھا جو طے ہواتھا۔ پانچ بار آنے کا وعدہ کیا گیا کہ آ کر دیکھیں گے اور نقائص دور کرینگے لیکن نہ آئے، یہاں تک کہ آخری بارمیں خود انکے پاس گیا صرف یہ پوچھنے کہ کیا ان کا اس حدیث پر یقین ہے کہ ” لا ایمانَ لمن لا عہدَ لہُ ” جو وعدہ خلافی کرے اس کا کوئی ایمان نہیں-

مجھے تعجب ہوا کہ میری بات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے وہ لوگ صرف یہ کہتے رہے کہ کوئی بات نہیں دیر سویر ہو ہی جاتی ہے، باقی ہمیں حدیثیں نہ سناؤ- تم تو ایک گورے انگریز مسلمان ہو اور ہم پیدائشی مسلمان ہے۔ ان کی اس بات نے مجھے حیرانگی میں ڈال دیا کہ پیدائشی مسلمان نہ ہونا کیا غلط ہے۔ اس کے علاوہ جس ڈسٹری بیوٹرز نے ہمیں مال پہنچانا تھا ان میں سے سوائے ایک کے، کوئی بھی طے شدہ وقت پرمال نہ دے سکا جس کی وجہ سے ہمارہ بھی اپنے کسٹمرز سے یقین خراب ہوا، کیونکہ ہم انھیں ڈسٹری بیوٹرز کے کہنے کے مطابق ٹائم دے دیتے تھے اور بعد میں شرمندہ ہوتے تھے۔ گیس اور بجلی والے، کارپٹ والے، ائر کنڈیشننگ والے، کسی کے ہاں وقت کی پابندی کا کوئی تصور ہے نہ کوئی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔ یہاں تک کہ نناوے فیصد لوگ ٹیلیفون کرنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ وہ طے شدہ وقت پر نہیں آئینگے، بعد میں بہانے بناتے ہیں۔ جبکہ انگلینڈ میں پہلے توکوئی دیر سے آتا نہیں اور اگر ایسا ہوجائے تو وہ فون پرپہلے ہی معذرت کرتا ہے، تاکہ اس کا انتظار نہ کیا جائے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والے اور وعدہ پورا نہ کرنے والے ان لوگوں نے اپنی دکانوں کے اوپر کلمہ شریف اور قرآنی آیات لکھ کر لٹکائی ہوتی ہیں اور ہاتھوں میں تسبیاں پکڑی ہوئی ہیں، اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں جمعہ کے خطبات میں ان لوگوں کو معاملات اور حقوق العباد کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جاتا۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ ظاہری شکل و صورت جیسے ڈارھی اور لباس کیسا ہو۔ ہمیں اس بات پر بھی سخت حیرت ہوئی کہ یہاں بھاری اکثریت مذہب کے معاملے میں سخت پُرجوش اور جذباتی ہے لیکن تقریباََ پچانوے فیصد لوگ قرآن پاک کے مطلب اور مفہوم سے مکمل طور پر نواقف ہیں بلکہ اکثریت پانچ وقت کی نماز میں جو کچھ پڑھتی ہے انہیں اس کا مطلب بھی نہیں پتا۔ البتہ یہاں ہر کسی کو لگتا ہے کہ اس سے زیادہ نہ کوئی بڑا مسلمان ہے اور باقی سب کافر ہیں۔

میں نے گھبرائے دل سے کھانے کی دعوت دی لیکن اس نے ایک اداسی کے ساتھ معذرت کر دی اور کہا کہ ان کی پرواز کا وقت ہو رہا تھا مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ جن کے اسلام میں صرف ظاہر پر زور ہو اور باطن اسلام سے مکمل طور پر محروم ہو ان کے ہاں کھانا کھانا بھی جائز نہیں۔ اس کے جانے کے بعد میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ وہ کہ کیا گیا ہے۔ لیکن کافی حد تک حقیقت بھی یہی تھی، ہم اس ماحول کے عادی ہو چکے ہیں لیکن باہر سے آنے والے کو یہ سب عجیب لگتا ہے۔ حقیقت تقریباََ یہی ہے، بہت سی باتیں ابھی تو اس نے دیکھی بھی نہیں۔ جیسے اس ملک کی آدھی سے زیادہ عوام گائوں میں رہتی ہے جہاں آج بھی لوگوں کے پاس باتھ روم جیسی کوئی چیز نہیں، نماز کا کوِئی نام نہیں، ہمارے تو یہاں سیاست دانوں کوکلمہ تک نہیں آتا- ہر لائن میں ہم گالیاں دیتے ہیں اور افسوس ہم اس ملک میں سمجھتے ہیں کہ ہم سے بڑا کوئی نہ سچا مسلمان ہے اور بس وہی مسلمان ہے۔

گمنام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں