Ali Zafar and Meesha Shafi Complete Story 26

علی ظفر بمقابلہ میشا شفیع – مکمل کہانی

تم لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی یہ نہیں جان سکتے کہ کسی کے دل کا میں تمھارے لیئے کیا ہے، دوست اور دشمن کا فرق وقت اور برے حالات ہی بتاتے ہیں۔ عام لوگ جب اس طرح کی بات کریں کہ ہمیں ہراساں کیا گیا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جب شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد اس طرع کا الزام لگاتے ہیں تو شدید حیرانگی کے ساتھ مزاق بنتا ہے، ایسا ہی کچھ میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملہ میں ہوا۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں لیکن آپس میں گلے ملنا عام ہوتا ہے، کیا وہ صحیح ہوتا ہے؟ جب ایک خاتون کھلے عام  کسی آدمی کے گلے لگتی ہے یا آدمی عورتوں کے گلے لگتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہے، تب تو کوئی مسلہ نہیں ہوتا، میرا مردوں کے ساتھ ساتھ خاص کر خواتین سے سوال ہے کہ آپ خراب لباس پہن کرمردوں میں رہیں تب کوئی فرق نہیں پڑتا، ناچیں، جھومیں، بولڈ سینز کریں اور بعد میں الزام لگا دیں کہ اس شخص نے مجھے ہراس کیا، کیا یہ صحیح ہے؟ کیا آپ اب تک ٹھیک کر رہی تھی؟ خاص کر اگر آپ مسلمان بھی ہوں۔ شوبز کے لوگ اگر کسی انجانے، کسی عام شخص پر الزام لگائیں تو سمجھ بھی آتا ہے، لیکن اگر آپ کسی ایسے شخص پر الزام لگائیں، جس کے ساتھ آپ گلے ملتی رہیں ہوں، گھنٹوں وقت گزارِیں اور پھر کہیں کہ اس نے مجھے ہراساں کیا، آپ ان لڑکیوں کا بھی حق مار رہی ہیں جو حقیقت میں ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں لیکن افسوس کہ ایسا دنیا میں اب عام ہو گیا ہے۔

میشا اور علی ظفر لاہور کے ایک ہی علاقے DHA میں رہتے ہیں، دونوں سنگرز ہیں، علی ظفر ایک تو پرانے سنگر ہیں اور زیادہ مشہور بھی۔ دونوں کے خاندان 30 ،40 سال سے دوست ہیں۔ میشا  علی ظفر کی بیوی عائیشہ کی بچپن کی دوست ہیں، میشا کی والدہ صبا حمید علی ظفر کے والد کی سٹوڈنٹ اور دوست ہیں۔ میشا کالج کے دنوں میں علی ظفر کی جونئیر تھی، دونوں خاندان کا آپس میں ملنا، ہر موقع پر آنا جانا، دوستی پیار سب تھا۔ میشا اورعلی ظفر نے کئی گانوں، پروگرامز اور محفلوں میں ساتھ کام کیا، گلے ملنا عام معمول تھا، اکژ دونوں مختلف جگہوں پر اکھٹے تنہا بھی رہے۔ علی ظفر کی بیوی عائشہ کا کہنا ہے کہ میں میشا کو بچپن سے جانتی ہوں، میری تو میشا سکول لائف سے دوست ہیں، ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے، بعد میں میشا کالج کے دنوں میں علی ظفر کی جونئیر تھی۔ میشاء کا بہت سالوں سے ہمارے گھر آنا جانا ہے، یہاں تک کہ ہم ہر فنگشن ہر اکٹھے ہوتے تھے، ایک شیمپو سے لے کر دوسری چھوٹی سے چھوٹی بات تک ہم میں ڈسکس ہوتی تھی، علی اور میشا کی دوستی تو ہماری شادی سے پہلے سے ہے کیونکہ میشا کی والدہ صباء آنٹی علی کے والد کی سٹوڈنٹ تھیں۔ میرے اور میشا کے بچے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ میں علی کو بہت اچھے سے جانتی ہوں وہ کبھی ایسا کر ہی نہیں سکتے لیکن اگر علی نے ایسا کیا بھی ہے تو ہمارے تو آپس میں فیملی ٹرمز تھے، میشا میرے پاس آ سکتی تھی، اپنی والدہ کو شکایت کر سکتی تھی یا علی کے والدہ کو بتا سکتی تھی، لیکن میشا نے ٹویٹر پر ٹویٹ کرنا زیادہ فائدہ مند سمجھا، کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ میشا کو اوچھے پن کا مظاہرہ کرنا پڑا۔ عائشہ کا مزید کہنا تھا کہ میں کبھی بھی میشا کو معاف نہیں کروں گی اور نہ میں کرسکتی ہوں، چاہے کیس ختم ہو جائے، اس ایک سال میں ہم نے کیا کیا نہیں سہا، کیا کیا جواب میں نے کس کس کو دیئے، اپنے بیٹے کو دیئے، اپنی فیملی کو دئیے، لوگوں کو دیئے ہیں۔

علی ظفر اور میشا شفیع کی یہ لڑائی MeToo مہم سے منظرِعام پرآئی۔ می ٹو مہم کا آغاز اکتوبر 2017 میں امریکہ سے ہوا تھا اور اس میں بے شمار لڑکیوں، اداکاروں اور شوبز سے وابستہ لوگوں نے اپنی مظلوم داستانیں سنائیں، اور پھر یہ ہوا کہ مہم پاکستان پہنچ گئی۔ مہم میں شامل زیادہ ترخواتین نے تو یقیناََ سچ ہی بولا ہو گا لیکن کچھ ایسی خواتین بھی تھی جنھوں نے صرف میڈیا کی نظروں میں آنے یا کسی بدلے کے لیئے اس مہم کا سہارا لیا، جن میں سے چند کا بانڈا بعد میں بےنقاب ہو گیا، جیسا کہ ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ ایمبرہرڈ کے ساتھ ہوا کہ انھوں نے سابقہ شوہراداکار جونی ڈیپ پر محض بدلہ لینے کے لئے الزام لگایا تھا اور بعد میں عدالت میں یہ ثابت ہوا۔ آخرکار اسی مہم میں میشا شافی بھی کود پڑیں۔ میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کوٹویٹ کر کے الزام لگایا کہ علی ظفر نے انھیں ایک بار نہیں کئی بار حراس کیا ہے اور وہ بھی جسمانی طور پر۔ میشا نے مزید کہا کہ مجھے صرف اور صرف علی ظفر نے حراس کیا ہے لیکن اس نے صرف مجھے ہی ہراس نہیں کیا، میری طرح اور بھی لڑکیاں علی ظفر کی ہوس کا شکارہوچکی ہیں۔ علی ظفر کی جانب سے اسی دن جواب دیا گیا کہ ان پر لگایا جانے والا الزام مکمل طور پر جھوٹا ہے اور الزام کو فوراََ ڈیلیٹ کردیا جائے۔ چند دن بعد میشا نے وضاہت دی کہ جب پہلی بار علی ظفر نے مجھے ہراساں کیا تو میں بہت حیران رہ گئی اور اپنے شوہر کو بتایا تو ہم نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری بار علی ظفر نے مجھے 21 دسمبر2017 کو گانے کی ریہرسل کے دوران جیمنگ روم میں ہراساں کیا، تیسری بار علی ظفر نے مجھے اپنی بیوی کی سالگرہ پر ہراساں کیا۔

یہاں ہم کچھ واضح کرتے چلیں کہ 21 دسمبر کے واقع میں 11 لوگ علی ظفر کے گھر میں واقع جیمنگ روم میں موجود تھے جن میں 2 لڑکیاں، علی ظفر کے مینیجر اور میشا شفیع کے مینیجر بھی موجود تھے، تمام افراد نے میشا کی بات کو جھوٹا قرار دیا، جب کہ میشا کے مینیجر کی طرف سے کوئی بھی آج تک جواب نہیں آیا۔ اس کے بعد علی ظفر کی بیوی عائشہ کی سالگرہ پر درجنوں افراد تھے، جنھوں نے بھی کچھ نہیں دیکھا۔

کیس کی مختصر کہانی

تقریباََ ایک سال ہو گیا ہے اس مقدمہ کو لاہور کی عدالت میں چلتے، میشا شفیع کے الزامات کے بعد علی ظفر کی جانب سے ہتک عزت کا نوٹس بھجوایا گیا، اور جواب میں میشا نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا کیس صوبائی محتسب کے سامنے پیش کیا، مگر کیس کو خارج کردیا گیا، بعد میں اس کیس کو گورنر پنجاب کو بھیجا گیا، جس کے بعد کیس کو سننا شروع کیا گیا۔ بعد ازاں جون 2018 میں علی ظفر نے میشا شفیع پر بدنامی کے زمرے میں ہرجانہ دینے کے لئے کیس کر دیا اور ابتک یہ کیس چل رہا ہے، اس دوران میشا ایک بار بھی عدالت نہیں آئی جبکہ علی ظفر عدالت جا چکے ہیں۔ میشا کے وکلا کی جانب سے ایک ہی کوشش کی جا رہی ہے کہ بس یہ کیس لمبا چلتا جائے۔ کچھ عرصہ قبل علی ظفر نے درخواست بھی دی کہ کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں کیا جائے لیکن میشا کے وکلا نے اس پر بھی اعتراض کیا اور جج نے فیصلہ دیا کہ 3 ماہ میں اس کیس کا فیصلہ کیا جائے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد صوبائی محتسب عدالت نے میشا کی جانب سے کیا گیا کیس تو یہ کہہ کرخارج کردیا کہ مقدمہ کو ٹیکنیکل بنیادوں پر خارج کیا جاتا ہے۔ جب کہ علی ظفر کا کیس ابھی چل رہا ہے۔

حال ہی میں علی ظفر نے میڈیا پر انٹرویو دیا اور روتے ہوئے میشا پر جھوٹا ہونے کے ساتھ ساتھ کئی الزامات لگائے، جس کے بعد میشا شفیع نے علی ظفر کو 2 ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا۔ ساتھ ساتھ میشا نے علی ظفر کی طرف سے کئے گئے کیس کو سننے والے جج کے خلاف بھی اپیل دائر کی کہ مقدمہ کو سننے والا جج جانبدار نہیں ہے لہٰذا مقدمہ کسی دوسری عدالت کے جج کے پاس منتقل کیا جائے۔ جس پر اب کیس کو دوسرے جج کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ نئے جج نے جب مقدمہ کوسنا تو علی ظفر کے وکلا کی جانب سے گواہوں کو پیش کرنے کی درخواست کی گئی جس پر بھی میشا کے وکلا نے اعتراض کیا کہ کسی بھی گواہ کو ابھی نہ سنا جائے، لیکن جج صاحب نے حکم دیا کہ گواہوں کو پیش کیا جائے جس پر علی ظفر کی جانب سے ایک ماڈل اور سنگر کانزہ منیر کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا جس کا کہنا تھا کہ میں اس وقت وہاں ہی موجود تھی جس وقت جیمنگ روم میں میشا نے ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے، میشا جب آئی تب بھی علی کو گلے لگایا اور جانے وقت بھی بڑی خوش دلی سے علی کو گلےلگا کر گئیں، میرے علاوہ وہاں 10 لوگ اور بھی موجود تھے، کسی نے بھی کچھ ایسا ہوتے نہیں دیکھا، اس کے ساتھ ساتھ واقعہ کی پوری ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے اور میشا کے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ اس سے پہلے بھی علی ظفر کی جانب سے کئی گواہ گواہی دینے کے لئے آتے رہیں ہیں جن میں کانزہ منیر کے ساتھ ایک اور لڑکی اقصیٰ بھی شامل ہیں، یہ دونوں لڑکیاں جیمنگ روم میں موجود تھیں، لیکن میشا کے وکلا کی غیر حا ضری یا کسی اور وجہ سے وہ بیان ریکارڈ نہیں کروا سکے۔ علی ظفر کے وکلا کا کہنا ہے کہ میشا کے وکلا کی جانب سے آئے روز کوئی نہ کوئی تاخیری حربہ استعمال کیا جاتا ہے، تا کہ بس کیس لمبا چلتا رہے، یہ مقدمہ کا فیصلہ کروانا چاہتے ہی نہیں ہیں۔ علی ظفر سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بہت ایکٹو نظر آتے ہیں اور آئے روز کوئی ثبوت یا اس کیس کے حوالے سے کوئی تحریر اپنے فینز سے شئیر کرتے رہتے ہیں جبکہ میشا خود تو سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اتنا ایکٹیو نہیں ہے لیکن ان کے کچھ فینز ہیں جو مسلسل علی ظفر اور ان کی بیوی کی تضحیک کرتے ہیں، اور دوسری جانب میشا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

حال ہی میں علی ظفر نے مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ برداشت کی حد ہوتی ہے، کبھی جھوٹے اکائنٹس سے میری بیوی یا بہن کی تصاویر لگا کرانھیں برا بھلا کہا جاتا ہے، میں نے اس معاملے کی وجہ سے اپنی ماں کو روتے دیکھا، بیوی کو روتے دیکھا، میں میشا کو اب بھی کہتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو اور معافی مانگو، مجھ سے بھی اور میری بیوی سے بھی۔ میشا کے کیا عزائم ہیں، میں نہیں جانتا، لیکن اس کا الزام بالکل جھوٹا ہے۔ اور میشا نے ایسا پہلی بار نہیں کیا، کالج کی ان کی دوست کا نوٹ پرھیں تو اس کا کہنا ہے کہ میشا نے اپنی اس دوست کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا اور اس کا نام کالج میں کسی لڑکے کے ساتھ جوڑکر بدنام کیا۔ اس کے علاوہ میشا نے اپنے ہی خاندان کے کئی افراد پرپہلے ہی کئی مقامات بنا رکھے ہیں۔ میشا مجھ سے معافی مانگیں، شاید انھیں میں معاف کر دوں۔ کیا وجہ تھی کہ میں ایک طرف ہراساں کر رہا تھا اور میشا میری تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ کام بھی کر رہی تھیں، میرے ساتھ لی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کررہی تھیں۔

جس کے بعد میشا نے بھی شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں انٹرویو دیا، میشا شفیع کا کہنا تھا کہ میں کبھی بھی بات کو پبلک نہیں کرنا چاہتی تھی، اور میں نے پوری کوشش کی کہ میں یہ بات بھول جائوں لیکن مجھے پھر لگا کہ مجھے اپنے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ جب میشا سے سوال کیا گیا کہ آپ نے علی ظفر کی بیوی سے بات کیوں نہیں کی، تو میشا نے جواب دیا کہ میں نے خود علی کے گھر بات نہیں کی لیکن کچھ لوگوں سے جو ہم دونوں خاندان کے قریب تھے، ان کے زریعے پیغام بھجوایا تھا، کہ میں علی کے ساتھ اب مزید کام نہیں کرنا چاہتی اور وجہ بھی بتائی، جواب میں علی ظفر کی جانب سے جواب آیا کہ میشا گھر آ کر بات کریں اور انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر علی ظفر معافی مانگ لیں تو کیا آپ معاف کر دیں گی تو میں نے جواب دیا کہ اس پر سوچا جا سکتا ہے، لیکن جب علی نے صاف انکار کر دیا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا تو پھر میں چپ ہو گئی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ایک پروجیکٹ جس پر میں پہلے سے کام کر رہی تھی ، مجھے پتا چلا کہ اب علی ظفر بھی اس پروجیکٹ میں آ رہے ہیں، تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایسا کبھی ہونے نہیں دوں گی۔ میشا کا مزید کہنا تھا کہ میں کچھ بھی نہیں چاہتی، بس میں اب باقی خواتین کے لئے یہ مقدمہ لڑ رہی ہوں۔

Meesha Shafi and Ali Zafar Story 1

اس سارے انٹررویو میں میشا بہت زیادہ محتاط ہو کربولتی رہیں اور دوسری جانب جارہانہ اندااز رکھنے والے شاہ زیب خانزادہ کا بھی ایک نیا ہی چہرہ تھا، نہ انھوں نے بہت سخت سوالات پوچھے، نہ باتوں کی کھینچا تانی کی جو کہ وہ ہمیشہ کرتے ہیں اور آدھے سے زیادہ سوالات کے جوابات وہ اپنے سوال میں کہتے رہے جو کہ علی ظفر کی طرف سے اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد کرواتے چلیں کہ جب علی ظفر کی بیوی عائیشہ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا میشا نے کبھی آپ سے اس بات کا ذکر کیا تھا یا کسی اور فیملی ممبر سے تو عائیشہ کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس اسی بات پر ہے کہ اگر کچھ ایسا ہوا تھا تو میشا مجھ سے بات کر سکتی تھی، علی کی ماں سے بات کر سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، آخری دن تک وہ میرے اور باقی لوگوں کے سامنے علی کی یا علی کے کام کی تعریفیں کرتی پھر رہی تھیں اور ملنا جھلنا بھی ٹھیک تھا۔

علی ظفر کی جانب سے میشا کے الزامات کے جواب میں میشا کے ساتھ بنی جیمنگ سیشن کی ویڈیو اور سیشن کے بعد بھیجے گئے پیغامات منظرِعام پر پیش کر دئیے گئے ہیں، جس میں میشا کا کہنا تھا کہ جیمنگ اور سیشن کے دوران بہت مزہ آیا اور ساتھ ساتھ علی ظفر کا شکریہ بھی ادا کیا، علی ظفر کا کہنا ہے کہ میشا کو نہیں پتہ تھا کہ میرے جیمیگ روم میں کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ لیکن جب میشا سے اس بارے میں شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں سوال کیا گیا تو میشا نے سوچتے ہوئے جواب دیا کہ انھوں نے وہ میسیجز کنسرٹ کے حوالے سے تھے نہ کہ جیمنگ روم کے، یہاں شاہ زیب خانزادہ نے کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ میشا پھر آپ نے اپنے پیغام میں جیمنگ روم کی جگہ کنسرٹ کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا جبکہ میشا کے میسیج میں صاف صاف جیمنگ روم کا ذکر ہے۔ جیمنگ روم کا واقعہ 21 دسمبر کا تھا اور 23 دسمبر کو میشا نے علی ظفر کے ساتھ ایک کنسرٹ بھی کیا تھا، تب میشا نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ LAST NIGHT CROONING WITH ALI ZAFAR۔ میشا سے سوال کیا گیا کہ آپ بار بار ہراس ہو کر بھی علی ظفر کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں آخر کیوں؟ جس پر میشا نے جواب دیا کہ گایئکی میری روزی روٹی ہے، مجھے کام مل رہا تھا، میں کیسے انکار کر سکتی تھیں۔ میشا سے سوال کیا گیا کہ آپ کے شوہر بھی سب جاننے کے باوجود علی ظفر کے ساتھ کام کرتے رہے، جس پر میشا کا کہنا تھا کہ ایسا صرف ایک بار ہوا، کیونکہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے چپ رہنا ہے۔

شوبز حضرات کی رائے

وقار زکاء کا کہنا تھا کہ میشا نے الزام کے فوراََ بعد میرا جواب دیکھ کر بلاک کر دیا تھا، اگر میشا سچی ہوتی تو مجھے بلاک نہ کرتی ٹویٹر پر، اسے پتہ تھا کہ وقار اس کے ہرجھوٹ پر جواب دے گا۔ وقار زکاء نے قسم کھاتے ہوئے کہا کہ میشا تمھاری اتنی اوقات بھی نہیں ہے کہ علی ظفر تمھیں ہاتھ لگائے یا چھوئے۔ میں چڑیل، چائینیز بندریا میشا کو بے نقاب کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔

ماڈل متھیرا کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ علی ظفر نے ایسا کچھ کیا ہے، وہ بہت بڑا اسٹار ہیں۔ ہراساں کرنا یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو کسی نے ہراساں کیا تو آپ 2 سال بعد کہیں کہ مجھے فلاں بندے نے 2 سال پہلے ہراس کیا، مطلب تب آپ چپ رہے اور اب کارڈز کھیل رہے ہو۔ میرے ساتھ اگر کوئی ایسا کرے تو میں تو فوراََ جواب دوں گی، نہ کہ 2 سال بعد۔ متھیرا نے علی ظفر کا ساتھ دیتے ہوئے مزید کہا کہ جانے کچھ لوگ کیوں اپنا بدلہ لینے کے لئے MeToo مہم کا سہارا لیتے ہیں، علی ظفر اچھے انسان کی طرح ہمت رکھیں کیونکہ جھوٹ بولنے والا زیادہ دیر بچ نہیں۔

مایا علی جو علی ظفر کے ساتھ تیفا ِان ٹرابل میں کام کر چکی ہیں، ان کا سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہنا تھا کہ وہ کسی کو صحیح یا غلط کرار نہیں دے رہی، میں علی ظفر کو ذیادہ لمبے عرصے سے نہیں جانتی۔ ایک سال سے ہم فلم تیفا ان ٹرابل کی شوٹنگ کے دوران لاہور اور پولیڈ میں ساتھ ساتھ تھے اور میں نے یہی دیکھا کہ شوٹنگ سے فارغ ہوتے ہی علی اپنی بیوی اور بچوں سے بات کرتے، انھیں اپنے دن بھر کے حالات و واقعات سناتے اور یہی علی کا معمول تھا، جس کی وجہ سے میں علی کی فین ہو گئی کہ وہ کتنا اپنی فیملی سے محبت کرتے ہیں۔ مایا نے مزید کہا کہ میں کسی کے کردار کی صفائی نہیں دے رہی، میں بس علی ظفر کی عزت کرتی ہوں اور سچ کو سامنے آنا چاہئے۔

فلمسٹار میرا کا کہنا تھا کہ میشا نے یہ سب شہرت کے لئے کیا ہے، علی ظفر بہت معصوم ہیں اور میشا ان کے ساتھ غلط کر رہی ہیں، میشا شاید ملالہ بننا چاہتی ہیں۔

مشہور ایکٹر عائشہ عمر کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ میشا کے الزام میں کتنی سچائی ہے لیکن یہ سب بولنے کے لئے بہت ہمت چاہئے، کاش کے ایک دن یہ ہمت مجھ میں آجائے اور میں بھی بتا سکوں کہ میرے ساتھ کیا کیا ہوا ہے۔

حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ پہلے تو یہ تہ کرنا چاہئے کہ ہراسمنٹ کیا ہے اور کیا نہیں ہے ورنہ پھر آخر میں یہ ہو گا کوئی بھی کسی پر بھی آ کر الزام لگا دے گا اور ایک گند مچ جائے گا۔

فلمسٹار ریشم کا کہنا تھا کہ میں علی ظفر کو 20 سال سے جانتی ہوں، اس وقت سے جانتی ہوں جب وہ اپنے کیرئیرکی شروعات کر رہے تھے، وہ بہت زیادہ اپنے کام سے لگاوْ کرتے ہیں، علی نے اپنی زندگی میں ایک ہی لڑکی سے محبت کی اور پھر اسی سے شادی بھی کی۔ علی ظفر ایک بہت بڑا نام ہے۔ علی ظفر کے ساتھ میں نے بہت کام کیا ہے اور علی نے ہمیشہ مجھے بہت عزت دی اور میں نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ علی خواتین کی بہت عزت کرتا ہے، وہ ایک انٹرنیشنل اسٹار ہیں، کتنی ہی خوبصورت ایکٹریسز کے ساتھ انھوں نے کام کیا ہوا ہے، انڈیا میں فلم کر کے آئے ہیں۔ میشا نے ایسا الزام لگا کر کے ان خواتین کا بھی حق مار دیا ہے جو حقیقت میں ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ علی ظفروہ پاکستان کی شان ہے جس نے کترینا کیف کے ساتھ فلم کرتے ہوئے بولڈ سین بنوانے سے صرف اس لئے انکارکردیا تھا کہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں علی کو بہت اچھے سے جانتی ہوں اورمیں یہی کہوں گی کہ مجھے میشا کے باتوں میں کوئی سچائی نظر نہیں آ رہی۔ ریشم کا مزید کہنا تھا کہ جس دور میں ہم اسٹارز آج رہ رہی ہیں، ہم اسٹارز کسی کو بھی شٹ اپ کہنا جانتی ہیں، ہمیں پتا ہے کہ کتنا آگے بڑھنا ہے، کس سے کیا بات کرنی ہے۔ میشا کے ساتھ اگر ایسا ہوا تو کیوں نہیں انھوں نے اسی وقت تپھڑ مارا یا علی کی بیوی کے پاس گئی، کیوں عرصہ بعد میشا کو ایک ٹویٹ کا سہارا لینا پڑا، جبکہ میشا اور علی کی بیوی بھی بہت اچھی دوست تھیں۔

مشہور ماڈل نادیہ حسین کا کہنا تھا کہ میشا شفیع ایک سمجھدار خاتون ہے اور اسے پتا ہے کہ وہ بغیر سبوت کے کیس نہیں جیت سکتی، اور اگر میشا کے پاس سبوت ہیں تو وہ ہی جیتے گی۔ اور اگر کوئی بھی لڑکی ایسا الزام لگاتی ہے تو اسے ہمیشہ سیریس لینا چاہئیے، دیکھنا چاہیئے کہ اس نے آخر اتنا بڑا الزام کیوں لگایا۔

میشا کی والدہ صبا حمید نے اپنی بیٹی کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ میں ہر قدم پر اپنی بیٹی میشا شفیع کے ساتھ ہوں۔

اس کے ساتھ ساتھ شوبز انڈسٹری سے وابستہ احسن خان، آئمہ بیگ اور دیگر اداکاروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی پر بھی ایسے ہی الزام نہیں لگا دینا چائیے، اور لوگ بھی کسی کے الزام کو فوراََ سچ تصور نہ کر لیا کریں، ہمیں اپنی عدالت سے انصاف کی امید رکھنی چاہئیے اور جیت یقیناََ سچ بولنے والے کی ہی ہو گی۔ اگر علی ظفر نے ایسا کیا ہے توبہت غلط کیا ہے، جبکہ کچھ شوبز سے وابستہ لوگوں نے علی ظفر کو مجرم قبول کر کے سخت سزا دینے کی درخواست بھی کی۔ جبکہ کچھ اداکاروں کا کہنا تھا کہ میشا دو چار سال کی بچی نہیں تھی کہ وہ ہراس ہوتی رہیں اور وہ بھی اتنے سال تک، زیادہ سالوں تک افیئر ہوتا ہے نہ کہ ہراسمنٹ۔

Meesha Shafi and Ali Zafar Story

فینز کی رائے

میشا شفیع کے الزام لگاتے ہی خواتین کی بڑی تعداد شروع میں تو میشا کے ساتھ تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اگراول تو لڑکیاں ڈر کر چپ ہوجاتی ہیں لیکن اگر کوئی اس کے خلاف بولتی ہے تو لوگ اسے ہی برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں، ہم میشا کے ساتھ ہیں لیکن آج علی ظفر کی طرف سے سوشل میڈیا پر دئیے جانے والے ثبوتوں اور باقی معاملات سامنے آنے کے بعد زیادہ ترخواتین بھی چپ ہو گئی ہیں، اس کی ایک وجہ وہ کنفیوژن بھی ہے جو اب پیدا ہو گئی ہے کہ آیا میشا سچ بھی بول رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ذیادہ تر لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس نے کیا کہا یا کیا کر دیا۔ حالیہ سالوں میں خواتین کی جانب سے کئے جانے والے مارچز اور ان میں استعمال ہونی والی گندی زبان کی وجہ سے ذیادہ تر لوگ اسٹارز اور خاص طور پر جو خواتین عورتوں کی آواز بلند کرنے کی آڑ میں اپنی دکان چلا رہی ہیں، سے بددل ہو گئے ہیں۔ اس سال تو ان مارچز میں اسلام کے برخلاف اور اخلاق سے گری ہوئی زبان حد سے تجاوز کر گئی تھی، اور اس عورت مارچ میں میشا شفیع بھی شامل تھیں۔ کچھ لوگ میشا اور علی ظفر کی لڑائی پر صرف مزہ لے رہے ہیں، وہ میشا کی بھی سوشل پوسٹس پر چھیڑ چھاڑ والے کمنٹ کرتے ہیں اور علی ظفر کی بھی پوسٹس پر۔

اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا لیکن علی ظفر کی طرف سے فراہم کردہ ویڈیوز اور تصاویر اور میشا کے وکلا کی حرکات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ 100 فیصد میشا یہ کیس ہار جائیں گی اور تب یہ عورت مارچ کہے گا کہ خاتون ہونے کی وجہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں