An incredible historical event of Muhammad Bin Qasim 9

راجہ داہر کی شکست کے بعد محمد بن قاسم نے اسکی نوجوان بیٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ؟ ایک ناقابل یقین تاریخی واقعہ

سندھ انسانی تہذیب کے قدیم مراکز میں سے ایک ہے۔ ہزاروں کھنڈرات شاندار ماضی کے شاہد ہیں۔ سندھ کی اسی تہذیب ایرانی، یونانی، عرب، افغانی اور دیگر حملہ آوروں کو کھینچ کر یہاں لے آئی اور اسی وجہ سے سندھ کی تہزیب میں ہر نسل کی ملی جلی نسل اور تہزیب پائی جاتی ہے۔ تاریخ کے باب کی کچھ یادوں کو روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دیبل پرعربوں کا پندھرواں حملہ سترہ سالہ محمد بن قاسم نے کیا۔ دیبل کا محاصرہ تقریباََ دس دن جاری رہا۔ گھر کے بھیدی نے مندر کے سرخ جھنڈے کو منجنیق سے داغنے کا مشورہ دیا اور قلعہ فتح ہو گیا۔ دیبل اور بھنبھور ایک ہی جگہ کے دو نام ہیں؟ اگر ہاں تو دیبل کب بھنبھور بنا؟ اس حوالے سے بھی کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ دیبل کی بندرگاہ اپنے وقت کے معروف تجارتی روٹ پر تھی۔ یہ بندرگاہ کب اور کس نے قائم کی، اس بارے میں ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میں چشم تصور سے دیکھنے لگا کہ کبھی یہاں کتنی رونق ہوتی ہوگی۔ ایرانی، یونانی، سیتھن، پارتھی، رائے، چچ، کسں کس نے اس مدفون شہر پر حکومت کی ہو گی۔ مختلف ممالک کےبحری جہاز سمندر سے یہاں آتے ہوں گے۔ گیارہویں صدی میں دریا نے اپنا رخ کیا تبدیل کیا اوراس تبدیلی نے ہنستا بستا شہر تاریخ سے غائب کر دیا۔ اب یہاں ایک تباہ حال شہر کے نشانات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ بھنبور میوزیم میں موجود ماڈل اور نقشے کے مطابق قلعے کے شمال میں صدر دروازے کے سامنے سے کبھی دریائے سندھ گزرتا تھا۔ دریائی رستے سے منجنیقیں لائی گئیں۔ اب یہاں گھارو کریک کا پانی ہے۔ داہر اور قاسم کا مقابلہ اروڑ کے قلعے کے باہر ہوا۔ چچ نامہ کے مطابق داہر کے پاس مختلف آپشنز موجود تھے لیکن اس نے سرِعام جنگ کرنے اورغیرت مند مفتوح بننے کو ترجیح دی۔ دس دن تک جنگ جاری رہی۔ داہر کی فتح قریب تھی لیکن اپنوں نے وفا نہ کی۔ بے پناہ خون ریزی ہوئی۔ داہر کا سر قلم کر دیا گیا۔ بہنوں نے جوہر کی رسم کا احیا کیا۔ بیٹیاں باپ کے کٹے سر کے ساتھ دمشق روانہ کر دی گئیں۔ جہاں چند روایتوں کے مطابق انہیں دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا۔

محمد بن قاسم مسلسل فتوحات کرتا ملتان جا پہنچا، جہاں اسے بھی اچانک واپس بلا لیا گیا۔ سلیمان بن عبدالملک نے حجاج سے اپنا انتقام لینے کے لیے دوسرے جرنیلوں کی طرح محمد بن قاسم کو بھی عبرتناک انجام سے دوچار کیا گیا ۔ قاسم قزاق تھا یا نجات دہندہ؟ محمد بن قاسم نے مہرانیوں کو موالی بنایا یا انہیں غلامی سے چھڑایا؟ اس حوالے سے بحث اب تک جاری ہے۔ حامی انہیں غازئ اسلام، عمادالدین، ابوالبہاراور دیگر کئی القابات سے نوازتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ارضِ مہران خورشید اسلام سے منور ہو گئی اور مظلوموں کو قزاقوں سے نجات ملی۔ یہ نجات دہندہ نہ آتا تو ہم اب تک سندھی لنگ اور یونانی پوجا میں پڑے ہوتے۔ اس لیے ہر سال دس رمضان المبارک کو یومِ باب الاسلام منایا جاتا ہے۔ مخالفین ابنِ قاسم کو قزاق اور راجہ داہر کو فخرِ مہران کہتے ہیں کہ وہ دیس کے دفاع کے لیے سامراج کے سامنے جھکا نہیں اور ہر سال دو جولائی کو ان کا دن مناتے ہیں۔ اپنے موقف کی حمایت میں کتابوں، حوالوں، تجزیوں اور مضامین کے انبار لگا دیے ہیں۔ ان کے مطابق عورتوں کو چھڑانے کے لیے دیبل پر حملہ محض ایک بہانہ ہے۔ حملے کی وجوہات سیاسی اور معاشی تھیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک درجن سے زائد حملے سندھ فتح کرنے کے لیے ہو چکے تھے۔ کیونکہ آج تک یہ کہا جاتا رہا کہ حجاج بن یوسف کو خط آیا تھا کہ مسلمان عورتوں کو قید میں رکھا ہوا ہے اور ان پر مظالم ڈائے جا رہے ہیں۔

کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ سمندر پار سے کیسے حجاج بن یوسف کو ایک خط موصول ہو گیا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ حجاج بن یوسف نے یہ سب ایک خواب میں دیکھا اور پھر محمد بن قاسم کو صورتحال دیکھنے کے لئے بھیجا، حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو حملہ کرنے کے لئے کبھی بھیجا ہی نہیں تھا کیونکہ محمد بن قاسم کے ساتھ ایک معمولی سے فوج تھی لیکن محمد بن قاسم نے صورتحال دیکھ کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ محمد بن قاسم کی خوش نصیبی کہیے کہ گیارہ سو سال بعد وہاں پاکستان بن گیا جہاں اس نے فتوحات کے جھنڈے گاڑے تھے۔ تاریخِ پاکستان کا پہلا باب ابنِ قاسم کے نام سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے نام پر کراچی میں بندرگاہ، کلفٹن میں ایک باغ اور ملتان سٹیڈیم سمیت بہت سی اور یادگاریں ہیں۔ برصغیر میں اقوام نے صاحبِ عزت بننے کے لیے اپنے اجداد کا تعلق قاسم کی فوج کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ عرب نسبت قائم ہو سکے۔ بہت سی قبریں اور مزارات ایسے ہیں جن پر لکھا ہے کہ یہ ولی اللہ محمد بن قاسم کے ساتھ جہاد کے لیے یہاں آئے اور شہید ہوئے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلمان سب سے پہلے محمد بن قاسم کے سندھ فتح کرنے کے بعد اس سرزمین پر آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں