Bani Israel k Admi ki Toba ka Bayan 7

بنی اسرائیل کے 99 افراد کے قاتل کی توبہ

بخاری و مسلم میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ نقل کیا گیا ہے، جسے رسولِ اکرم ﷺ نے توبہ کی قبولیت سے متعلق بتاتے ہوئے صحابہ کرام کو سنایا تھا۔ قصہ کچھ یہ ہے کہ۔۔
بنی اسرائیل میں ایک شخص چوری، ڈکیتی اور قتل میں بہت مشہور تھا اور نہایت معمولی بات پر کسی کو بھی قتل کر دیتا تھا، ہوتے ہوتے اس کے ہاتھ سے ۹۹ افراد کا قتل ہو چکا تھا۔ اس کے بعد اس کے دل میں احساس پیدا ہونے لگا کہ مجھے بھی تو اللہ تعالیٰ کے یہاں جانا ہے۔ چنانچہ اس کی یہ فکر بڑھتی گئی اور لوگوں سے سوال کرنے لگا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟؟؟ پھر پوچھتے پوچھتے لوگو ں سے وہ ایک عابد شخص کے پاس جا پہنچا، جو عالم نہیں تھا مگر اللہ کا نیک بندہ اور پرہیزگار تھا، اس شخص نے جا کر سوال کیا کہ کیا میری توبہ ہو سکتی ہے؟ جبکہ میں ننانوے انسانوں کو قتل کر چکا ہوں؟ اس عابد کو چونکہ مسلئہ معلوم نہ تھا، اس نے اپنی عقل سے جواب دیا کہ جو آدمی اتنے انسانوں کو مار دے اس کی کیسے توبہ ہو سکتی ہے، تیری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔۔۔

اس شخص کو یہ جواب سن کر بہت غصہ آیا اور اس نے جلال میں آ کر اس عابد کو بھی قتل کر دیا کہ جب میری توبہ ہی نہیں ہو سکتی تو لاؤ تجھے بھی ختم کر کے 100 بندے پورے کر دوں۔ اس طرح سے اب وہ 100 انسانوں کا قاتل بن چکا تھا۔ مگر اس کے دل میں تردّد باقی رہا کہ شاید میری توبہ کا کوئی راستہ نکل آئے۔ اس نے آتے جاتے لوگوں سے پوچھنا شروع کر دیا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آخر ایک آدمی نے اسے ایک پہنچے ہوئے عالم کے بارے میں بتایا اور وہ شخص اس عالم کے پاس جا پہنچا، اور عالم کو ساری بات بتائی اور سوال کیا کہ کیا میری توبہ ہو سکتی ہے؟؟؟ کیا کوئی راستہ نکل سکتا ہے؟؟؟ کیا اللہ مجھے معاف کرے گا؟؟؟ کیا اللہ کے ہاں مجھ جیسے گناہ گار کے لئے مغفرت کا کوئی معاملہ ہے؟؟؟
اس عالم نے جواب دیا، اللہ کی رحمت کا سمندر تجھ جیسے گناہ گاروں سے بہت بڑا اور بہت وسیع ہے، اللہ کے ہاں تیرے گناہ معاف کرنے میں کیا رکاوٹ۔ چنانچہ اس عالم نے اس شخص کو مشورہ دیا کہ تم فلاں جگہ سفر کر کے جاؤ، وہاں کچھ اللہ کے بندے رہتے ہیں، انکا مشگلہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، ان کے ساتھ مل کر تم بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور نادم و شرمندہ ہو کر اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگو، انشاء اللہ تمھاری مغفرت ہو جائے گی۔

وہ شخص اس سفر پر نکل پڑا، جب اس شخص نے اس سفر کے دوران آدھا راستہ طے کر لیا تو ملک الموت آ گئے اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ اب اس کی روح لیجانے کا مسلئہ سامنے آ گیا کیونکہ آسمانوں سے رحمت کے فرشتے بھی اسے لینے آئے تھے اور عذاب کے فرشتے بھی۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس کی روح لیجانے کا حق ہم کو ہے، اس لیے کہ یہ سچے دل سے تائب ہو کر عبادت کے لیے جا رہا تھا۔ جبکہ عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس کی روح لے جانے کا حق ہم کو ہے، اس لیے کہ اس شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا ہے۔ اسی دوران آسمانوں سے آدمی کی شکل میں ایک فرشتہ آیا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ آنے والا فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔ اس فرشتہ نے دونوں طرف کے فرشتوں کے درمیان یہ فیصلہ کروایا کہ دونوں طرف کی مسافت ناپ کر دیکھ لو کہ جہاں سے یہ آ رہا تھا، وہاں کی مسافت قریب ہے؟ یا جہاں یہ جا رہا تھا، وہاں کی مسافت۔۔؟ جہاں کی مسافت قریب ہو، اس شخص کو وہاں والوں میں شمار کر دیا جائے۔

چنانچہ جب زمین کو ناپہ گیا تو آنے اور جانے والے راستوں میں صرف ایک بالشت کا فرق تھا، یعنی بہت معمولی سا فرق۔ لیکن عبادت والے مقام کی طرف ذیادہ تھی۔ اسی بنا پر فیصلہ ہوا کہ رحمت کے فرشتے اس کو لے جانے کا حق رکھتے ہیں۔ چنانچہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مغفرت کا اعلان ہو گیا۔

حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اور وہ مجھے جہاں بھی یاد کرے، میں اس کے ساتھ ہوں۔
اس کہانی کا حاصل یہ ہے کہ جو بھی بندہ سچے دل سے اللہ رب العزت سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ مایوسی شیطان پھیلاتا ہے، اللہ کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ دل سے توبہ کرتے ہوئے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ تمام لوگوں کو ہدایت عطا فرماتے ہوئے، اگلے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ اور معافی عطا فرمائیں ۔۔ آمین۔۔ ثم آمین

101 سبق آموز واقعات – مولانا ہارون معاویہ (صفحہ: 26 سے 29)

سبق آموز واقعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں