Behlol Dana questions from Hazrat Junaid Baghdadi 32

بہلول دانا کے حضرت جنید بغدادی ؒ سے تین سوال اور ان کا جواب

ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی ؒ سفر کے اِرادے سے بغداد سے روانہ ہوئے اور حضرت جنید بغدادی ؒ کے کچھ مُرید ان کے ساتھ تھے، سفر کے دوران حضرت جنید بغدادی ؒ نے مُریدوں سے پوچھا کہ تُم لوگوں کو بہلول ؒ کا حال معلوم ہے؟ مریدوں نے جواب دیا کہ جناب وہ تو ایک دیوانہ ہے، آپ اُس سے مِل کر کیا کریں گے؟ حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا ذرا بہلول کو تلاش کرو، مجھے اُس سے کام ہے۔ مُریدوں نے حضرت جنید بغدادی ؒ کے حکم کے تعمیل اپنے لئے سعادت سمجھی اور تھوڑی جُستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نِکالا اور حضرت جنید بغدادی ؒ کو اپنے ساتھ لیکر وہاں پہنچے، حضرت جنید بغدادی ؒ بہلول دانا کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔

حضرت جنید بغدادی ؒ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا تُم کون ہو؟ حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا میں ہوں جنید بغدادی۔ اچھا تو تم وہی جیند ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سِکھاتے ہو، بہلول نے کہا۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے جواب دیا، جی ہاں کوشش تو کرتا ہوں۔ بہلول نے پوچھا، اچھا تُم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو گے؟ حضرت جنید بغدادی ؒ نے جواب دیا کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں، اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں اور دوسروں کے نوالے پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا، جو لقمہ بھی کھاتا ہوں الحمد اللہ کہتا ہوں، کھانے سے پہلے بھی ہاتھ دھوتا ہوں اور کھانے سے فارغ ہو کر بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔ یہ سُن کر بہلول دانا اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن حضرت جنید بغدادی ؒ پر جھٹک دیا اور کہا تُم اِنسانوں کے پیر و مُرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے، یہ کہہ کر بہلول دانا چل پڑے، حضرت جنید بغدادی ؒ کے مُریدوں نے کہا حضرت یہ شخص تو دیوانہ ہے۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا، ہاں دیوانہ تو ہے لیکن اپنے کام کے لئے ہوشیاروں کے کان کاٹتا ہے، اِس سے سچی بات سننا چاہئیے، آؤ اس کے پیچھے چَلیں، مجھے اس سے کام ہے۔

بہلول دانا ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے، حضرت جنید بغدادی ؒ اُن کے پاس پہنچے تو انہوں نے پھر سوال کیا کہ کون ہو تُم ؟ حضرت جنید بغدادی ؒ نے جواب دیا کہ میں ہوں جنید بغدادی، جسے کھانے کا طریقہ نہیں آتا۔ بہلول دانا نے کہا، تُم کھانے کے آداب سے ناواقف تو ہو ہی گفتگُو کا طریقہ تو جانتے ہو گے؟ حضرت جنید بغدادی ؒ نے جواب دیا جی جانتا تو ہوں، بہلول نے پوچھا، تو پھر بتاؤ کس طرح بات کرتے ہو؟ حضرت جنید بغدادی ؒ کہنے لگے میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں، بے موقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلقِ خُدا کو اللہ اور اُس کے رَسول (صل الله عليه وآله وسلّم) کے احکام کی طرف متوجہ کرتا ہوں، یہ خیال رکھتا ہوں کہ اِتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں، باطنی اور ظاہرہ عُلوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں، اِس کے عِلاوہ شیخ نے آدابِ گفتگو کی بابت اور باتیں بھی بیان کیں۔ بہلول دانا پھر کھڑے ہو گئے اور کہا، کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف تُمہیں تو گفتگو کرنے کا بھی ڈھنگ نہیں آتا۔ یہ کہ کر ایک اور طرف چل دئیے، مُریدوں سے خاموش نہ رہا گیا، کہنے لگے یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے، آپ اس سے بھلا اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے جواب دیا، بھئی مجھے تو اس سے کام ہے نا، تُم یہ بات نہیں سمجھو گے۔

اس کے بعد حضرت جنید بغدادی ؒ نے پھر بہلول دانا کا پیچھا کیا، راستے میں بہلول دانا نے مڑ کر دیکھا تو حضرت جنید بغدادی ؒ کو دیکھ کر پوچھا، تُمہیں کھانا کھانے اور بات کرنے کا طریقہ تو نہیں آتا، سونے کا تو آتا ہو گا۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا جی ہاں معلوم ہے، تب بہلول دانا نے پھر پوچھا، اچھا تو بتاؤ کس طرح سوتے ہو؟ حضرت جنید بغدادی ؒ کہنے لگے جب میں عِشاء کی نماز اور اپنے وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں، یہ کہہ کر شیخ نے سونے کے آداب بیان کئے جو اُنہیں بزرگوں نے تعلیم کئے ہوئے تھے۔ یہ سن کر بہلول دانا نے کہا، معلوم ہوا تُمہیں تو سونے کا طریقہ بھی نہیں آتا، یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی ؒ نے اُن کا دامن پکڑ لیا اور کہا بہلول میں نہیں جانتا تو اللہ کے واسطے مجھے سِکھا دو۔

کچھ دیر بعد بہلول نے کہا اے جنید یہ جتنی باتیں بھی تُم نے کہی ہیں سب بعد کی چیزیں ہیں، اصل بات مجھ سے سُنو! کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہئیے، اگر غذا میں حرام کی آمیزش ہو جائے تو جو آداب تُم نے بیان کئے ہیں، برتنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور دِل روشن ہونے کی بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے بے ساختہ کہا اللہ تُمہارا بھلا کرے۔ پھر بہلول دانا نے بتایا کہ گفتگو کرتے وقت دِل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اِس بات کا بھی خیال رہے کہ جو بات بھی کہی جائے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے ہو، اگر کوئی غرض یا دُنیاوی مطلب ہو گا یا بات فضول قِسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے تمہارے لئے وبال بن جائے گی، ایسی بات کرنے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ پھر سونے کے متعلق بتایا کہ اِسی طرح سونے کے متعلق جو تُم نے بیان کیا وہ بھی اصل مقصود نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جب تُم سونے لگو تو تمہارا دِل بغض، کینے اور حسد سے خالی ہو، تمہارے دِل میں دُنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذِکر میں مشغول رہو۔ بہلول دانا کی بات ختم ہوتے ہی شیخ جُنید نے اُن کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور اُن کے لئے دُعا کی، حضرت جنید بغدادی ؒ کے مُرید یہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور بہلول دانا کے متعلق اُن کے خیالات درست ہو گئے۔

حضرت جنید بغدادی ؒ اور بہلول دانا کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے۔

📚 التزكيه، اصلاح نف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں