Can a wife of missing husband marry another person 46

کیا بیوی شوہر کے لاپتہ ہونے سے دوسری شادی کر سکتی ہے؟ بعد میں اگر پہلا شوہر واپس آجائے تو کیا حکم ہے؟

مفتی عبدالقیوم ہزاروی سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر کسی عورت کا شوہر لا پتہ ہو جائے تو کیا وہ عورت دوسری شادی کر سکتی ہے؟ کیا شادی کرنا جائز ہے؟ اور اگر پہلا شوہر واپس آجائے تو کیا حکم ہے؟ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ جس عورت کا خاوند مفقود الخبر ہو وہ مالکی مسلک کے مطابق چار سال تک انتظار کرے اور چار سال تک بھی اس کا شوہر واپس نہیں آتا تو کسی اور جگہ حسب منشاء نکاح کر سکتی ہے۔ احناف کا فتوی آج کل اسی قول پر ہے۔ لہٰذا مذکورہ عورت کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہو کر اور اپنے خاوند کے مفقود الخبر ہونے کا ثبوت دے کر، دوسری شادی کا اجازت نامہ حاصل کر کے دوسری شادی کر لینی چاہیے۔ جب شادی کا حکم بھی معلوم ہو گیا اور مجسٹریٹ کا اجازت نامہ بھی مل گیا تو پہلے شوہر کے واپس آنے کی صورت میں بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس طرح شرعی خلہ کو ریاستی تحفظ حاصل ہو گا۔ یہ عورت دوسرے خاوند کی ہی بیوی رہے گی۔ پہلے سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ البتہ پہلے کے ذمے اگر کوئی حق مہر ہو یا جو چار سال اس نے خاوند کا انتظار کیا، اس کا خرچہ واجب الادا ہے، عورت چاہے بذریعہ عدالت وصول کرے، چاہے تو معاف کرسکتی ہے۔

جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو ایسا بہت سی خواتین کے ساتھ ہوا تھا، کہ ان کا شوہر راستے میں جدا ہو گیا، اس زمانے میں ٹرین سے لوگ پاکستان آئے تھے، اور نہ کسی کو دوسرے کا ٹکانہ معلوم تھا، اگر کوئی کسی سے بچڑجاتا تو عام خیال یہی کیا جاتا تھا کہ مطلوبہ شخص مر چکا ہو گا، کیونکہ اگر وہ زندہ بھی ہو تب بھی اس کا اپنے عزیزو عکارب سے ملنا نا ممکن ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں یہ مسائل بہت عام تھے۔ یاد رکھیے کہ یہ معاملہ ہم نے آپ کے سامنے مالکی مسلک کی روشنی میں پیش کیا، اس کے ساتھ ساتھ خّلہ کے بعد عدت گزارنا بھی لازم ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہو گا کہ اگر کسی کہ ساتھ ایسا مسلہ ہو تو وہ کسی اچھے عالم یا مفتی سے اپنے حالات بتا کر رائے لے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں