Chinese Girl tries to eat alive Octopus 47

چینی خاتون کا زندہ آکٹوپس کو کھانا عذاب بن گیا

چائنہ کی ایک مشہور ویڈیو بلاگر نے اپنے چینل پر ایک لائیو ویڈیو میں زندہ آکٹوپس کھانے کا تجربہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد انہیں لینے کے دینے پڑگئے، مشکل یہاں تک بڑھ گئی کہ خاتون کو آکٹوپس سے جان چھڑانا مشکل ہو گئی۔

خاتون نے لائیو ویڈیو میں جب آکٹوپس کو کھانا شروع کیا تو شروع میں تو کافی پرسکون رہیں اور کوشش کرتی رہی کہ کس طرع زندہ آکٹوپس کو منہ میں ڈال لیں لیکن کچھ ہی لمحوں بعد خاتون نے تکلیف دہ انداز میں چیخنا شروع کر دیا کیونکہ آکٹوپس ان کے چہرے سے چمٹ گئی تھی۔ پہلے تو خاتون نے بڑے پرسکون انداز میں اپنے مداحوں سے کہا کہ دیکھو کہ یہ کس طرح سے میرے چہرے کی جلد سے چمٹ گیا ہے۔ اس کے بعد جیسے آکٹوپس کو جوش آجاتا ہے اورتب خاتون چیخنا شرع ہو جاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ بہت ہی تکلیف دہ ہے اور میں آکٹوپس کواپنے چہرے سے ہٹا نہیں پارہی ہوں۔ بہت چیخنے چلانے کے بعد آخرکار خاتون آکٹوپس کو چہرے سے ہٹانے میں کامیاب تو ہوجاتی ہے مگر اسے جلد ہی احساس ہوتا ہے کہ اس کے چہرے پربائیں گال کے اوپری حصے سے جلد کا معمولی ٹکڑا بھی آکٹوپس کے ساتھ الگ ہوگیا ہے۔ یہ دیکھ کرخاتون مزید پریشان ہو کر کہتی ہے کہ میرا چہرہ خراب ہو گیا ہے۔ لڑکی کے چہرے پر خون کا دھبہے بھی نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس کے بعد خاتون ویڈیو ختم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں آکٹوپس کو زندہ کھانے کا مظاہرہ اپنی اگلی ویڈیو میں کروں گی، اور ویڈیو ختم کردیتی ہے۔

یہ لڑکی چائنہ میں ایک ویڈیو پلیٹ فارم کوائی شاؤ پر اپنے چینل سی سائڈ گرل لِٹل سیون کے نام سے مشہور ہے اور آئے روز کچھ نہ کچھ نیا کرتی ہیں۔ خاتون کی ویڈیو چین میں بہت مشہور ہورہی ہے اور لوگ اس پر طرع طرع کے ردِ عمل کا دے رہے ہیں، جن میں کچھ لوگ تو اس کی ہمت کی داد دے رہے ہیں اور کچھ خاتون کی اس حرکت پر اس کا مزاق بنا رہے ہیں۔

چائنہ اورمشرقی ایشیائی ممالک میں چھوٹے جانوروں اور سمندری مچھلیوں، جھینگوں اور آکٹوپس وغیرہ کو زندہ کھانے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ آکٹوپس کے بازوؤں کے نیچلی سطح پر سینکڑوں چھوٹے چھوٹے سکرز ہوتے ہیں جو انہیں سمندر میں پتھروں سے چمٹے رہنے کا مدد دیتے ہیں جبکہ حملے کی صورت میں آکٹوپس اسی سے اپنا دفاع بھی کرتی ہیں اور یہاں بھی خاتون کے ساتھ ایسا ہی ہوا، جبکہ کئی لوگ تو ایسے کارناموں میں اپنی جان تک گنوا چکے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات یہ انسان کی سانس کی نالی میں اٹک جاتے ہیں، جس سے یہ جان لیوا بن جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں