Dance Parties Held in Football Club 2

فٹ بال کلب میں کھیل کی جگہ سیکس پارٹیز ہورہی تھی

جرمنی کے ایک شہرویٹر کے چھوٹے سے فٹ بال کلب میں کھیلنے والے بچوں کے والدین اُس وقت سکتے میں آ گئے جب ان پریہ انکشاف ہوا کہ فٹ بال کلب کا ایک ہال رقص و جنسی تعلقات کی محفلوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا اور ان کے اپنے بچے بھی ان مشغولات میں شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ کلب ڈورٹمنڈ کے قریب ایک چھوٹے سے علاقے ویٹر میں قائم ہے۔

جرمن روزنامے ’بلڈ‘ کے مطابق ایک جرمن فٹ بال کلب اپنے کلب کا ایک ہال ایسی محفلوں کے لیے کرائے پر دے رہا تھا، جن میں جنسی روابط قائم کیے جاتے تھے، یعنی سوئنگر پارٹیز۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی تیرہ سال سے کم عمر بچے فٹ بال کھیلنے کے لیے گراؤنڈ میں جاتے، تو کلب کے ہال میں ڈانس پارٹیز، جنسی رقص کیے جاتے تھے اور رنگ رلیاں منائی جاتی تھیں۔ تاہم جیسے ہی جسم فروشی،عیاشی اور شراب نوشی کی ان محفلوں کے بارے میں بچوں کے والدین کو علم ہوا تو حیران رہ گئے۔

رپورٹ کے مطابق جب ٹیم لیگ میچ کھیل رہی تھی، اس وقت درجنوں گاڑیاں کلب ہاؤس میں آئیں اور تولیے سے بنے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے کئی عیاش مردوں کو باہر کھڑے ہو کر سگریٹ پیتے دیکھا گیا۔ کلب کے چیئرمین فاتح ایسبے نے جب یہ دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ کوئی گڑ بڑ ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ یہ لوگ پہلے ہی اندر داخل ہو چکے تھے۔ کھڑکیوں پر پردہ ڈھانپ دیا گیا تھا۔ کوشش کے باوجود مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ اس فحش بیچلر پارٹی کے دو روز بعد کلب کی انتظامیہ نے جگہ کے مالک اسٹولٹےکے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی بات کی تو جواب میں اس نے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دے دی۔ اسٹولٹے 1980ء کی دہائی میں اور 2011ء سے لے کر 2015ء تک ایف سی ویٹر کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

کلب کی موجودہ انتظامیہ اب کوششوں میں ہے کہ جگہ کے مالک اسٹولٹے کے خلاف باقاعدہ طور پر قانونی کارروائی شروع کرے، تاہم ابھی کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی، جبکہ دوسری جانب والدین اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں