Dracula Bee Found in Myanmar 5

10 کروڑ سال پرانی ڈریکولا بِھڑ٘ امبر سے دریافت

میانمار کی ایک کان سے ملنے والی امبر میں قدیم ترین زمانے کی ایک بِھڑ دریافت ہوئی ہے جو 10 کروڑ سال موجود تھی اور اس کے خاص جبڑوں کی بناوٹ کی بنا پر ماہرین نے اسے ’ڈریکولا‘ بِھڑ قراردے دیا ہے۔اس بِھڑکا حیاتیاتی خاندان ’سرفاٹوئی ڈیا‘ سے ہے جبکہ اس بِھڑ کی جسامت صرف ڈھائی ملی میٹر ہے۔

روسی اکادمی برائے سائنس سے وابستہ ماہرِ معدومیات الیگزینڈر ریسنتسائن اور دیگر نے اس بِھڑ پر ریسرچ کے بعد اسے ڈریکولا بھڑ کا نام دیا ہے ۔ اس کے پر انوکھے اور اینٹینا عجیب تو ہے ہی، لیکن ساتھ ساتھ اس کے منہ پر ڈنک نما ابھار ہیں جس کی بنا پر اسے ’سپرا سر فائٹائنی ڈریکولائی‘ کا نام دیاگیا ہے۔ اس نسل کی انوکھی بھڑیں اصل میں طفیلیوں یعنی پیراسائٹ کے زمروں میں آتی ہیں جو کہ اپنے انڈے بھی دوسرے جانوروں پر دیتی ہیں اور ان سے نکلنے والے لاروا اسی جانور کو کھاجاتے ہیں جس پر وہ انڈے سے باہر نکلے۔

Dracula Bee

تحقیق کے مطابق اگرچہ یہ انوکھی بِھڑ 27 کروڑ سال پہلے بھی دنیا میں پائی جاتی تھی لیکن جس گوند کے خشک ٹکڑے میں یہ ملی ہے وہ ٹکرا بھی تقریباََ 10 کروڑ سال پرانا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اڑنے والا یہ کیڑا میانمار یعنی برما کی ایک کان میں کھدائی کے دوران ملا ہے اور اس پر مزید ریسرچ سے وہ جنوب مشرقی ایشیائی خطے کی ارضیات اور قدیم زندگی کے بارے میں بےشمار رازوں کو جان سکیں گے۔ برما کےاس علاقے میں دنیا کے بہترین قسم کے امبر پائے جاتے ہیں۔

امبر کیا ہے

جب درختوں کی نرم گوند میں کوئی کیڑا یا جانور پھنس جاتا ہے اور وہ گوند وقت کے ساتھ ساتھ سخت ہوکر محفوظ ہوجاتی ہے تو اسے امبر کہا جاتا ہیں ۔ اسی لیے امبر کودنیا بھر میں انہیں حشرات اور کیڑے مکوڑوں پر تحقیق کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اوراب میانمار کی ایک کان سے جوامبرملی ہے اس پر تحقیق کے بعد امبر کے اندر سے ملنے والی اس بھڑ کوماہرین نے ڈریکولا بھڑ کا نام دیا۔
بے شک اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں