Drug Abuse Bill in Pakistan 6

پاکستان میں نشہ کی سزااب موت ہے ۔۔ بل منظور کر لیا گیا

پاکستان میں نشے کا استعمال روزبہ روز بڑھتا جا رہا ہے، کالج سٹوڈنڈز ہوں یا یونیورسٹی کے طالبِ علم ہر چھوتھا شخص نشہ کی طرف جاتا دکھایَ دیتا ہے اور دن بہ دن نیَ نیَ اقسام کی منشیات بھی مارکیٹ میں آتی جا رہی ہیں جو خطرناک حد تک پریشان کن ہے-

اسی بات کی روک تھام کے لیے آئس نشے کا کاروبار کرنے والوں کو سزائے موت کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے- خیبرپختونخوا کابینہ نے آئس اور دیگر قسم کی منشیات کی روک تھام کے لئے محکمہ ایکسائز کا تیارکردہ بل متفقہ طور پرمنظور کرلیا ۔ قبائلی ضلع مہمند جو KPK میں ضم شدہ ہو چکا ہے، کے علاقے غلنئی میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئس و دیگر منشیات کی روک تھام کے لئے محکمہ ایکسائز کا تیارد کردہ بل منظور کرلیا گیا جسے اسمبلی میں آئندہ دنوں میں پیش کیا جائے گا۔ سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز سمیت محکمے کے اعلٰی افسران نے بل کے پاس ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے محکمے کو مزید فعال بنانے کیلئے سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس بات کی بھی امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ قانون پورے پاکستان میں رائج کر دیا جا ئے گا-

بل کے مطابق آئس کی خریدو فروخت پر زیادہ سے زیادہ دس سال قید، سزائے موت یا 14 سال قید کی سزا ہوگی جبکہ سو گرام آئس پرسات سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔ اسکے علاوہ منشیات بنانے والے، خرید و فروخت میں ملوث لوگوں کو 25 سال قید کی سز ا سنائی جائیگی ۔ بل کے متن کے مطابق منشیات کی خرید و فروخت میں کمائے گئے پیسے اور جائیداد بھی ضبط کیا جائے گا، ساتھ ساتھ جبکہ منشیات کی روک تھام کے لئے نارکاٹیکس کنٹرول ونگ کا قیام بھی عمل میں لایا جائیگا۔ اس بل میں منشیات سے متعلقہ مقدمات کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز بھی شامل کی گیَ تھی جس کو بھی منظور کرلیا گیا ہے اور اسی طرح صوبہ بھر میں منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن سمیت علاج بھی سرکاری خرچہ پر بل کا حصہ ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس سے منشیات کی روک تھاپ میں مدد ملے گی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں