Egypt Produces 50 Percent of Jasmine Flower 7

کس مسلمان ملک میں دنیا کی 50 فیصد چنبیلی پیداہوتی ہے اور وہ اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ جانیے؟

چنبیلی کا دنیا بھر میں کاروبار ہوتا ہے، اس کا استعمال پرفیومز، دوائیوں اور مختلف چیزوں میں ہوتا ہے، مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے تقریباََ 90 کلومیٹر شمال کی جانب “شبرا بلولہ” کا گاؤں واقع ہے جو چنبیلی کے گاؤں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں دنیا بھر میں چنبیلی کے روغن کا 50 فی صد تیار ہوتا ہے جو کے اعلیٰ عطور اور خوشبوؤں میں استعمال ہوتا ہے۔ شبرا بلولہ نامی گاؤں کی آبادی 50 ہزار نفوس کے قریب ہے اور آبادی کی اکثریت چنبیلی کی کاشت اور اس کا روغن نکالنے کے کام سے وابستہ ہے، یہ روغن فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، جہاں مختلف کمپنیاں وہاں اسے مختلف خوشبوؤں کی تیاری میں استعمال کرتے ہیں۔ اس گاؤں میں چنبیلی کی یومیہ پیداوار کا حجم 10 ٹن کے قریب ہے۔ بعد ازاں اس تمام پیداوار کو اُس کمپلیکس منتقل کر دیا جاتا ہے جو 12 ہزار مصری پاؤنڈ (800 ڈالر) فی ٹن کے حساب سے اسے خرید لیتا ہے۔ جہاں کمپلیکس میں ایک ٹن چنبیلی سے 2 سے 3 کلو گرام عرق حاصل کیا جاتا ہے اور پھراس عرق کو فی کلو 15 ہزار ڈالر کی قیمت میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

مصر کے صوبے الغربیہ میں فارماسسٹس کی انجمن کے قانونی مشیر محمد فہمی شبرا بلولہ اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے اپنے علاقے میں چنبیلی کی کاشت کے آغاز کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شروع شروع میں ایک بڑے زمین دار احمد پاشا فخری نے فرانس سے چنبیلی کو درآمد کیا تھا اور اسے مصر میں کاشت کیا تھا، اس سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ شبرا بلولہ گاؤں کی زمین اس کی کاشت کے لیے زرخیز ہے۔ احمد پاشا فخری نے پہلے تو وسیع پیمانے پر چنبیلی کی کاشت کی اور پھر اپنی فرانسیسی خاتون شراکت دار سيسيل يوسف کے ساتھ مل کر یہاں ایک بڑا کارخانہ قائم کروایا، اس کارخانے میں چنبیلی کا روغن کشید کیا جاتا اور پھر فرانس برآمد کر دیا جاتا تھا، بعد ازاں کاشت کا حجم بہت زیادہ ہو جانے کے سبب فرانسیسی خاتون شراکت دار نے علیحدہ ہو کر اسی گاؤں میں ایک نیا کارخانہ لگا لیا، یہ دونوں کارخانے آج بھی اسی گاؤں میں کام کر رہے ہیں۔

محمد فہمی نے مزید بتایا کہ چنبیلی کی کاشت کے کئی ماہ بعد اس کے پھول لیے جاتے ہیں اور یہ عمل روزانہ صرف شام کے اوقات میں ہوتا ہے، کیوں کہ چنبیلی کا پھول سورج کی شعاؤں کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ دن کے وقت پھول توڑے جانے کی صورت میں اس کے مرجھا جانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، بعدازاں ان تمام پھولوں کو جمع کرکے مذکورہ دونوں کارخانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ وہاں ان کو اچھی طرح سے دھو کر پھر مختلف مشینوں سے گزار کر چنبیلی کا روغن کشید کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس روغن کو یورپ میں فروخت کردیا جاتا ہے۔ محمد فہمی کے مطابق اس پیشے سے قریباً 10 ہزار ورکر اور کاشت کار وابستہ ہیں، اور اس کے علاوہ اس کام سے وابستہ کئی چھوٹے تاجروں کا بھی اس پر بہت انحصار ہے۔

حال ہی میں امریکا میں چنبیلی کی کاشت سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں چنبیلی کی مجموعی کاشت کا 50 فی صد شبرا بلولہ میں پیدا ہوتا ہے اور یہ گاؤں گذشتہ پوری صدی میں چنبیلی کے اعلیٰ معیار کی بدولت امتیازی حیثیت کا حامل رہا، واضح رہے کہ چنبیلی کا استعمال صرف عطریات اور خوشبوؤں کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ یہ دواؤں کی تیاری میں بھی بہت اہمیت کا حاصل ہے، وزن کم کرنے اور موٹاپے کے بہترین علاج میں بھی یہ بہت کارآمد ثابت ہوا ہے۔ چنبیلی کا درخت عمر رسیدہ ہوتا ہے اور ستمبر سے مئی تک کے سیزن میں اسے خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے پودے کی عمر تقریباََ 30 برس تک ہوتی ہے، اس پر عموماً سال میں 8 ماہ پھول لگتے رہتے ہیں۔

مصر کا موسم چنبیلی کی کاشت میں مددگار ہے کیوں کہ اسے معتدل درجہ حرارت اور کم رطوبت کے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے بعض دیہات کی اراضی بھی چنبیلی کی کاشت کے لیے بہت زرخیز ہے، اور یوں مصر ایک بہت بڑی رقم صرف چنبیلی کی کاشت کی وجہ سے پوری دنیا سے حاصل کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مصری عوام نے اپنی محنت سے اپنا لوہا پوری دنیا میں منوالیا جس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں چنبیلی کی مجموعی کاشت کا 50 فی صد مصر کے اس گاؤں شبرا بلولہ میں پیدا ہوتا ہے، اور باقی شہروں کو ملا کراس سے بھی بہت زیادہ مصر پوری دنیا کو چنبیلی کا  پھول اور اس کا رس فروخت کرتا ہے۔ اس قدر منافع کمانے کے بعد بھی آج مصر کے حالات سب کے سامنے ہے، اس کی وجہ بس ظلم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں