GOLDEN BLOOD RH null 10

گولڈن بلڈ – دنیا کا نایاب ترین خون کا گروپ

RH-Null یا آرایچ نل پوری دنیا میں ایک نایاب ترین پایا جانے والا خون کا گروپ ہے،جسے’گولڈن بلڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گولڈن بلڈ کو سمجھنے کے لیے پہلے اس بات کوجاننا ہوگا کہ یہ بلڈ گروپ وجود میں کیسے آتا ہے۔ عام طور پر پائےجانے والے تمام اقسام کے خون ایک سے دکھائی دیتے ہیں یعنی سرخ۔ لیکن خون کے سرخ خلیات جھنیں آربی سی کہا جاتا ہے، کی سطح پر 342 مختلف اقسام کے اینٹی جِن پائے جاتےہیں۔ یہ مالیکیول (سالمات) خاص قسم کے پروٹین بناتے ہیں جنہیں اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی اینٹی جِن کی موجودگی یا غائب ہونے سے کسی شخص کا بلڈ گروپ ترتیب پاتا ہے۔ خون کا گروپ ہمارے والدین سے ہم میں منتقل ہونے والے جینز کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے. ہر گروپ یا تو RhD مثبت یا RhD منفی ہوسکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ اہم خون گروپ ہیں عام طور پر خون کے جو گروپس پائے جاتے ہیں اب کے نام یہ ہیں۔

اے پوزیٹیو
اے نیگٹیو
بی پوزیٹیو
بی نیگٹیو
اے بی پوزیٹیو
اے بی نیگٹیو
اْو پوزیٹیو
اْو نیگٹیو

سادہ الفاظ میں کہیں تو اگر کسی انسان کے خون کا گروپ میں RhD نہ مثبت ہواور نہ ہی منفی بلکہ نل ہو،یونی اینٹٰی جن غائب ہوں تو اس گروپ کو گولڈن بلڈ کہا جاتا ہے۔

اب تک گزشتہ 50 برسوں کی تحقیق اورخون کی منتقلی کے بعد صرف 50 سے بھی کم افراد میں خون کا یہ گروپ دریافت ہوا ہے۔ تاہم اس نایاب خون گولڈن بلڈ کے مالک خواتین و حضرات کی زندگی بھی کسی خطرے سےکم نہیں ہوتی کیونکہ اس خون کے گروپ کا عطیہ ملنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ خون میں 342 میں سے 160 اینٹی جِن عام پائے جاتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص میں تمام انسانوں کے مقابلے میں واضح اینٹٰی جن غائب ہوں تو اس کاخون نایاب یعنی گولڈن بلڈ قرار پائے گا۔

Blood Groups Names

اس کے علاوہ اگر کسی شخص میں 99.99 فیصد اینٹی جِن نہ ہوں تو اس کا خون گولڈن بلڈ گروپ میں شمار ہوگا۔ان خون میں 61 کے قریب آر ایچ اینٹی جن نہیں پائے جاتے۔ تاہم ایک دو اینٹی جن کم ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اب تک دنیا میں ایسے 50 سے بھی کم افراد ہی دریافت ہوئے ہیں جن کا بلڈ گروپ گولڈن بلڈ کہلاتا ہے۔ ایک طرف تو یہ مٹھی بھر لوگوں میں خون کا گروہ ہے لیکن سائنسی تحقیق کے لیے بہت خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا مطالعہ خون کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

آرایچ نل بلڈ گروپ کے حامل افراد ماہرین کے نزدیک ہیرے چاندی سے بھی زیادہ قیمتی ہے لیکن ان افراد کی ابھی تک تعداد بہت کم ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خون کے گروپس کو ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریزکاعملہ زیادہ تر ممالک میں ماہر نہیں ہوتا۔ گولڈن بلڈ گروپ کے حامل افراد بھی عام لوگوں کی طرح کس بھی دوسرے خون کے گروپ کے لگنے سے مر جائیں گے، اس لئے یہ پتہ ہونا بہت ضروری ہے کہ کہیں آپ گولڈن بلڈ گروپ کی حامل افراد میں شامل تو نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں