Hajr-E-Aswad Complete History 36

حجرِ اسود آٹھ ٹکروں میں کیسے اور کب تقسیم ہوا؟ مکمل تاریخ

حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے، حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے۔ مسجد الحرام کے مرکز میں خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کنارے پر وہ مقدس پتھر نصب ہے، جسے دنیا بھر کے مسلمان حجر اسود کے نام سے جانتے ہیں۔ طواف کے ابتدا حجر اسود سے کی جاتی ہے اور یہ پتھر زمین سے ڈیڑھ میٹر بلند ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں، جن کے گرد چاندی کا گول چکر بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔ جس کو استلام کہتے ہیں۔ حجر اسود یاقوت کا وہ پتھر ہے جسے جنت سے اتارا گیا اور اسے جبل ابو قبیس میں رکھا گیا۔ اس پتھر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت خانہ کعبہ کی زینت بنایا اور اس کے بعد سے یہ خانہ کعبہ کا ایک جزو قرار پایا۔ حجر اسود سے مسلمانوں کی عقیدت مثالی ہے۔

تاریخ میں کم ازکم چھ واقعات ایسے ملتے ہیں جب حجر اسود کو چوری کرنے کی کوشش کی گئی، یا اس کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بھی ہوسکتا اس کے حوادث کی تعداد کہیں زیادہ ہو، لیکن زیادہ تر کتابوں میں انہی چھ واقعات کا ذکر ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔ آئیے اب ان چھ واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔

پہلا قصہ

تاریخ کا سب سے پہلا واقعہ قبیلہ بنی جرہم کے متعلق ملتا ہے کہ ان لوگوں نے حجر اسود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی تھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب بنو بکر بن عبد مناہ نے قبلہ جرہم کو مکّہ سے نکلنے پر مجبور کیا تو انہوں نے مکّہ سے بے دخل ہوتے ہوئےکعبہ میں رکھے دو سونے کے بنے ہرنوں کے ساتھہ حجر اسود کو کعبہ کی دیوار سے نکال کر زم زم کے کنویں میں دفن کر دیا اور یمن کی جانب کوچ کر گئے۔ الله تعالی کی حکمت دیکھیے کہ یہ پتھر زیادہ عرصے زم زم کے کنویں میں نہیں رہا، جس وقت بنو جرہم کے لوگ حجر اسود کو زم زم کے کنویں میں چھپا رہے تھے، اس وقت ایک عورت نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا تھا، اسی عورت کی نشان دہی پر حجر اسود کو زم زم کےکنویں سے نکال کر دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔

دوسرا قصہ

ذی الحجہ 317ھ کو بحرین کے ایک حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کر لیا، مسجد الحرام جیسے مقدس مقام پر تقریبا سات سو انسانوں کو قتل کیا اور زم زم کے کنویں کو اور مسجد الحرام کے احاطے کو انسانی لاشوں اور خون سے بھر دیا، اسکے بعد اسنے مکّہ کے لوگوں کی قیمتی اشیا کو اور کعبہ مشرفہ میں رکھے جواہرات کو غصب کر لیا، اسنے کعبہ کے غلاف کو چیر پھاڑ کر کے اپنے پیروکاروں میں تقسیم کر دیا۔ کعبہ مشرفہ کے دروازے اور اسکے سنہری پر نالے کو اکھاڑ ڈالا اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی اور 7 ذوالحجہ317 ہجری کو ابو طاہر نے حجر اسود کو کعبہ مشرفہ کی دیوار سے الگ کردیا اور اس کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا، خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال 317ھ کو حج بیت اللہ موقوف ہو گیا، کوئی بھی شخص عرفات نہ جا سکا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ اسلام میں پہلا موقع تھا کہ کوئی بھی مسلمان حج نہ کر سکا تھا۔ بعد میں ابو طاہر اسکو موجودہ دور کا جو علاقہ بحرین کہلاتا ہے وہاں اپنے ساتھ لے گیا۔ تقریبا 22 سال حجر اسود کعبہ شریف کی دیوار سے جدا رہا، اس دور میں کعبہ مشرفہ کا طواف کرنے والے صرف اس کی خالی جگہ کو چومتے یا اس کا استلام کر تے تھے۔ پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر قرامطی کے ساتھ معاعدہ کیا اور تیس ہزار دینار کے بدلے حجر اسود واپس لیا۔ یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ 22 سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا۔ جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلے میں خلیفہ وقت نے ایک بہت بڑے عالم اور محدث شیخ عبداللہ کو حجر اسود کی وصولی کے لیے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا۔ یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچ گئے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں حجر اسود کو ان کے حوالہ کیا گیا اور ایک پتھر خوشبودار اور خوبصورت غلاف میں سے نکالا گیا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود کی دو نشانیاں ہیں اگر یہ پتھر اس معیار پر پورا اترا تو یہ حجر اسود ہوگا اور ہم لے جائیں گے۔ پہلی نشانی یہ کہ پانی میں ڈوبتا نہیں ہے، دوسری یہ کہ آگ سے گرم بھی نہیں ہوتا۔ اب اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو وہ ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا تو سخت گرم ہو گیا۔ فرمایا ہم اصل حجر اسود کو لیں گے پھر اصل حجر اسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا، پھر پانی میں ڈالا گیا وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محدث عبداللہ نے فرمایا یہی ہمارا حجر اسود ہے اور یہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے۔ یہ سب دیکھ کر ابو طاہر سلیمان قرامطی نے بڑے تعجب سے محدث عبداللہ سے پوچھا کہ آپ کو یہ باتیں کہاں سے معلوم ہوئیں؟ تو محدث عبداللہ نے جواب دیا کہ ہمیں یہ معلومات آقا محمد مصطفیٰ ﷺ سے ملی کہ حجر اسود پانی میں ڈوبے گا نہیں اور آگ سے گرم نہیں ہو گا۔ اس کے بعد جب قافلہ واپس مکہ کی طرف روانہ ہوا تو حجر اسود کو ایک کمزور اونٹنی پر رکھا گیا، جس نے تیز رفتاری سے اسے خانہ کعبہ تک پہنچا دیا، حجر اسود کی وجہ سے اس اونٹنی میں ذبردست طاقت آ گئی تھی کیونکہ حجر اسود اپنے مرکز بیت اللہ کی طرف واپس جا رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب حجر اسود کو بیت اللہ سے نکال کر بحرین لایا جا ریا تھا تو جس اونٹ پر بھی رکھا جاتا وہ کچھ فاصلہ کے بعد مر جاتا، حتیٰ کہ بحرین پہنچنے تک چالیس اونٹ مر گئے تھے۔

تیسرا قصہ

سن 363 ہجری میں ایک رومی شخص نے اپنے کلہاڑے سے حجر اسود پر کاری ضرب لگائی جس سے اس پر چٹخنے کا ایک واضح نشان پڑ گیا، اس نے دوسری شدید ضرب لگانے کے لیے جیسے ہی اپنے کلہاڑے کوبلند کیا تو الله سبحان و تعالی کی مدد آن پہنچی اور قریب ہی موجود ایک یمنی شخص نے جو اسکی یہ گھناونی حرکت دیکھ رہا تھا ، اس نے اسے قتل کر ڈالا۔

چوتھا قصہ

سن 413 ہجری میں فاطمید نے اپنے 6 پیروکاروں کو مکّہ بھیجا جس میں سے ایک شخص الحاکم العبیدی تھا جو ایک مضبوط جسم کا مالک اور سنہرے بالوں والا طویل قد و قامت والا انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھہ ایک تلوار اور ایک لوہے کی سلاخ لایا تھا، اپنے ساتھیوں کے اکسانے پر اسنے دیوانگی کے عالم میں ایک کے بعد ایک تین ضربیں حجر اسود پر لگا ڈالیں جس سے اسکی کرچیاں اڑ گئیں۔ وہ ہزیانی کیفیت میں اول فول بکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ( معاذ الله ) جب تک وہ اسے پورا نہ اکھاڑ پھینکے گا، تب تک سکون سے نہ بیٹھے گا۔ بس اس موقع پر ایک مرتبہ پھر الله سبحان و تعالی کی مدد آن پہنچی اور گھڑ سواروں کے ایک دستے نے ان سب افراد کو گھیر لیا اور پکڑ کر قتل کردیا گیا اور بعد میں ان کی لاشوں کو بھی جلا دیا گیا۔

پانچواں قصہ

سن 990 ہجری میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب ایک غیرعرب باشندہ اچانک اپنے ہتھیا ر کے ساتھ مطاف میں آیا اور اسنے حجر اسود کو ایک ضرب لگا دی، اس وقت کا ایک شہزادہ نصیر اتفاق سے مطاف میں موجود تھا، شہزادے نے اسے فوری طور سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

چٹھا قصہ

سن 1351 ہجری کے محرم کے مہینے میں میں ایک افغانی باشندہ مطاف میں آیا اور اسنے حجرہ اسود کا ایک ٹکڑا توڑ کر باہر نکال لیا اور پھر کعبہ کے غلاف کا ایک ٹکڑا بھی چوری کر لیا۔ اس نے کعبہ کی سیڑھیوں کو بھی نقصان پہنچایا، کعبہ مشرفہ کے گرد کھڑے محافظوں نے اسے پکڑ لیا اور پھر اسے مناسب کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی۔ اسکے بعد 28 ربیع الاول سن 1351 ہجری کو شاہ عبد العزیز نے اس پتھر کو دوبارہ کعبہ مشرفہ کی دیوار میں نصب کیا جو اس فاطر العقل افغانی نے نکال باہر کیا تھا۔

مزید

696ء میں جب حضرت عبداللہ بن زبیر خانہ کعبہ میں پناہ گزین ہوئے تو حجاج بن یوسف کی فوج نے کعبے پر منجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگا دی۔ جس سے حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔

حجر اسود اس وقت ایک مکمل پتھر کی صورت میں نہیں ہے جیسا کہ یہ جنت سے اتارا گیا تھا بلکہ حوا د ث زمانہ نے اس متبرک پتھر کو آٹھ ٹکڑوں میں تبدیل کردیا ہے۔ 606ء میں جب رسول اللہ ﷺ کی عمر35 سال تھی ، سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب کر دیا۔ سب سے پہلے عبداللہ بن زبیر نے حجر اسود پر چاندی چڑھوائی ۔ 1268ء میں سلطان عبدالحمید نے حجراسود کو سونے میں مڑھوایا، 1281ء میں سلطان عبدالعزیز نے اسے چاندی سے مڑھوایا۔

فضائلِ حجر اسود

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں، اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے، اگراللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہوجاتا۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 )

ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجراسود جنت سے نازل ہوا۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 ) سنن نسائ حدیث نمبر ( 2935 )

ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 )

ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم اللہ تعالٰی اسے قیامت کولاۓ گا تواس کی دوآنکھیں ہونگی جن سے یہ دیکھے اورزبان ہوگی، جس سے بولے اور ہراس شخص کی گواہی دے گا جس نے اس کا حقیقی استلام کیا۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 961 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 2944 )

جابربن عبداللہ رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاۓ توحجر اسود کا استلام کیا اورپھراس کے دائيں جانب چل پڑے اورتین چکروں میں رمل کیا اورباقی چار میں آرام سے چلے۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) حجر اسود کا استلام یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے چھوا جائے، اگر بھیڑ زیادہ ہوتو ہاتھ کے اشارہ بھی کفایت کرے گا۔

حضرت عمر رضي اللہ تعالٰی عنہ حجراسود کے پاس تشریف لاۓ اوراسے بوسہ دے کرکہنے لگے: مجھے یہ علم ہے کہ توایک پتھر ہے نہ تونفع دے سکتا اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے، اگرمیں نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تومیں بھی تجھے نہ چومتا۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1250 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1720 )

نافع رحمہ اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمررضي اللہ تعالٰی عنہ نے حجراسود کا استلام کیا اورپھر اپنے ہاتھ کوچوما، اورفرمانے لگے، میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے اسے نہیں چھوڑا۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1268 )

ابوطفیل رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ﷺ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اورحجر اسود کا چھڑی کے ساتھ استلام کرکے چھڑی کوچومتے تھے۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1275 )

ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پرطواف کیا توجب بھی حجر اسود کے پاس آتے تواشارہ کرتے اوراللہ اکبر کہتے۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4987 )

ابن عمررضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 ) امام ترمذی نے اسے حسن اورامام حاکم نے ( 1 / 664 ) صحیح قرار دیا اور امام ذھبی نے اس کی موافقت کی ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں ہدایت عطا فرمائیں اور ہماری کمی پیشیاں معاف فرمائیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں