Hazrat Ibrahim bin Adham R.A 6

اللہ کے باکمال ولی ۔۔ حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ

حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ اپنے زمانہ کے بہت متقی بزرگ تھے۔ ابتداء میں آپ ؒ بَلخ کے بادشاہ تھے اور بڑی شان و شوکت سے حکومت کیا کرتے تھے۔ ایک رات جب آپ ؒ محل میں سو رہے تھے تو ایک بڑا عجیب و غریب واقع پیش آیا۔ حضرت ابراہیم ؒ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص محل کی چھت پر ٹہل رہا ہے، آپ ؒ نے اس سے پاس جا کر پوچھا، کون ہے تو؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ میں تیرا دوست ہوں اور یہاں اپنا اونٹ تلاش کر رہا ہوں۔ حضرت ابراہیم ؒ حیران ہو کر فرمایا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شاہی محلات کی چھت پر اونٹ آ جائیں۔ تو اس آدمی نے جواب دیا، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ شاہی لباس پہن کر عیش و عشرت کے ساتھ سوئیں رہیں اور آپ کو خدا مل جائے۔ اس جواب کو سن کر حضرت ابراہیم ؒ پر ایک خوف طاری ہو گیا اور نیند سے آنکھ کھل گئی۔

دوسرے دن حضرت ابراہیم ادھم ؒ دربارِعام میں تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک بہت بارعب شخص دربار میں داخل ہوا، دربار میں کسی کی بھی جرات نہ ہوئی کہ اس کے اس طرح گستاخانہ طور پر اندر آنے پر کوئی سوال کرے، وہ آدمی چلتا ہوا سیدھا بادشاہ کے پاس آ گیا۔ حضرت ابراہیم ادھم ؒ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا، کون ہے تو؟ اور یہاں کیا کرنے آیا ہے؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ میں اِس سرائے میں تھوڑی دیر ٹہرنا چاہتا ہوں۔ حضرت ابراہیم ادھم ؒ نے کہا کہ یہ کوئی مسافر خانہ نہیں ہے، شاہی محل ہے۔ تو اس آدمی نے پوچھا کہ آپ سے پہلے اس محل میں کون رہتا تھا۔ فرمایا، میرا باپ۔ اس آدمی نے پھر پوچھا، تمھارے باپ سے پہلے کون تھا؟ فرمایا میرا دادا۔ اس آدمی نے پھر پوچھا، تمھارے دادا سے پہلے کون تھا؟ فرمایا میرا پردادا۔ اس طرح یہ سلسلہ کئی پشتوں تک پہنچ گیا، پھر اس آدمی نے پوچھا کہ ذرا بتاؤ تمھارے بعد یہاں کون رہے گا، حضرت ابراہیم ادھم ؒ بولے، میری اولاد۔ تب اس آدمی نے کہا کہ ذرا خیال تو کرو، جس مقام پر اتنے آدمی آئیں اور جائیں، کسی کا بھی مستقل قیام نہ ہو، پھر وہ مسافر خانہ نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ شخص باہر کی جانب واپس جانے لگا۔ حضرت ابراہیم ادھم ؒ اس کے پیچھے بھاگے، اور پوچھا کہ کون ہیں آپ ؟ اس شخص نے حضرت ابراہیم ادھم ؒ کی طرف دیکھا اور جواب دیا، میں خضر ہوں۔

یہ جواب سنتے ہی حضرت ابراہیم ادھم ؒ کا سکون جاتا رہا اور گھوڑے پر سوار ہو کر ہواخوری کی غرض سے محل سے باہر چل پڑے۔ تبھی ایک آواز آئی، اے ابراہیم اس وقت سے پہلے جاگو، جبکہ تمھیں موت کے ذریعے جگایا جائے، یہ الفاظ سن کر حضرت ابراہیم ادھم ؒ کا سکون جاتا رہا، چنانچہ آپ تخت و تاج سے دست بردار ہو گئے اور سچی توبہ کر کے اللہ کی تلاش میں نکل پڑے، اپنے گناہوں پر روتے جاتے، جنگلوں اور وادیوں سے پیدل ہی گزرتے
اور اللہ رب العزت سے معافی مانگتے جاتے۔ حتی کہ چالیس سال تک آپ ؒ یہی کرتے رہے۔

یہاں ہم ان کے کچھ قصے آپ کو سنا دیتے ہیں۔

ایک روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابراہیم ادھم ؒ نے ایک درویش کو دیکھا جو اپنی غربت کی شکایت کررہا تھا، توآپ ؒ اسے کہنے لگے، معلوم ہوتا ہے کہ تو نے درویشی مفت میں حاصل کی ہے۔ درویش نے پوچھا، کیا درویشی کو بھی خریدا جا سکتا ہے؟ تو فرمایا کہ ہاں، میں نے بلخ کی حکومت کے بدلے یہ درویشی خریدی ہے۔

حضرت ابراہیم ادھم ؒ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا دل تین حالتوں میں اللہ کی طرف حاضر نہ ہو تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس پر دروازہ بند کیا جا چکا ہے۔ اول تلاوت قرآن کے وقت، دوئم نماز کے وقت، سوئم ذکرِ الہی کے وقت۔

روایت ہے کہ آپ سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اے شیخ میں اپنے آپ پر بہت ظلم کر چکا ہوں، مجھ کو کچھ نصیحت فرمائیں، فرمایا اگر تم منظور کرتے ہو تو تم کو چھ باتیں بتاتا ہوں۔
اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرو تو خدا کی دی ہوئی روزی نہ کھاو، اس شخص نے کہا کہ میں پھر کہاں سے کھاو گا۔ فرمایا زیب نہیں کہ جس کی روزی کھاو اس کی نافرمانی بھی کرو۔
دوسرا یہ کہ جب گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل کر کرو، اس بندے نے کہا کہ ساری کائنات کی اس رب کی ہے، میں کہاں جا سکتا۔ تو فرمایا کہ یہ نامناسب ہے کہ اس کے ملک میں رہ کر گناہ کیا جائے۔
تیسرا یہ کہ گناہ ایسی جگہ پر کیا جائے، جہاں وہ دیکھ نہ سکے، اس شخص نے کہا کہ یہ تو ناممکن ہے وہ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے، تو فرمایا کہ جب رزق اس کا کھاو، اس کے ملک میں رہو تو اس کے سامنے گناہ کرنا کہاں تک انصاف پر مبنی ہے۔
چوتھا یہ کہ جب موت کا فرشتہ آئے تو اس سے کہنا کہ مجھے ذرا توبہ کرنے کہ مہلت دے دے، اس آدمی نے کہا کہ یہ بھی ناممکن ہے، وہ میرا کہنا کہاں مانے گا۔ تو فرمایا کہ جب یہ حالت ہے تو اس کے آنے سے پہلے توبہ کیوں نہیں کر لیتے۔
پانچواں یہ کہ جب قبر میں منکر نکیر آئیں تو انھیں باہر نکال دینا، اس شخص نے کہا کہ میں یہ بھی نہیں کر سکتا۔ تب فرمایا کہ پھر ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے تیار رہو۔
چھٹا یہ کہ قیامت کے دن حساب کتاب کے بعد گنا گاروں کو دوزخ کی طرف جب بھیجا جائے تب تم دوزخ جانے سے انکار کر دینا۔ اس شخص نے کہا، یہ بھی ناممکن ہے تو فرمایا، تو پھر گناہ مت کرو۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا سبب ہے کہ اللہ تعالی ہماری دعائیں قبول نہیں کرتا؟ آپ نے فرمایا کہ تم اللہ تعالٰی کو جانتے ہو لیکن اس کی اطاعت نہیں کرتے، رسولِ اکرم ﷺ کو پہنچانتے ہو مگر ان کی پیروی نہیں کرتے، قرآنِ کریم پڑھتے ہو مگر اس پر عمل نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کہ نعمت کھاتے ہو مگر شکر نہیں کرتے، جانتے ہو دوزخ گناہ گاروں کے لئے ہے مگر اس سے ذرا نہیں ڈرتے، شیطان کو دشمن سمجھتے ہو مگر اس سے ذرا نہیں بھاگتے، موت کو برحق سمجھتے ہو مگرکوئی سامان نہیں کرتے، عزیز واقارب کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے، تو بھلا جو شخص اس طرح کا ہو، اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے؟
اللہ رب العزت ہمیں بھی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں