Hazrat Junaid Baghdadi metting with Satan (Devil) 83

حضرت جنید بغدادی ؒ کا شیطان سے ملاقات کا احوال، آخر کیوں تو نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، شیطان کا حیران کن جواب

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میرے دِل میں ایک بار یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ابلیس لعین کو دیکھوں۔ اور انہوں نے ایک دن اللہ سے دعا بھی کردی کہ اے اللہ! کبھی شیطان سے ملاقات کرادے تاکہ اس سے ایک سوال کرسکوں۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ایک روز میں نماز کے بعد مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک بوڑھا شخص آیا جو دُور سے ہی میری طرف دیکھ رہا تھا اور جب میں نے اُس کو دیکھا تو اپنے دل میں وحشت کا اَثر محسوس کیا۔ جب وہ میرے نزدیک آ گیا تو میں نے پوچھا، اے بوڑھے توکون ہے؟ کہ میری نظر اثروحشت سے تجھے دیکھنے کا تاب نہیں لاتی اور تیری نحوست کی ہیبت کو میرا دِل برداشت نہیں کرتا۔ وہ بوڑھا کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جس کو دیکھنے کی تیرے دِل میں خواہش تھی۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں، میں سمجھ گیا کہ یہ شیطان ہے، اس کا جواب سن کر میں نے اُس سے پوچھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تجھے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو وہ کون سی چیز تھی، جس نے تجھے حضرت سیّدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ کیا اللہ کی عظمت کو نہیں جانتا تھا؟ تجھے اللہ کی معرفت حاصل تھی، اللہ کی عظمتوں اور جلالتوں سے تو واقف تھا، اس قدر اللہ کی قربت رکھنے کے باوجود جب اللہ نے تجھے حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کر تو، تونے آخر کیوں سجدہ نہیں کیا؟ اس پر شیطان کہنے لگا، اے جنید! تمھارے جیسا توحید پرست آدمی اور یہ مشرکانہ سوال؟ تمھارا یہ خیال ہے کہ میں غیر اللہ کو سجدہ کر لیتا، آدم تو غیر خدا تھے، کیسے میں غیر اللہ کو سجدہ کر لیتا۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ اُس کے اس جواب نے مجھے حیران کردیا اور دل میں اُس کا کلام اَثر کرنے کو تھا اور میرے دل میں آ رہا تھا کہ یہ بلکل ٹھیک کہ رہا ہے، اس وقت مجھے اِلہام ہوا۔ اے جنید! اِس کو کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، حکم دینے والا کون تھا؟ اگر توبندہ تھا تو ربِّ ذوالجلال کے حکم سے باہر نہ ہوتا اور اُس کی نہی سے تقرب نہ کرتا، حکم دینے والا جب خود کہہ رہا ہے کہ فلاں چیز کو سجدہ کرو تو توحید اسی کا نام ہے کہ اس کی بات کو مان لیا جائے۔ شیطان نے میرے دِل کی یہ آواز سن لی اور چیخ ماری اور بولا اللہ کی قسم تو نے مجھے جلا ڈالا اور نظر سے غائب ہوگیا۔ (کشف المحجوب ص۸۱۱، فارسی)

حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ الہام ہونے کے بعد میرا ایمان برقرار ہوا ورنہ تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے ایمان میں تزلزل پیدا ہو گیا ہے۔ یہ ہے شیطان کی مکاری اورعیاری، نہ ولیوں کو چھوڑا، نہ غوث وقطب وابدال کو چھوڑا، نہ انبیائے کرام کو چھوڑا۔ غور کرو کہ شیطان باتوں اور چیزوں کو کس طرح مزین کرتا ہے اور گمراہ کر نے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا ذرا اندازہ اس واقعے سے آپ کر لیجیے، اس لئے کبھی بھی شیطان سے بے فکر نہیں ہونا چاہیے، شیطان کی عیاری اور مکاری سے بسااوقات انسان بے ایمان بھی ہو جاتا ہے لیکن اسے خبر نہیں رہتی کہ میں بے ایمان ہو گیا ہوں۔ شیطان کفر کو مزین کردیتا ہے۔ اللہ کا ساتھ، اس پر مکمل ایمان اور اللہ کا رحم ہی شیطان کے شر سے بچا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفس اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھے اور ہم پر اپنا رحم و کرم فرمائیں۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں