Hazrat Junaid Baghdadi 39

اللہ کے باکمال ولی حضرت جنید بغدادی ؒ

حضرت جنید بغدادی ؒ  کا پورا نام جنید بن محمد بن جنید ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم، لقب قواریری اور زجاج اور خزار ہے۔ قواریری اورزجاج اِس اِعتبار سے کہا جاتا تھا کہ آپ کے والد ِگرامی شیشہ فروش تھے‘‘۔ (نفحات الانسان ص۰۸ فارسی)
جنید بغدادی کا نصب اصل نہاوند (اِیران) سے ہے لیکن آپ بغداد میں پیدا ہوئے۔ حضرت جنید بغدادی حضرت سری سقطی کے بھانجے اور مرید ہیں۔ (کشف المحجوب ص۷۱۱،فارسی)
جنید بغدادی اہل ظواہر اور اَربابِ قلب میں مقبول تھے۔ علوم کے تمام فنون میں کامل اور اُصول و فروغ ومعاملات وعبادات میں مفتی اعظم اور اِمام اصحابِ ثوری تھے۔ تمام اہلِ طریقت آپ کی اِمامت پر متفق ہیں اور کسی مدعی علم وتصوف کو آپ پر اِعتراض واِعراض نہیں ہے۔ (کشف المحجوب ص۷۱۱،فارسی)
آپ حضرت سری سقطی حضرت حارث محاسبی اور حضرت محمد قصاب کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے، یعنی اِن بزرگ ہستیوں کے شاگردوں میں سے تھے۔ (نفحات الانص ۰۸ فارسی)
حضرت ابو العباس عطا فرماتے ہیں حضرت جنید بغدادی علم (معرفت) میں ہمارے اِمام مرجع اور پیشوا ہیں۔ (نفحات الانص۰۸ فارسی)
آئیے حضرت جنید بغدادی کے کچھ واقعات سے فیض یاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلا قصہ

جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میرے دِل میں ایک بار یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ابلیس لعین کو دیکھوں۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ ایک روز میں مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک بوڑھا شخص آیا جو دُور سے ہی میری طرف دیکھ رہا تھا اور جب میں نے اُس کو دیکھا تو اپنے دل میں وحشت کا اَثر محسوس کیا۔ جب وہ میرے نزدیک آ گیا تو میں نے پوچھا، اے بوڑھے توکون ہے؟ کہ میری نظر اثروحشت سے تجھے دیکھنے کا تاب نہیں لاتی اور تیری نحوست کی ہیبت کو میرا دِل برداشت نہیں کرتا۔ وہ بوڑھا کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جس کو دیکھنے کی تیرے دِل میں خواہش تھی۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں، اس کا جواب سن کر میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کون سی چیز تھی، جس نے تجھے حضرت سیّدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ وہ بوڑھا کہنے لگا، اے جنید! تمھارا یہ خیال ہے کہ میں غیر خدا کو سجدہ کر لیتا۔ حضرت جنید بغدادی اُس کے اس جواب پر حیران ہوئے اور دل میں اُس کا کلام اَثر کرنے کو تھا کہ اِلہام ہوا۔ اے جنید! اِس کو کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، اگر توبندہ تھا تو ربِّ ذوالجلال کے حکم سے باہر نہ ہوتا اور اُس کی نہی سے تقرب نہ کرتا۔ شیطان نے میرے دِل کی یہ آواز سن لی اور چیخ ماری اور بولا اللہ کی قسم تو نے مجھے جلا ڈالا اور نظر سے غائب ہوگیا۔ (کشف المحجوب ص۸۱۱،فارسی)
یہ حکایت آپ کی عصمت کے تحفظ پر دلیل ہے۔ اِس لئے کہ اللہ اپنے ولی کی خود نگرانی فرماتا ہے اور ہر حالت میں مکرہائے شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔

دوسرا قصہ

ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی آنکھوں کے درد میں مبتلا ہوئے تو ایک آتش پرست طبیب نے آنکھوں پر پانی نہ لگانے کی ہدایت کی، لیکن آپ نے فوراََ کہا کہ وضو کرنا تو میرے لئے ضروری ہے اور طبیب کے جانے کے بعد وضوکر کے نمازعشاء اَدا کر کے سو گئے، صبح کو بیدار ہوئے تو دردِ چشم ختم ہو چکا تھا اور یہ ندا آئی کہ چونکہ تم نے ہماری عبادت کی وجہ سے آنکھوں کی پرواہ نہیں کی، اِس لئے ہم نے تمہاری تکلیف کوختم کر دیا اور طبیب نے جب سوال کیا کہ ایک ہی شب میں آپ کی آنکھیں کس طرح اَچھی ہو گئیں تو فرمایا کہ وضو کرنے سے، یہ سننا تھا کہ اُس آگ کی پوجا کرنے والے طبیب نے کہا کہ درحقیقت میں مریض تھا اور آپ طبیب۔ یہ کہہ کروہ طبیب مسلمان ہو گیا۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲‘ص ۷۱ ،فارسی)

تیسرا قصہ

ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی کے ایک مرید کے دل میں یہ اِعتقاد پیدا ہوا کہ میں کس درجہ پر پہنچ چکا ہوں۔ اُس نے حضرت جنید بغدادی سے کچھ اِعراض کیا۔ ایک دِن وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ تجربہ کرے اور دیکھے کہ میرا خیال آپ پر منکشف ہوا ہے یا نہیں۔ حضرت جنید بغدادی نورِ فراست سے اُس کی حالت ملاحظہ فرما رہے تھے۔ مرید نے جنید بغدادی سے سوال کیا تو آپ نے کہا۔ جواب عبارتی خواہی یا معنوی۔ یعنی اَلفاظ اورعبارت میں جواب چاہتا ہے یا حقیقت معنی میں، تو مرید نے جواب دیا، دونوں طرح جواب اِرشاد فرما دیں۔ اس پر جنید بغدادی نے فرمایا: بارتی جواب تو یہ ہے اگر میرا تجربہ کرنے کی بجائے اپنا تجربہ کر لیتا تو تو میرے تجربے کا محتاج نہ ہوتا اور اِس جگہ تجربہ کی غرض سے نہ آتا اور معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا۔ مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا اور وہ چیخنے لگا اور پکارنے لگا کہ حضور راحت ِیقین میرے دل سے جاتی رہی ہے۔ توبہ کرنے لگا اور پہلی بکواس سے ہاتھ اُٹھانے لگا، تو حضرت جنید بغدادی نے پھر فرمایا: تو نہیں جانتا کہ اللہ کے ولی والیان اَسرار ہوتے ہیں۔ تجھ میں اُن کی ایک ضرب برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ پھر ایک پھونک اُس پر ماری وہ پھر اپنے پہلے درجے پر متمکن ہوا۔ اُس دن سے خاصانِ بارگاہ کے معاملات میں دخل دینے سے بھی توبہ کی اور پختہ عہد کیا۔ ( کشف المحجوب ص۹۱۱،فارسی)

چوتھا قصہ

ایک دن حضرت جنید بغدادی لڑکپن کے اَیّام میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آپ کے ماموں جان حضرت سری سقطی نے فرمایا: اے لڑکے! شکر کے بار ے میں تم کیا کہتے ہو؟ آپ نے جواباً عرض کیا، شکریہ ہے کہ اُس کے گناہوں پر مدد طلب نہ کرے۔ (یعنی معصیت اور گناہوں سے بچے)۔ حضرت سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں اِس بات کو سن کر بہت ڈرنے لگا کہ تیری زبان سے جوبات نکلی ہے، وہ تیرا حصّہ نہ بن جائے۔ حضرت جنید بغدادی کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ اِس بات سے لرزاں ترساں رہتا تھا کہ کہیں مجھ سے معصیت سرزد نہ ہو جائے کہ ایک دِن میں حضرت سری سقطی کی خدمت پاک میں حاضر ہوا اور جو کچھ اُن کے لئے ضروری چیزیں ہو سکتی تھیں وہ ساتھ لے گیا۔ حضرت سری سقطی کے پاس بیٹھ گیا تو انھوں نے مجھے فرمایا: اے جنید! تیرے لئے خوش خبری ہے کہ میں نے حق تعالیٰ سے دُعا کی تھی کہ میرے جنید کو کسی طرح فلاح یاب اور توفیق یافتہ کی معرفت میرے پاس پہنچا دے۔ (اور تم آگئے)۔ (نفحات الانس ص۰۸،فارسی)

پانچواں قصہ

حضرت سری سقطی کے زمانۂ حیات کے دور میں پیر بھائیوں نے حضرت جنید بغدادی سے کہا کہ ہمیں وعظ فرمائیں تاکہ ہمارے دِل راحت وسکون پائیں۔ آپ نے صاف اِنکار کر دیا اور فرمایا: جب تک میرے استاد شیخ حضرت سری سقطی جلوہ آرا مسندِ ظاہرہیں، میں کوئی بات کہنے کا مجاز نہیں۔ اس واقعہ کے بعد ایک رات سو رہے تھے کہ نبی اکرمؐ کا دیدار پاک نصیب ہوا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ رسولِ اکرم ؐ فرما رہے ہیں۔ جنید! لوگوں کو وعظ کیا کرو، اِس لئے کہ تیرے بیان سے مخلوق کے دِلوں کو راحت حاصل ہوگی اور تیرے بیان سے خداوند تعالیٰ ایک عالم کی نجات فرمائے گا۔ جیسے ہی نیند سے بیدار ہوئے تو دِل میں خطرہ پیدا ہوا کہ میں اپنے استاد اور مرشد کے درجہ سے اِتنا بلند ہو گیا ہوں، کہ رسولِ اکرمؐ نے مجھے حکم دعوت فرمایا ہے۔ جب صبح ہوئی تو حضرت سری سقطی نے ایک مرید کو بھیجا اور حکم دیا کہ جب حضرت جنید بغدادی نماز سے سلام پھیریں تو اُن سے کہنا کہ مریدوں کی درخواست تم نے رد کر دی اور اُنہیں کچھ نہ سنایا۔ مشائخ بغداد نے سفارش کی اُنھیں بھی تم نے رَد کر دیا۔ میں نے پیغام بھیجا پھر بھی آمادۂ وعظ نہ ہوئے۔ اب جب کہ رسولِ اکرمؐ کا حکم مبارک تمہیں ملا ہے تو لہٰذا اِس حکم کی تعمیل کرو۔ حضرت جنید بغدادی نے جیسے ہی یہ حکم سنا تو جواب بھجوایا کہ حضور میرے ذہن میں اَفضلیت کا خیال سمایا تھا، وہ جاتا رہا ہے اور میں نے اَچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ حضرت سری سقطی میرے مرشد ِ کامل، میرے تمام حالاتِ ظاہر و باطن سے باخبر ہیں اور آپ کا درجہ ہر حال میں میرے درجہ سے بلند ہے اور آپ یقینا میرے اسرار سے مطلع ہیں اور میں آپ کے منصب جلیل کی بلندی سے محض بے خبر ہوں اور اپنی اِس غلطی سے اِستغفار کرتا ہوں، جو میں نے اِس خواب سے پہلے اپنے متعلق سوچا تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جنید بغدادی حضرت سری سقطی کی بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہو کر پوچھتے ہیں کہ آپ کیسے جانتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکریمؐ کا خواب میں دیدارِ پاک کیا ہے؟ تو فرمایا میں نے خواب میں رب کا دیدارِ پاک کیا، اور رب نے مجھے فرمایا کہ میں نے پیارے رسول کریم ؐ سے فرمایا کہ جنید کو فرمائیں وعظ کیا کرے تاکہ اہل بغداد کو فائدہ ہواوراُن کی مراد برآئے‘‘۔ (کشف المحجوب ص۸۱۱ ،فارسی۔) اِس حکایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیراں کامل ہر صورت میں مرید کے حالات پر واقف ہوتے ہیں۔

چھٹا قصہ

ایک دن حضرت جنید بغدادی وعظ فرما رہے تھے کہ ایک کافر جوان جو مسلمانوں جیسا لباس پہنے ہوئے تھا، مجلس میں آیا اور ایک کنارے پر کھڑا ہو کر بلند آواز سے کہنے لگا۔ اے شیخ رسول کریم ؐ کے اِس ارشادِ مبارک کا کیا مطلب ہے کہ مومن کی فراست اور دانائی سے ڈرو کہ بے شک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے؟ اس کی یہ بات سن کرحضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ اُس کا یہ سوال سن کر میں نے کچھ دیر کے لئے سر جھکایا، بعد ازاں میں نے سراُٹھا کر اُس سے کہا اے نوجوان! اِسلام قبول کر لے تیرے اِسلام لانے کا وقت آ چکا ہے۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اِس واقعہ سے حضرت جنید بغدادی کی ایک کرامت کا اِظہار ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ اِس میں دو کرامتیں ہیں ایک تو اُس نوجوان کے کفر پر اِطلاع پانا۔ دوسرے اِس بات سے آگاہ ہو جانا کہ وہ اِسی وقت اِسلام قبول کر لے گا۔ (نفحات الانس ص۱۸،فارسی)

ساتواں قصہ

بچپن ہی سے آپ کو بلند مدارج حاصل ہوتے رہے۔ ایک مرتبہ مکتب سے واپسی پر دیکھا کہ آپ کے والدِ گرامی راستے میں بیٹھے رورہے ہیں۔ آپ نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میرے رونے کا سبب یہ ہے کہ آج میں نے تمہارے ماموں (حضرت سری سقطی) کو زکوٰۃ میں سے کچھ درہم بھیجے تھے لیکن اُنہوں نے لینے سے اِنکار کر دیا اور آج مجھے یہ اِحساس ہورہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی اَیسے مال کے حصول میں صرف کر دی، جس کو خدا کے دوست بھی پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی نے اپنے والدِ گرامی کی بات سن کر ان سے وہ درہم لے لئے اور اپنے ماموں کے یہاں پہنچ کر آواز دی، جب اَندر سے پوچھا گیا! کون ہے؟ تو آپ نے عرض کیا کہ جنید ہوں، آپ کے لئے زکوٰۃ کی رقم لے کر آیا ہے، ماموں نے پھر زکوٰۃ لینے سے اِنکار کر دیا، جس پر حضرت جنید بغدادی نے کہا کہ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کے اُوپر فضل اور میرے والد ِ گرامی کے ساتھ عدل کیا۔ اَب آپ کو اِختیار ہے کہ یہ رقم لیں یا نہ لیں کیونکہ میرے والد ِ گرامی کے لئے جو حکم تھا کہ حقدار کو زکوٰۃ پیش کرو، وہ اُنہوں نے پورا کر دیا۔ جنید بغدادی کی یہ بات سن کر حضرت سری سقطی نے دروازہ کھول کر فرمایا کہ رقم سے پہلے میں تجھے قبول کرتا ہوں، چنانچہ اُسی دن سے آپ اُن کی خدمت میں رہنے لگے اور سات سال کی عمر میں اُنہیں کے ہمراہ مکہ معظمہ پہنچے۔ وہاں چار صوفیائے کرام میں شکر کے مسئلہ پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور جب سب شکر کی تعریف بیان کر چکے تو آپ کے ماموں نے آپ کو شکر کی تعریف بیان کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ نے کچھ دیر سر جھکائے رکھنے کے بعد فرمایا کہ شکر کی تعریف یہ ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نعمت عطا فرمائے تو اُس نعمت کی وجہ سے منعم حقیقی کی نافرمانی کبھی نہ کرے۔ یہ سن کر سب لوگوں نے کہا کہ واقعی شکر اِس کا نام ہے۔ پھر آپ نے بغداد شریف واپس آکر آئینہ سازی کی دکان قائم کر لی اور ایک پردہ ڈال کر چار سو رکعت نماز یومیہ اُسی دکان میں اَدا کرتے رہے اور کچھ عرصہ کے بعد دکان کو خیر باد کہہ کر حضرت سری سقطی کے مکان کے ایک حجرے میں گوشہ نشین ہو گئے اور تیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز اَدا کرتے رہے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ص ۶ ،فارسی)

آٹھواں قصہ

ایک دفعہ ایک عورت جنید بغدادی کی خدمت میں آئی اور اپنے گم شدہ لڑکے کے مل جانے کی دُعا کے لئے آپ سے درخواست کی، تو فرمایا کہ صبر سے کام لو، یہ سن کر وہ چلی گئی۔ پھرکچھ دن صبر کرنے کے بعد خدمت میں حاضر ہوئی اور وہی درخواست کی، لیکن پھر آپ نے صبر کی تلقین فرمائی اور وہ عورت واپس چلی گئی، لیکن جب اس خاتون کی طاقتِ صبر بالکل نہ رہی تو پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اب تابِ صبر بھی نہیں ہے۔جنید بغدادی نے فرمایا کہ اگر تیرا قول صحیح ہے تو جا تیرا بیٹا تجھے مل گیا۔ چنانچہ جب وہ گھر پہنچی تو بیٹا موجود تھا۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۰۲ ،فارسی)

نواں قصہ

حضرت جنید بغدادی فرمایا کرتے تھے کہ اِخلاص کی تعلیم میں نے حجام سے حاصل کی ہے اور واقعہ کچھ اِس طرح پیش آیا کہ مکہ معظمہ میں قیام کے دوران ایک حجام کسی دولت مند آدمی کی حجامت بنا رہا تھا، میں نے دکان میں داخل ہو کراُس سے کہا کہ اللہ کے لئے میری حجامت بنا دے۔ اُس حجام نے فوراً اُس دولت مند کی حجامت چھوڑ دی اور میرے بال کاٹنے شروع کر دئیے، حجامت بنانے کے بعد ایک کاغذ کی پڑیا میرے ہاتھ میں دے دی، جس میں کچھ ریزگاری لپٹی ہوئی تھی اور مجھ سے کہا کہ آپ اِس کو اپنے خرچ میں لائیں۔ میں نے وہ پڑیا لے کر نیّت کر لی کہ َاب پہلے مجھے جو کچھ دستیاب ہو گا وہ میں اس حجام کی نذر کروں گا۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد جب ایک شخص نے بصرہ میں اشرفیوں سے لبریز تھیلی مجھ کو پیش کی تو وہ اشرفیوں کی تھیلی لے کر میں حجام کے پاس پہنچا اور اسے دینے کی کوشش کی تو اُس نے کہا کہ میں نے تو تمہاری خدمت صرف اللہ کے لئے کی تھی اور تم مجھے اشرفیاں پیش کرنے آئے ہو؟ کیا تمہیں اِس کا علم نہیں کہ اللہ کے واسطے کام کرنے والا کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیتا۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص۸۱ ،فارسی)

دسواں قصہ

ایک دفعہ ایک شخص نے پانچ سو دینار آپ کی خدمت میں پیش کئے توحضرت جنید بغددی نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس اور رقم بھی ہے، اُس نے ہاں میں جواب دیا تو پوچھا کہ مزید مال کی حاجت ہے؟ اُس نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا: اپنے پانچ سو دینار واپس لے جا کیوں کہ تو اِس کے لئے مجھ سے زیادہ حاجت مند ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لیکن مجھے حاجت نہیں اور تیرے پاس مزید رقم موجود ہے پھر بھی تو محتاج ہے۔

گیارواں قصہ

ایک بار ایک شخص نے حضرت جنید بغدادی سے عرض کیا کہ موجودہ دور میں دینی بھائیوں کی قلت ہے تو آپ نے جواباََ فرمایا کہ اگر تمہارے خیال میں دینی بھائی صرف وہ ہیں جو تمہاری مشکلات کو حل کر سکیں تب تو یقیناً وہ نایاب ہیں اور اگر تم حقیقی دینی بھائیوں کا فقدان تصور کرتے ہو، تو تم صحیح نہیں کہہ رہے، اِس لئے کہ برادرِدینی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ جن کی دشواریوں کا حل تمہارے پاس ہو اور اُن کے تمام اُمور میں تمہاری اعانت شامل ہو اور اَیسے برادرِدینی کافقدان نہیں ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲‘ ص ۷۱ ،فارسی )

بارواں قصہ

ایک بار کسی مرید کے دل میں یہ وسوسۂ شیطانی پیدا ہو گیا کہ اَب میں کامل بزرگ ہو گیا ہوں اور مجھے صحبتِ مرشد کی حاجت نہیں اور اِس خیال کے تحت جب وہ گوشہ نشین ہو گیا تو راتوں کو اپنے خوابوں میں کیا دیکھا کرتا کہ ملائکہ اُونٹ پر سوار کر کے جنت میں سیر کرانے لے جاتے ہیں اور جب یہ خواب شہرت کو پہنچ گیا تو ایک دن جنید بغدادی بھی اُس مرید کے پاس پہنچ گئے اور مرید سے فرمایا کہ آج رات کو جب تم جنت میں پہنچو تو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِo پڑھنا۔ چنانچہ جب اگلی بار اُس مرید نے خواب دیکھا تو آپ کے حکم کی تعمیل کی اور جیسے ہی کلام پڑھا تو دیکھا کہ شیاطین تو فرار ہو گئے اور اُن کی جگہ مُردوں کی ہڈیاں پڑی ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ تائب ہو گیا اور آپ کی صحبت اِختیار کر کے یہ طے کر لیا کہ مرید کے لئے گوشہ نشینی سم قاتل ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۰۳، فارسی)

تیرواں قصہ

ایک مرید سے اس کے مؤدب ہونے کی وجہ سے آپ کو اس سے بہت اُنس تھا، جس کی وجہ سے دوسرے مریدین کو رشک پیدا ہو گیا۔ چنانچہ جنید بغدادی نے ایک بار ہر مرید کو ایک ایک مرغ اور چاقو دے کرساتھ میں یہ حکم فرمایا کہ اَیسی جگہ جا کر ذبح کرو کہ کوئی دیکھ نہ سکے، کچھ دیر بعد تمام مریدین تو ذبح شدہ مرغے لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے لیکن وہ مؤدب مرید مرغ زندہ ہی لئے ہوئے واپس آیا اور آپ نے اس سے سوال پوچھا کہ تم نے مرغا ذبح کیوں نہیں کیا تو مرید نے عرض کیا کہ مجھے کوئی اَیسی جگہ ہی نہیں ملی جہاں اللہ موجود نہیں تھا۔ یہ کیفیت دیکھ کر تمام مریدین اپنے رشک سے تائب ہوگئے۔ (۰۲؎ تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۵۳، فارسی)

چودھواں قصہ

حضرت جنید بغدادی فرمایا کرتے تھے کہ تمام مدارج صرف فاقہ کشی، خواہشات ترک کر دینا اور شب بیداری سے حاصل ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ صوفی وہ ہے جواللہ اور رسول اکرم ؐ کی اِس طرح اِطاعت کرے کہ اُس کے ایک ہاتھ میں قرآنِ مجید ہو اور دوسرے ہاتھ میں حدیث ِپاک ہو۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲‘ص ، فارسی)

پندرھواں قصہ

ایک بار فرمایا کہ خطرے کی چار قسمیں ہیں۔ اوّل خطرہ، حق جس سے معرفت حاصل ہوتی ہے۔ دوم خطرہ، ملائکہ جس سے عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ سوم خطرہ، نفس جس سے دُنیا میں مبتلا ہو جاتا ہے اورچہارم خطرہ، ابلیس جس سے بغض وعناد جنم لیتے ہیں۔ فرمایا کہ چار ہزار خدا رسیدہ بزرگوں کا یہ قول ہے کہ عبادتِ اِلٰہی اِس طرح کرنی چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کا خیال تک نہ آئے۔ فرمایا کہ تصوف کا ماخذا صطفا ہے اِس لئے برگزیدہ ہستی ہی کو صوفی کہا جاتا ہے اور صوفی وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خلیل ہونے کا درس لے، حضرت اسماعیل علیہ السلام سے تسلیم کا درس لے، حضرت داؤد علیہ السلام سے غم کا درس لے، حضرت ایوب علیہ السلام سے صبر کا درس لے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شوق کا درس لے اور حضور اکرمؐ سے اِخلاص کا درس حاصل کرے۔ فرمایا کہ اللہ کے علاوہ ہر شے کو چھوڑ کر خود کو فنا کر لینے کا نام تصوف ہے اور آپ کے ایک اِرادت مند کا قول یہ ہے کہ صوفی اُس کو کہتے ہیں جو اپنے تمام اَوصاف کو ختم کر کے اللہ کو پالے۔ جنید بغدادی نے فرمایا کہ عارف سے تمام حجابات ختم کر دئیے جاتے ہیں اور عارف رموزِخداوندی سے آگاہ ہوتا ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۷۳ ،فارسی)

سولھواں قصہ

جنید بغدادی فرمایا کرتے کہ اِخلاص کی تعریف یہ ہے کہ اپنے بہترین اَعمال کو قابلِ قبول تصور نہ کرتے ہوئے نفس کو فنا کر ڈالے اور شفقت کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی پسندیدہ شے دوسرے کے حوالے کر کے اِحسان نہ جتائے۔ فرمایا کہ جو درویش اللہ کی رضا پر راضی رہے، وہ سب سے برتر ہے۔ اور اَیسے لوگوں کی صحبت اِختیارکرنی چاہئے جو اِحسان کر کے بھول جاتے ہیں اور تمام لغزشوں کو نظر اَنداز کرتے رہیں۔ فرمایا کہ بندہ وہی ہے، جو اللہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کرے۔ پھر فرمایا کہ مرید وہ ہے، جو اپنے علم کا نگران رہے اور مراد وہ ہے، جس کو اِعانتِ اِلٰہی حاصل ہو کیونکہ مرید تو دوڑنے والا ہوتا ہے اور دوڑنے والا کبھی اُڑنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ فرمایا کہ ترکِ دُنیا سے عقبیٰ مل جاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ تواضع نام ہے، سرجھکا کر رکھنے اور زمین پرسونے کا۔ فرمایا کہ حجابات کی چھ قسمیں ہیں۔ تین عام بندوں کے لئے۔ اوّل نفس، دوم مخلوق اورسوم دُنیا اور تین خاص بندوں کے لئے اوّل عبادت، دوم اجر اورسوم کرامات پر اِظہار۔ فرمایا کہ حلال سے حرام کی جانب متوجہ ہونا اہل دُنیا کی لغزش ہے اور فناء سے بقاء کی طرف رجوع کرنا زہاد کی لغزش ہے۔ فرمایا کہ قلبِ مومن دن میں ستر مرتبہ گردش کرتا ہے لیکن قلبِ کافر ستر برس میں ایک مرتبہ بھی گردش نہیں کرتا۔ آپ اپنی مناجات اِس طرح شروع کرتے کہ اے اللہ! روزِ محشر مجھے اَندھا کر کے اُٹھانا، اِس لئے کہ جس کو تیرا دیدار نصیب نہ ہو اُس کا نابینا رہنا اِس لئے اَولیٰ ہے کہ وہ کسی دوسری شے کو بھی نہ دیکھ سکے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص۴۳ ، فارسی)

ستارھواں قصہ

حضرت جنید بغدادی ؒ کے زمانے میں ایک بہت مشہور ڈاکو تھا، وہ ڈاکہ زنی سے باز نہیں آتا تھا یہاں تک کہ اے کئی مرتبہ پکڑا گیا، قاضی نے اسے ہر بار پکڑے جانے پر سزا دی، کبھی 100، کبھی 200، کبھی 300 دروں کی سزا دی گئی، اسے اب تک 16ہزار درے لگ چکے تھے مگر وہ چوری کے فعل سے باز نہیں آتا تھا، حتیٰ کہ اس کا ایک ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا، مگر وہ پھر بھی باز نہ آیا اور اپنے ایک ہاتھ سے ہی چوری اور ڈاکہ زنی کرتا رہا۔ عوام میں اس کا بہت خوف رہتا، کوئی اس کے سامنے جانے کی جرأت نہ کرتا۔ پھر آخر ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ڈاکو جنید بغدادیؒ کے گھر چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے انہی دنوں تجارت کی غرض سے کچھ کپڑے اور دیگر اشیا منگوا کر رکھی ہوئی تھیں اور انہیں دو تین گٹھڑیوں میں باندھ رکھا تھا۔ مشہور ڈاکو جب دیوار کود کر گھر میں داخل ہوا تو اسے وہ سامان جو گٹھڑیوں میں بندھا پڑا تھا نظر آگیا۔ اس نے سامان چوری کرنے کا فیصلہ کیا مگر وہ ایک ہاتھ ہونے کی وجہ سے ان گٹھڑیوں کو اٹھا کر لے جانے سے قاصر تھا اور ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی کو اس سامان کو اٹھا لے جانے کیلئے مدد کیلئے لایا جائے۔ اسی اثنا میں حضرت جنید بغدادی ؒ تہجد کی نماز کیلئے نیند سے بیدار ہوئے اور اپنے گھر کے صحن میں تشریف لائے۔ ڈاکو کی نظر آپ پر پڑی تو اس نے سمجھا کہ شاید یہ اس گھر کا کوئی نوکر ہے جو مالکوں کے بیدار ہونے سے قبل گھر کے کام کیلئے بیدار ہوا ہے۔ اس نے حضرت جنید بغدادیؒ کو نہایت سخت آواز میں اپنے پاس بلایا، ادھر آئو! اور یہ گٹھڑی اٹھا کر میرے سر پر رکھو۔ حضرت جنید بغدادیؒ اس کی جانب بڑھے اور گٹھڑی اٹھا کر اس کے سر پر رکھ دی۔ اس چور نے جب دیکھا کہ گھر کا نوکر اس کے رعب میں آچکا ہے اور ڈر کر اس کے احکامات کی جوں کے توں تعمیل کر رہا ہے، تو اس نے بجائے اپنے سر پر گٹھڑی اٹھوانے کے حضرت جنید بغدادیؒ کے سر پر گٹھڑی اٹھوانے کا ارادہ کیا اور انہیں اسی سخت لہجے میں حکم دیا کہ میرے سر پر یہ گٹھڑی نہ رکھو بلکہ اپنے سر پررکھو۔ حضرت جنید بغدادیؒ آمادہ ہو گئے، اس نے اپنے ایک ہاتھ سے گٹھڑی آپؒ کے سر پر رکھنے میں مدد کی، جب آپؒ نے گٹھڑی سر پر اٹھا لی تو اس نے حکم دیا کہ جلدی کرو اور میرے ساتھ چلو، فجر کی ازان ہونے والی ہے اور سورج بھی طلوع ہو جائے گا، اس سے پہلے پہلے تم نے یہ گٹھڑی میری مطلوبہ جگہ تک چھوڑ کر آنی ہے اور اگر تم نے دیر کی تو میں ڈنڈے سے تمہاری مرمت کروں گا۔ حضرت جنید بغدادیؒ اپنا مال اپنے ہی سر پر رکھ کر اس کے گھر کی جانب چل پڑے۔ حضرت جنید بغدادیؒ راستے میں وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے تھک گئے اور آپ کا سانس بھی پھول چکا تھا، جس سے آپ کی رفتار بھی بار بار آہستہ ہو جاتی، جس پر وہ بدنام زمانہ ڈاکو آپ کو ڈنڈے سے مارنے لگ جاتا، یہاں تک حضرت جنید بغدادیؒ گٹھڑی سر پر اٹھائے اس کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں اور لوٹ کر گھر واپس آجاتے ہیں۔ بدنام زمانہ ڈاکو اس چوری پر بہت خوش تھا اور وہ رات نہایت اطمینان سے سویا اور ایک دن گزر چکا تھا تو اس چور کے دل میں خیال آیا کہ جس گھر سے میں نے گزشتہ روز چوری کی واردات کی ہے، کہیں اس گھر کا نوکر میرا راز فاش نہ کردے، مجھے اس سے متعلق خبر رکھنی چاہئے اور چل کے دیکھنا چاہئے کہ آیا وہاں لوگ جمع ہیں یا نہیں، اگر تو لوگ جمع ہوئے تو یقیناََ اس نوکر نے میرا راز فاش کر دیا ہو گا اور وہ تفتیش کر رہے ہونگے اور اگر وہاں خاموشی ہوئی تو یقیناََ نوکر نے میرے متعلق کسی کو ڈر کے مارے بتایا نہیں ہو گا، چنانچہ وہ آپؒ کے گھر کی جانب چل پڑا۔ جب چور حضرت جنید بغدادی کے گھر کے سامنے پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ لوگ آرہے ہیں اور گھر میں قطار در قطار داخل ہو رہے ہیں۔ گھر میں داخل ہونے والے افراد اپنے حلئیے سے نہایت پرہیز گار اور متقی لگ رہے تھے۔ وہ بڑا حیران ہوا اس نے باہر کھڑے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ کیا تم جانتے نہیں، کہ یہ گھر ایک بہت بڑے شیخ، پیر کامل کا ہے۔ اس نے استفسار کیا کہ کیا میں ان کو دیکھ سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ ہاں دیکھ سکتے ہو، اس آدمی نے اسے اپنے ساتھ لیا اور گھر میں داخل ہو گیا۔ اس دوران ڈاکو نے اپنا کٹا ہوا ہاتھ بھی چھپا لیا تاکہ گھر کا نوکر اسے پہچان نہ سکے۔ گھرکے اندر جا کر وہ چور کیا دیکھتا ہے کہ وہی نوکر جس سے اس نے گٹھڑی اٹھوائی اور گھر تک مارتا ہوا لے گیا تھا، وہی انسان مسندِ ارشاد پر تشریف فرما ہے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ حضرت جنید بغدادیؒ ہیں جو ولی کامل ہیں۔ اس منظر نے زمانے کے مشہور ڈاکو کے دل کی دنیا بدل گئی، آپ کی مجلس میں گناہوں سے توبہ کی اور آپ سے بیعت ہوا۔ روایات میں آتا ہے کہ پھرایسا ہوا کہ حضرت جنید بـغدادیؒ نے بغداد کے اسی بدنام زمانہ ڈاکو کو اپنی خلافت عطا فرمائی۔ اللہ والوں کی مجلس کا اپنا ہی اثر ہے۔ کہاں بغداد کا مشہور چور اور ڈاکو اور کہاں جنید بغدادیؒ کا خلیفہ۔ یہ اللہ والوں کی محفل کا اثر تھا کہ دل کی دنیا بدل گئی اور راہ راست اختیار کی۔

اٹھارھواں قصہ

ایک بار کسی بزرگ نے خواب میں جنید بغدادی سے پوچھا کہ منکر نکیر کو آپ نے کیا جواب دیا؟جنید بغدادی نے فرمایا کہ جب اُنہوں نے پوچھا کہ مَنْ رَبُّکَ تو میں نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں ازل ہی میں اَلْسَتُ بِرَبِّکّمْ کا جواب بلیٰ کہہ کر دے چکا ہوں۔ اِس کے لئے غلاموں کا جواب دینا کیا دشوار ہے۔ چنانچہ نکیرین جواب سن کر یہ کہتے ہوئے چل دئیے کہ اَبھی تک اِس پر خمارِ محبت کا اَثر موجود ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۶۳ ، فارسی)

انیسواں قصہ

ایک بار کسی بزرگ نے اپنے خواب میں آپ سے پوچھا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کیسا معاملہ کیا؟ جنید بغدادی نے فرمایا کہ محض اپنے کرم سے بخش دیا اور اُن دو رکعت نماز کے علاوہ جو میں رات کو پڑھا کرتا تھا اور کوئی عبادت کام نہ آسکی، آپ کے مزار مبارک پر حضرت شیخ شبلی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ خدا رسیدہ لوگوں کی حیات وممات دونوں مساوی ہوتی ہیں۔ اِس لئے اِس مزار پر کسی مسئلہ کا جواب دینے میں ندامت محسوس کرتا ہوں کیونکہ مرنے کے بعد بھی آپ سے اُتنی حیاء رکھتا ہوں جتنی حیات میں تھی۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۶۳ ، فارسی)

بیسواں قصہ

دَمِ مرگ میں آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ مجھ کو وضو کروا دو۔ چنانچہ دَورانِ وضو اُنگلیوں میں خلال کرنا بھول گئے تو آپ کی یاد دہانی پر خلال کر دیا گیا۔ اِس کے بعد آپ نے سجدے میں گر کر گریہ وزاری شروع کر دی اور جب لوگوں نے سوال کیا کہ آپ اِس قدر عابد ہو کر کیوں روتے ہیں؟ فرمایا کہ اِس وقت سے زیادہ میں کبھی محتاج نہیں۔ پھر تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول ہو کر فرمایا کہ اِس وقت قرآنِ مجید سے زیادہ میرا کوئی مونس وہمدم نہیں اور اِس وقت میں اپنی عمر بھر کی عبادت کو اِس طرح ہوا میں معلق دیکھ رہا ہوں کہ جس کو تیزوتند ہوا کے جھونکے ہلارہے ہیں اور مجھے یہ علم نہیں کہ یہ ہوا فراق کی ہے یا وصال کی اور دوسری طرف فرشتہ ٔ اَجل اور پل صراط ہے اور میں عادل قاضی پر نظریں لگائے ہوئے اُس کا منتظرہوں کہ نہ جانے مجھ کو کدھر جانے کا حکم دیا جائے۔ اِسی طرح آپ نے سورۃ البقرہ کی ستر آیاتِ مبارکہ تلاوت فرمائیں اور عالم سکرات میں جب لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اللہ کیجئے تو فرمایا کہ میں اِس کی طرف سے غافل نہیں ہوں۔ پھر اُنگلیوں پر وظیفہ خوانی شروع کردی اور جب داہنے ہاتھ کی اُنگشت ِشہادت پر پہنچے تو اُنگلی اُوپر اُٹھا کر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑی اور آنکھیں بند کرتے ہی روحِ قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص۵۳ ، فارسی)

تاریخ وصال: ۶۸۲ھ ؁ اور بعض اصحاب کا قول ہے کہ ۵۸۲ ھ؁ میں وفات فرمائی۔ (نفحات الانس ص ۰۸)

حضرت جنید بغدادی کے چند پُر حکمت اقوال ملاحظہ کیجئے
(۱) میں نے تصور قیل و قال اور جنگ و جدل سے نہیں بلکہ بھوک اور بے خوابی سے حاصل کیا۔
(۲) میں نے کلام اللہ شریف کو دائیں ہاتھ میں لیا اور اسوۂ حسنہ کو بائیں ہاتھ میں!
(۳) اگر روزِ محشر اللہ تعالیٰ مجھے حکم دیں کہ مجھے دیکھ! تو میں عرض کروں گا کہ آنکھ تو دوستی میں غیر ہے، دنیا میں تو میں تجھے بغیر آنکھ کے ہی دیکھتا تھا۔
(۴) طالب حق کے لئے اکیلا رہنا زہر ہے۔
(۵) اللہ تبارک و تعالیٰ بندے سے دو علم چاہتا ہے: اول یہ کہ وہ اپنی عبودیت کو جانیں، دوم یہ کہ اللہ کی ربوبیت یہ کہ اللہ کی ربوبیت کو پہچانیں۔
(۶) سب راستے بند ہیں ماسوائے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اس پر چلے گا منزل حاصل کرے گا۔
(۷) جو حافظ قرآن اور حدیث کے علم کا پورا عالم نہ ہو اس کی پیروی مت کرو۔
(۸) علم کتاب اللہ اور سنت نبوی کے ساتھ وابستہ ہے۔
(۹) مرد کی سیرت قابل قدر ہے نہ کہ اس کی صورت ۔
(۱۰) عبودیت کا حق ادا کئے بغیر آزادی ممکن نہیں۔
(۱۱) علماء کا تمام علم دو حرفوں میں محدود ہے: اول عقیدے کی درستی، دوم یہ کہ خدمت میں حق لحاظ۔
(۱۲) اللہ کبھی اہل ہمت کو سزا نہیں دیتا ، اگر چہ وہ خطا کر بیٹھے، جو ہمت رکھتا ہے بینا ہے۔
(۱۳) جو ارادت رکھتا ہے وہ اندھا ہے۔
(۱۴) ایک عمل سے دوسرے سے بہتر نہیں ہوتا۔
(۱۵) ایک شخص دوسرے پر سبق نہیں لے جاتا مگر ہمت سے کیونکہ اس شخص کی ہمت دوسروں کی ہمتوں سے بڑھ جاتی ہے۔
(۱۶) محبت اللہ کی امانت ہے۔
(۱۷) جب محبت کامل ہوجاتی ہے تو ادب کی حاصل کریں گے۔
(۱۸) جب وقت گذر جائے تو واپس ہرگز نہیں آتا، چنانچہ وقت سے زیادہ عزیز کوئی چیز نہیں۔
(۱۹) صدق یہ ہے کہ نہایت اہم کام میں سچ بولا جائے، حالانکہ جھوٹ کے بغیر اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں۔
(۲۰) توکل پہلے حقیقت اور پھر علم ہوجاتا ہے اور توکل نہ کسب رنا ہے بلکہ سکونِ دل ہے، اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر جو اس نے فرمایا ہے۔
(۲۱) خلق چار چیزوں پر مشتمل ہیں:
(۱)سخاوت، (۲) الفت، (۳)نصیحت، (۴)شفقت۔
(۲۲) مجھے نیک خو شخص کے ساتھ صحبت پسند ہے خواہ بدکار ہو نہ کہ بد خو کے ساتھ، حالانک وہ فصیح و بلیغ ہی کیوں نہ ہو۔
(۲۳) صادق وہ ہے کہ جو دیکھو تو ویسا ہی پاؤ جیسا کہ سنا تھا۔
(۲۴) صدیق وہ ہے جس کا صدق افعال، اقوال اور احوال میں ہمیشہ قائم رہے۔
(۲۵) خلق پر شفقت یہ ہے کہ جو وہ مانگیں رضا و خوشی سے ان کو دو اور ان پر احسان مت رکھو، کیونکہ وہ بدلہ اتارنے کی طاقت نہیں رکھتے، نیز ان کو وہ بات مت بتاؤں جو ان کی سمجھ سے بالا تر ہو۔
(۲۶) اس شخص کے ساتھ صحبت اختیار کرو جو نیکی بھول جائے اور اہل حق کی حمایت کرے۔
(۲۷) مومن اور منافق میں فرق یہ ہے کہ مومن کا دل گھڑی میں ستر دفعہ پھرتا ہے اور منافق کا دل ستر سال میں ایک مرتبہ بھی نہیں۔
(۲۸) ادا و شکر یہ ہے کہ جو نعمت تمہیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے اس نعمت کی وجہ سے اس کی نافرمانی مت کرو۔
(۲۹) اللہ رب العزت کی عطا کردہ نعمت کو باعثِ نافرمانی اور معصیت نہ بناؤ۔
(۳۰) جو شخص دین کی سلامتی جسمانی آسودگی دل کی بے فکری اور تمام دوسرے عوارضات سے بچنا چاہئے، اسے کہہ دو لوگوں سے غیر ضروری میل جولترک کردو۔
(۳۱) ہر شئے کا غم کھانا مومن کے لئے باعثِ فضیلت ہے، بشرطیکہ کسی گناہ کے سبب نہ ہو۔
(۳۲) دولتمندوں کے ساتھ صحبت عزت و وقار سے رکھو اور غرباء و فقرار کے ساتھ انکساری کے ساتھ رہ۔

جنید بغدادی کے بے شمار ملفوظات اولیاء کرام نے محفوظ کرکے ہم تک پہنچائے ہیں جن میں علم و حکمت اورفراست ایمانی کے موتی پنہاں ہیں،امام ابو نعیم اصفہانیؒ نے حلیۃ الاولیاء کی دسویں جلد میں آپ کا مفصل ذکر کیا ہے اورآپ کے بے شمار قیمتی اورپر اثر ملفوظات ذکر فرمائے ہیں، جن میں کچھ یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:
۱۔ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ وہ اپنی کوشش سے اللہ تعالی تک پہنچ جائے گا،وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈال رہا ہے،جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ بغیر محنت اورکوشش کے اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا،وہ خواہ مخواہ آرزوئیں باندھ رہا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بے عملی کے ساتھ آرزوئیں لگانا بھی غلط ہے اور محنت وکوشش کرکے اس پر ناز کرنا بھی غلط ہے،صحیح راستہ یہ ہے کہ کوشش میں لگارہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل اوررحمت کا طلب گار ہو؛کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم ورحمت ہی سے وصول الی اللہ ہوتا ہے۔
۲۔ جب تک تم اپنے گناہوں سے خائف ہو اور اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر ندامت محسوس کرتے ہو،اس وقت تک اپنے آپ سے مایوس نہ ہو۔
۳۔ آپ کے شیخ حضرت سری سقطیؒ نے آپ سے پوچھا ‘‘شکر کی حقیقت کیا ہے؟’’ آپ نے جواب دیا:
(الایستعان بشی ء من نعمہ علی معاصیہ)
“شکر یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کسی نعمت کو اس کی معصیتوں میں استعمال نہ کیا جائے’”
حضرت سری ؒ نے اس جواب کو بے حد پسند فرمایا:
۴۔ جو شخص حافظ قرآن نہ ہو،اس نے کتابت احادیث کا مشغلہ نہ رکھا ہو اورعلم فقہ حاصل نہ کیا ہو،وہ اقتداء کے قابل نہیں۔
۵۔ جب تک کوئی بری بات انسان کی طبیعت (دل) میں رہے،اس وقت تک وہ کوئی عیب نہیں، ہاں جب وہ طبیعت کی اس بات پر عمل کرنے لگے تو یہ عیب کی بات ہے۔
یہی بات حضرت تھانویؒ کے مواعظ میں ملتی ہے کہ جب تک رزائل کے مقتضا پر عمل نہ کیا جائے، اس وقت تک وہ رزائل مضر نہیں ہوتے۔
۶۔ مجھے دنیا میں پیش آنے والا کوئی واقعہ ناگوار نہیں ،اس لئے کہ میں نے یہ اصول دل میں طے کر رکھا ہے کہ یہ دنیا رنج و غم، بلاء اورفتنہ کا گھر ہے،لہذا اس کو تو میرے پاس برائی ہی لے کر آنا چاہیے،لہذا اگر کبھی وہ کوئی پسندیدہ بات لے کر آئے تو یہ اللہ تعالی کا فضل ہے ورنہ اصل وہی پہلی بات ہے۔
۷۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے سوال کیا‘‘دنیا (جس سےپرہیز کی تاکید کی جاتی ہے) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:
(مادنا من القلب،وشغل عن اللہ)
“جو دل کے قریب آجائے اوراللہ تعالی سے غافل کردے”
۸۔ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا:
(متی تصیر النفس داء ھا دواءھا)
“ایسا کب ہوتا ہے کہ نفس کے امراض خود اس نفس کا علاج بن جائیں ؟”
آپ نے برجستہ جواب دیا:
(اذا خالفت ھواء ھا صار داء ھادواءھا)
“جب تم نفس کی مخالفت کرو تو اس کی بیماری ہی اس کا علاج بن جاتی ہے”
(حلیۃ الاولیاء:۱۰/۲۵۵،۲۷۴،ملخصاً)
۹۔ میں اگر ہزار سال بھی زندہ رہوں تو اپنے اختیار سے طاعات وعبادات میں سے ایک ذرہ بھی کم نہ کروں، ہاں مغلوب ومجبور ہوجاؤں تو دوسری بات ہے۔
(ثمرات الاوراق،ص:۷۸،کتاب الاعتصام:۱/۱۰۹)
۱۰۔ وصول الی اللہ کے جتنے راستے عقلاً ہوسکتے ہیں وہ سب کے سب بجز اتباع سنت کے مخلوق پر بند کردیئے گئے ہیں (یعنی بغیر اقتداء رسول ﷺ کے کوئی شخص ہرگز تقرب حاصل نہیں کرسکتا)اورجودعوی کرے وہ کاذب ہے۔
(ثمرات الاوراق،ص:۷۸،کتاب الاعتصام:۱/۱۱۰)
۱۱۔ حضرت جنید بغدادیؒ سے توحید کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ موحد کا وحدانیت کی حقیقت اورکمال احدیت کے ساتھ اس بات کو جاننا کہ وہ ذات باری تعالیٰ واحد ویکتا ہے، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ جنا گیا، اس کا نہ تو کوئی مد مقابل ہے نہ نظیر نہ تو اس کی صورت بیان ہوسکتی ہے، نہ تشبیہ، نہ کیفیت، نہ تمثیل۔
(الرسالۃ القشیریۃ،ص:۲)
۱۲۔ تمام مخلوق کے لئے اللہ تک پہنچنے کے راستے بند ہیں، ماسوائے ان لوگوں کے جو رسول اللہﷺکے نقش قدم پر چلیں۔
(الرسالۃ القشیریۃ،ص:۴۴)
۱۳۔ جن چیزوں سے تمہارا ہاتھ خالی ہے، ان سے دل کے خالی ہونے کا نام زہد ہے۔
۱۴۔ دنیا کو حقیر جاننے اوراس کے آثار کو دل سے محو کردینے کا نام زہد ہے۔
(الرسالۃ القشیریۃ،ص:۱۶۲)
۱۵۔ صدق کی حقیقت یہ ہے کہ تو ان مواقع پر بھی سچ بولے جن میں جھوٹ کے بغیر تمہاری نجات نہیں ہوسکتی۔
(الرسالۃ القشیریۃ،ص:۲۹۵)
۱۶۔ ہر وہ محبت جو کسی غرض کے لئے ہے،جب وہ غرض جاتی رہے گی تو محبت بھی جاتی رہے گی۔
(الرسالۃ القشیریۃ،ص:۴۵۱)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں