Hazrat Khazir A.S Story No.1 5

حضرت خضر علیہ السلام کا ایک ایمان افروز واقعہ

ایک مرتبہ حضرت خضر علیہ السلام دریا کے کنارے بیٹھے تھے کہ اتنے میں کسی سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، میں آپ سے اللہ کے واسطے سوال کرتا ہوں، مجھے کچھ عنایت فرمائیے!! یہ سن کر حضرت خضر علیہ السلام پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب کچھ ہوش آیا تو فرمانے لگے: بھائی! میں تو صرف اپنی جان اور ذات کا مالک ہوں، تم نے مجھ سے اللہ کے واسطے سوال کیا ہے، لہٰذا میں اپنی جان اور ذات تمھارے حوالے کرتا ہوں، تم جس طرح چاہو، اس کو استعمال میں لاؤ، بازار میں فروخت کر کے اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ۔

چنانچہ وہ سائل آپ کو بازار لے گیا اور ایک شخص ساحمہ بن ارقم کے ہاتھ ان کو فروخت کردیا۔ یہ خریدار آپ کو لے کر اپنے گھر چلا گیا، اور گھر کے پیچھے والے اپنے باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا کہ یہ کدال لو اور سامنے والے پہاڑ (جو تین مربع میل رقبہ میں واقع تھا) مٹی کاٹ کاٹ کر باغ میں ڈالو۔ یہ حکم دے کر ساحمہ اپنے کسی کام سے بازار چلا گیا اور حضرت خضر علیہ السلام اس پہاڑ سے مٹی کاٹ کاٹ کر باغ میں ڈالنے لگے۔ جب ساحمہ گھر واپس آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے پوچھا: کیا غلام کو کھانا بھی کھلایا ہے یا نہیں؟ گھر والوں نے جواب دیا: ہمیں معلوم نہیں، غلام کہاں ہے!!! یہ سن کر جب ساحمہ خود کھانا لے کر باغ میں آیا تو دیکھا کہ وہ غلام پہاڑ کی مٹی کاٹ کرڈال چکے تھے اور اب ذکرِ الہیٰ میں مصروف تھے۔ یہ دیکھ کر ساحمہ کو بڑا تعجب ہوا اور اس نے اپنے غلام سے پوچھ ہی لیا، کون ہو تم ؟

یہ بات سن کر حضرت خضر علیہ السلام پر کچھ بے ہوشی طاری ہو گئی اور پھر کچھ آفاقہ ہونے پر فرمایا کہ بھائی! میں خضر ہوں۔ یہ سنتے ہی ساحمہ کے ہوش اڑ گئے کہ تو نے یہ کیا کیا؟ ان کو غلام بنا کر ایسے کام پر لگایا، یہ تو گستاخی ہوئی، پھر ہوش آنے پر ساحمہ نے توبہ کی کہ اللہ مجھ سے اس کا مواخذہ نہ فرمانا، کیونکہ میں ان کو جانتا نہ تھا اور پروردگار سے معافی مانگتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام کو آذاد کر دیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے دعا فرمائی اور سجدہ شکر بجا لائے کہ اے پروردگار!! میں تیرے ہی حق میں غلام بنا اور تیرے ہی حق میں آزاد ہوا، اس پر تیرا شکرگزار ہوں۔

جب دریا پر واپس آئے تو دیکھا کہ ایک شخص کھڑا دعا مانگ رہا تھا کہ اے میرے رب!! حضرت خضر علیہ السلام کو غلامی سے رہائی عطا فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمالے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے یہ دیکھ کر اس شخص سے پوچھا کہ آخر تو کون ہے؟ اس شخص نے کہا میں تو شاذون ہوں۔ آپ کون ہیں؟ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ میں خضر ہوں۔ اس کے بعد شاذون نے کہا۔ اے خضر! تم نے اپنے لیے رہنے کا مکان بنا کر دنیا طلب کی ہے ( کیونکہ حضرت خضر علیہ السلام کا دریا کے کنارے ایک عبادت خانہ تھا) پس یہ سن کر آپ فوراََ میدان میں نکل آئے اور وہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہو گئے۔

کچھ عرصہ بعد حضرت خضر علیہ السلام نے وہیں میدان میں ایک درخت لگایا اور اس کے سایہ میں عبادت کرنے لگے۔ ایک آواز آئی، اے خضر! جب تم نے درخت کے سایہ میں سجدہ کیا تو تم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم!!! مجھے دنیا کی محبت میں رضامندی نہیں ہے۔ اس کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے شاذون فرشتہ سے کہا کہ اے شاذون! دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرمائے۔ چنانچہ شاذون نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے شاذون کی دعا کی برکت سے حضرت خضر علیہ السلام کی توبہ قبول فرمالی۔

اس کہانی کا حاصل یہ ہے کہ خدا کہ برگزیدہ بندے اس حالت میں راضی رہتے ہیں جو اللہ کو منظور ہو۔ بے شک ہماری فلاح بھی اسی میں ہی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر آنے والے ہر دکھ سکھ میں ہم اللہ کی رضا میں خوش ہو کر شکر ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی چاہت کو سامنے رکھ کر زندگی گزاریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس واقعہ سے سبق حاصل کرکے نیک بننے کی توفیق عطا فرمائیں۔۔ آمین

101 سبق آموز واقعات – مولانا ہارون معاویہ (صفحہ: 19 سے 21)

سبق آموز واقعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں