historical event of Hajr-e-Aswad 126

حجر اسود کا تاریخی واقعہ، جب 22 سال تک حجر اسود خانہ کعبہ سے نکال کرایک ظالم حاکم کے پاس رہا

مسجد الحرام کے مرکز میں خانہ کعبہ کے مشرقی کنارے پر وہ مقدس پتھر نصب ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان حجر اسود کے نام سے جانتے ہیں۔ طواف کے ابتدا حجر اسود سے کی جاتی ہے اور یہ پتھر زمین سے ڈیڑھ میٹر بلند ہے۔ حجر اسود کے متعلق تاریخی روایات یہی ہیں کہ حجر اسود یاقوت کا وہ پتھر ہے جسے جنت سے اتارا گیا اور اسے جبل ابو قبیس میں رکھا گیا۔ اس پتھر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت خانہ کعبہ کی زینت بنایا اور اس کے بعد یہ خانہ کعبہ کا ایک جزو قرار پایا۔ حجر اسود سے متعلق سعودی گزٹ نے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ صرف ایک پتھر نہیں بلکہ یہ پتھر آٹھ چھوٹے ٹکڑوں سے مل کر بنا ہے، جن میں سے سب سے بڑے کی جسامت ایک کھجور کے برابر ہے۔

حجر اسود سے متعلق سعودی گزٹ کی معلومات تو آپ جان ہی چکے ہیں تاہم آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ حجر اسود نہ تو پانی میں ڈوبتا ہے اور نہ ہی اس پر آگ کا کچھ اثر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے تاریخ میں ایک واقعہ درج ہے کہ 7 ذی الحجہ 317ھ کو بحرین کے ایک حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کر لیا، خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال 317ھ کو حج بیت اللہ موقوف ہو گیا، کوئی بھی شخص عرفات نہ جا سکا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ اسلام میں پہلا موقع تھا کہ کوئی بھی مسلمان حج نہ کر سکا تھا۔ اسی ابو طاہر قرامطی نے حجر اسود کو خانہ کعبہ سے نکالا اور اپنے ساتھ بحرین لے گیا۔ پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر قرامطی کے ساتھ فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دے دیے، تب حجر اسود خانہ کعبہ کو واپس کیا گیا۔ یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ 22 سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا۔ جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلے میں خلیفہ وقت نے ایک بہت بڑے عالم اور محدث شیخ عبداللہ کو حجر اسود کی وصولی کے لیے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا۔ یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچ گئے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں حجر اسود کو ان کے حوالہ کیا گیا اور ایک پتھر خوشبودار اور خوبصورت غلاف میں سے نکالا گیا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود کی دو نشانیاں ہیں اگر یہ پتھر اس معیار پر پورا اترا تو یہ حجر اسود ہوگا اور ہم لے جائیں گے۔

پہلی نشانی یہ کہ پانی میں ڈوبتا نہیں ہے دوسری یہ کہ آگ سے گرم بھی نہیں ہوتا۔ اب اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو وہ ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا تو سخت گرم ہو گیا۔۔ فرمایا ہم اصل حجر اسود کو لیں گے پھر اصل حجر اسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا، پھر پانی میں ڈالا گیا وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محدث عبداللہ نے فرمایا یہی ہمارا حجر اسود ہے اور یہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے۔ یہ سب دیکھ کر ابو طاہر سلیمان قرامطی نے بڑے تعجب سے محدث عبداللہ سے پوچھا کہ آپ کو یہ باتیں کہاں سے معلوم ہوئیں؟ تو محدث عبداللہ نے جواب دیا کہ ہمیں یہ معلومات آقا محمد مصطفیٰ ﷺ سے ملی کہ حجر اسود پانی میں ڈوبے گا نہیں اور آگ سے گرم نہیں ہو گا۔

اس کے بعد جب قافلہ واپس مکہ کی طرف روانہ ہوا تو حجر اسود کو ایک کمزور اونٹنی پر رکھا گیا، جس نے تیز رفتاری سے اسے خانہ کعبہ تک پہنچا دیا، حجر اسود کی وجہ سے اس اونٹنی میں ذبردست طاقت آ گئی تھی کیونکہ حجر اسود اپنے مرکز بیت اللہ کی طرف واپس جا رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب حجر اسود کو بیت اللہ سے نکال کر بحرین لایا جا ریا تھا تو جس اونٹ پر بھی رکھا جاتا وہ کچھ فاصلہ کے بعد مر جاتا، حتیٰ کہ بحرین پہنچنے تک چالیس اونٹ مر گئے تھے۔ یہ واقعہ تاریخ کی مستند کتب البدایہ والنہایہ اور المنتظم میں موجود ہے۔

اللہ تعالی نے جب حجراسود جنت سے اتارا تو یہ دودھ سے بھی سفید تھا اور اولاد آدم کی خطاؤں اورگناہوں نے اسے سیاہ کردیا ہے، اورروزقیامت حجراسود آئے گا، تواس کی دو آنکھیں ہونگی ان سے دیکھے گا اور زبان ہوگی، جس سے بولے گا اورجس نے بھی اسے حق کے ساتھ استلام کیا اس کی گواہی دے گا، اوراسے چھونا یا اس کا بوسہ لینا یا اس کی طرف اشارہ کرنے سے طواف کی ابتداء ہوتی ہے، چاہے وہ طواف حج کا ہویا عمرہ کا یا نفلی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حجراسود کابوسہ لیا تھا اوران کی اتباع میں امت محمدیہ بھی اس کا بوسہ لیتی ہے ، اگربوسہ نہ لیا جاسکے تواسے ہاتھ یا کسی چيز سے چھوکراسے چوما جائے، اوراگراس سے بھی عاجز ہوتواپنے ہاتھ سے اشارہ کرے اوراللہ اکبر کہے، اورحجر اسود کوچھونے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے قریب تشریف لائے اور بوسہ لیا، پھر اسے مخاطب کر کے فرمانے لگے کہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، نہ تو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے، اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تیرا بوسہ نہ لیتا۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1250 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1720 )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں