How a minister entire life changed 5

وزیر کی ایک خواہش نے کیسے اس کی زندگی بدل دی

بادشاہ معمول کے مطابق وزراء سے سلطنت کے معاملات پر مشاورت کر رہا تھا، عام دنوں کی نسبت آج بادشاہ کا موڈ بہت اچھا تھا۔ ایسے موقعہ پر وزیر مشیر بادشاہ سے اکثر اپنی خواہشات منوا لیتے تھے۔ دربار میں ایک وزیر ایسا بھی تھا، جسے اپنی عقل مندی پر بہت غرور تھا اور وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ کیسے بادشاہ سے کوئی انعام طلب کرے، وہ بڑھا چڑھا کربادشاہ کی تعریفیں کر رہا تھا، بادشاہ بہت عقلمند تھا، وہ جانتا تھا کہ وزیر کیا چاہ رہا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر بادشاہ اس نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا، تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ وزیر بادشاہ کے اس سوال پر ایک دم سے حیران ہو گیا، بادشاہ پھر بولا کہ تم گھبراؤ نہیں، بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاؤ، آج تم جو بھی خواہش کرو گے، میں زبان دیتا ہوں کہ میں وہ پوری کرونگا۔ وزیربہت خوش ہوا اور عاجزی سے بولا حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں، میں جب بھی اس عظیم سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر اس کا دسواں حصہ بھی میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین انسان ہوتا۔ بادشاہ نے وزیر کی بات سن کر قہقہہ لگایا اور بولا میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟ وزیر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور عاجزی سے بولا! بادشاہ سلامت ایسا کیسے ممکن ہے، میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں۔ بادشاہ وزیر کی بات سن کر پلٹا اور مشیرکو فوراً احکامات لکھنے کا حکم دیا، بادشاہ نے دو حکم جاری کئے۔ پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا اور دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا۔

پہلا حکم سب کر تو وزیر خوشی سے نہال ہو گیا تھا لیکن دوسرا حکم اس پر قیامت بن کر برسا، اس کی جان پر بن آئی، وہ حیرانگی سے بادشاہ کو احکامات پر مہر لگاتے دیکھ رہا تھا، وزیر کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے، اس نے تو بس بادشاہ کے اچھے موڈ کی وجہ سے تھوڑی سی لالچ کر دی تھی۔ بادشاہ مسکراتے ہوئے وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کہ تمہارے پاس اب سے ایک ماہ کا ٹائم ہے، تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں، اگر تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت بطور انعام مل جائے گی اور اگر تم ناکام ہو گئے تو پہلا حکم خارج سمجھا جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا۔ وزیر کی حیرت پریشانی میں بدل گئی، اب اس کے منہ سے کوئی لفظ بھی نہ نقل رہا تھا۔ بادشاہ پھر بولا! تین سوال لکھ لو۔
پہلا سوال: انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
دوسرا سوال: انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
تیسرا سوال: انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟
اس کے بعد بادشاہ نےوزیر سے بآواز لہجے میں کہا کہ تمہارا وقت شروع ہوگیا ہے، بغیر جواب مت آنا اور پورے ایک ماہ بعد اگر تم نہ آئے تو تمھارے پورے خاندان کو سزا دی جائے گی۔ وزیر نے سوالات اٹھائے اور دربار سے دوڑ لگا دی۔ وزیر نے اسی دن ملک بھر کے تمام دانشوروں، ادیبوں، مفکروں اور ذہین ترین افراد جمع کئے اور سوالات ان کے سامنے رکھ دیئے۔ ملک بھر کے دانشور ساری رات بحث کرتے رہے لیکن کوئی بھی جواب تک نہیں پہنچ پا رہا تھا، وزیر نے دوسرے دن قریب ریاستوں سے دانشور بلوائے لیکن نتیجہ وہی نکلا، کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ مل سکا، یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر دارالحکومت سے باہر نکل گیا۔ وہ سوال لے کر پورے ملک میں پھرا، مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا، وہ مارا مارا پھرتا رہا، شہر شہرگاؤں گاؤں کی خاک چھانٹتا رہا، شاہی لباس پھٹ گیا، پگڑی ڈھیلی ہو کر گردن میں لٹک گئی، جوتے پھٹ گئے اور پاؤں میں چھالے پڑ گئے، یہاں تک کہ آخری دن آ گیا، اگلی صبح اس نے دربار میں پیش ہونا تھا۔ وزیر کو یقین ہو گیا کہ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے، کل اس کی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم شہر کے مرکزی پُل پر لٹکا دیا جائے گا، وہ اب اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ کیوں اس نے لالچ کی، وہ مایوسی کے عالم میں سوچتے سوچتے شہر سے بہت دور کچی آبادیوں میں پہنچ گیا، ہر طرف اندھرا پھیل چکا تھا، دور ایک پہاڑی کی چوٹی پر اسے ایک جھونپڑی دکھائی دی، وہ گرتا پڑتا اس پہاڑی تک پہنچ گیا، کیا دیکھتا ہے کہ جھونپڑی میں ایک فقیر ہے اور وہ سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا، فقیر کے پاس ہی ایک کتا بھی تھا جو دودھ کا پیالے سے دودھ پی رہا تھا۔

فقیر نے وزیر کی حالت دیکھی تو مسکراتے ہوئے بولا، آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں، آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس ہیں۔ وزیر بڑی حیرت سے فقیر کی جانب دیکھنے لگا کہ اسے کیسے پتہ ہے پھر پوچھ ہی لیا کہ آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا، میں کون ہوں اور میرا مسئلہ کیا ہے۔ فقیر نے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چھابے میں رکھے اور مسکرا کر اپنا بوریا اٹھایا اور وزیر سے کہا یہ دیکھئے، آپ کو بات سمجھ آ جائے گی۔ وزیر نے جھک کر دیکھا تو بوریئے کے نیچے شاہی خلعت بچھی تھی، یہ وہی لباس تھا جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراء کو عنایت کیا کرتا تھا۔ فقیر پھر بولا کہ جناب عالی میں بھی کبھی اس سلطنت کا وزیر ہوتا تھا، میں نے بھی ایک بار آپ کی طرح بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کر لی تھی، نتیجہ آپ خود دیکھ لیجئے۔ فقیر نے اس کے بعد سوکھی روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں ڈبو کر کھانے لگ گیا۔ وزیر نے دکھی دل سے پوچھا، کیا آپ بھی جواب تلاش نہیں کر سکے تھے؟ فقیر پھر مسکرایا اور جواب دیا، نہیں میرا معاملہ آپ سے مختلف تھا، میں نے جواب ڈھونڈ لئے تھے، میں نے بادشاہ کو جواب بتائے، آدھی سلطنت کا پروانہ پھاڑا، بادشاہ کو سلام کیا اور اس جھونپڑی میں آ کر بیٹھ گیا، آج میں اور میرا کتا دونوں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سب سن کر وزیر کی حیرت پہلے سے کہیں گنا بڑھ گئی، وزیر سوچ میں ڈوب گیا کہ یہ کہیں کوئی پاغل آدمی تو نہیں، جس نے آدھی سلطنت ٹکرا دی اور فقیروں والی زندگی بسر کر رہا ہے، وزیر اپنی پریشانی بھول کر اس فقیر کو دل میں کوسنے لگا، پھر جیسے ہی ہوش آیا کہ میرے سوالوں کا آج آخری دن ہے تو فوراََ فقیر سے مدد طلب کی اور فریاد کی کہ اسے ان تینوں سوالوں کے جوابات دے تاکہ میں بس اپنی جان بخشوا سکوں اور میں بادشاہ سے کچھ نہیں لوں گا، میں لعنت ڈالتا ہوں کہ ایک لالچ کی وجہ سے میں اتنا ذلیل ہو گیا ہوں۔

وزیر نے فقیر سے پوچھا، کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں؟ فقیر نے پہلے تو ہاں میں گردن ہلائی، پھر بولا کہ میں پہلے دو سوالوں کا جواب مفت دوں گا لیکن تیسرے جواب کےلئے تمہیں قیمت ادا کرنا ہو گی۔ وزیر کے پاس شرط ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا تو اس نے فوراً فقیر کی بات مان لی۔ وزیر کو بس جواب چاہئیے تھے۔ آخر فقیر بولنا شروع کیا اور پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے، انسان کوئی بھی ہو، کچھ بھی ہو، بادشاہ ہو یا فقیر وہ اس سچائی سے نہیں بھاگ سکتا۔ فقیر کچھ لمحے رکا اور پھر دوسرے سوال کا جواب دینے لگا کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے، ہم میں سے ہر شخص زندگی کو ہمیشہ رہنے والی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے۔ فقیر کے دونوں جواب ناقابل تردید تھے، وزیر سرشار ہو گیا۔ اس نے اب تیسرے جواب کے لئے فقیر سے شرط پوچھی، فقیر نے عاجزی سے شرط بتائی کہ یہ دودھ پیو اور کتے کے آگے سے دودھ کا پیالہ اٹھا کر وزیر کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ میں آپ کو تیسرے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ یہ دودھ نہیں پیتے۔ وزیر کے ماتھے پر کوفت سے پسینہ آ گیا، اس نے نفرت سے پیالہ زمین پر رکھ دیا، وہ کسی قیمت پر کتے کا جوٹھا دودھ نہیں پینا چاہتا تھا، وزیر نے صاف انکار کر دیا تب فقیر بولا کہ تمہارے پاس اب دو ہی راستے ہیں، یا تو تم انکار کر دو اور شاہی جلاد کل تمہارا سر اتار دیں یا پھر تم یہ آدھ پاؤ دودھ پی جاؤ اور تمہاری جان بھی بچ جائے اور تم آدھی سلطنت کے مالک بھی بن جاؤ گے۔ وزیر سوچ میں ڈوب گیا، ایک طرف زندگی اور آدھی سلطنت تھی اور دوسری طرف کتے کا جوٹھا دودھ تھا، کچھ لمحے وہ سوچتا رہا، پھر آدھی سلطنت کا مالک بننے کے خیال نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ یہ دودھ پی لے، چناچہ وزیر نے پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں دودھ پی گیا اور فقیر سے تیسرے سوال کا جواب مانگا۔ فقیر بولا! انسان کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہوتی ہے، یہ اسے کتے کا جوٹھا دودھ تک پینے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ پھاڑ کر اس جھونپڑی میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا، میں جان گیا تھا، میں جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آتا جاؤں گا، میں موت کی سچائی کو فراموش کرتا جاؤں گا اور میں موت کو جتنا فراموش کرتا رہوں گا، میں اتنا ہی غرض کی دلدل میں دھنستا جاؤں گا اور مجھے روز اس دلدل میں سانس لینے کے لئے غرض کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا، لہٰذا میرا مشورہ ہے، زندگی کی ان تینوں حقیقتوں کو جان لو، تمہاری زندگی اچھی گزرے گی۔

وزیر شرمندگی کا تحفہ لے کر فقیر کی جھونپڑی سے نکلا اور محل کی جانب چل پڑا، راستے میں وہ خود کو کوستا رہا کہ لالچ نے اسے کتے کا جوٹھا دودھ تک پلا دیا، وہ جوں جوں محل کے قریب پہنچ رہا تھا اس کے احساس شرمندگی میں اضافہ ہو رہا تھا، اس کے اندر ذلت کا احساس بڑھ رہا تھا، لیکن پھر سے لالچ اس پر حاوی ہونے لگی اور وہ سوچنے لگا کہ اب جب وہ انعام میں بادشاہ کی آدھی سلطنت پا لے گا تو وہ خود بھی ایک بادشاہ بن جائے گا، وہ اس احساس کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا، کہ اچانک سامنے محل کا دروازہ سامنے دیکھ کر گھوڑا روکنے کی کوشش کی، رفتار ذیادہ ہونے کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گرا، لمبی ہچکی لی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی، اور یوں اس کی غرض اسے موت تک لے گئی۔

ہمیں کسی دن کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر زندگی کے ان بنیادی سوالوں پر ضرور غور کرناچاہیے، ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم لوگ کہیں زندگی کے دھوکے میں آ کر غرض کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے، ہم لوگ کہیں موت کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے، ہم کہیں اس کہانی کے وزیر تو نہیں بن گئے ، مجھے یقین ہے ہم لوگوں نے جس دن یہ سوچ لیا اس دن ہم غرض کے ان غلیظ پیالوں سے بالاتر ہو جائیں گے، اور اپنے رب کو پا لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں