How did Mughal king Shah Jahan become King 2

مغل بادشاہ شاہ جہاں بادشاہ کیسے بنا؟

زبان ہی انسان کو بادشاہ بنا دیتی ہے اور یہ زبان ہی ہے جو انسان کو ذلیل کروا دیتی ہے۔ زبان اچھی تب ہی ہو گی جب آپ میں عقل سمجھ ہو گی۔ زبان اور عقل کے رشتے کو واضح کرنے کے لئے ایک مغل بادشاہ کا قصہ سنتے ہیں۔

آپ نے مغل بادشاہ جہانگیر کا نام تو سنا ہی ہو گا، شہنشاہ جہانگیر کا اصل نام نورَ دین محمد سلیم تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے کئی شادیاں کیں اور جہانگیر کے 5 بیٹے تھے۔
پہلا خسرو مرزا
دوسرا بیٹا پرویز مرزا
تیسرا بیٹا شاہ جہاں مرزا
جہانداد مرزا
اور آخری بیٹا شہریار مرزا تھا۔

شہنشاہ جہانگیر کی بیس بیویاں تھیں، انہی میں سے ایک نور جہاں بھی تھی، جو شہنشاہ جہانگیر کی بیسویں اور آخری بیوی تھی جبکہ نور جہاں کی بھی یہ دوسری شادی تھی، شیر اغگن خان نور جہاں کا پہلا شوہرتھا جس سے ایک بیٹی مہرنِساء تھی۔ شیر اغگن کے مرنے کے بعد شہنشاہ جہانگیر نے نور جہاں سے شادی کر لی۔ شہنشاہ جہانگیر اپنی بیگم نور جہاں کے بہت زیرِ اثر تھا اور اس کا ہر کہنا مانتا تھا۔ اب نور جہاں کی خواہش تھی کہ اس کی بیٹی مہرنِساء کی شادی شہنشاہ جہانگیر کے بیٹے شہریار مرزا سے ہو جائے اور شہریار مرزا ہی شادی کے بعد ہندوستان کا اگلا بادشاہ بنے۔ شہنشاہ جہانگیر اپنی بیگم نور جہاں سے بہت پیار کرتا تھا مگر اس بات پر آ کر بادشاہ ٹال دیتا، ملکہ کے تمام تر اسرار کے باوجود شہنشاہ جہانگیر اپنے بیٹوں میں سے شاہ جہاں کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ تکرار بڑھتی گئی اور بیگم نور جہاں نے ایک دن شہنشاہ جہانگیر سے فیصلہ سنانے کو کہا کہ آپ شہریار کو ولی عہد بنائیں گے یا نہیں؟؟ بادشاہ اب بری طرح سے پھنس گیا تھا، چند لمحے وہ خاموش رہا پھر سوچتے ہوئے بولا کہ یہ فیصلہ کیوں نہ دونوں بیٹوں پر ہی چھوڑ دیا جائے۔

ملکہ نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیسے، شہنشاہ بولا کہ ہم دونوں کو بلاتے پیں ایک ایک سوال پوچھتے ہیں اور جس کا جواب ذیادہ اچھا ہو گا، ہم اسے ہندوستان کا ہونے والا بادشاہ نامزد کر دیں گے۔ ملکہ نور جہاں مان گئی۔
دونوں بیٹوں کو بلایا گیا اور بادشاہ نے دونوں سے ایک ہی سوال پوچھا:
ہم اگر تمھیں ہندوستان کا بادشاہ بنا دیں تم اس ملک کی کس طرح حفاظت کرو گے۔ شہزادہ شہریارنے پہلے جواب دیا اور بولا۔ ابا حضور! اگر آپ نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی تو میں ماں کی طرح ہندوستان کی خدمت کرونگا۔ بادشاہ نے فوراََ پوچھا، ماں کی طرح ہی کیوں؟؟ شہزادہ شہریار نے جواب دیا، اباجان! ماں ہمیں پیدا کرتی ہے، ہماری حفاظت کے ساتھ ساتھ پرورش بھی کرتی ہے۔ ماں نہ ہو تو نہ ہم پیدا ہوں اور نہ ہی پھل پھول سکیں۔ ماں اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی مقدس ترین ہستی ہے، اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے، چنانچہ میں اپنے ملک کو ماں سمجھ کر اس کی خدمت کرونگا۔ شہنشاہ اور ملکہ دونوں ہی اس جواب سے کافی متاثر ہوئے اور پھرشہنشاہ نے دوسرے بیٹے شاہ جہاں سے بھی یہی سوال کیا۔

شاہ جہاں نے جواب دیا کہ میں صرف اس ملک کی خدمت نہیں کرونگا، بلکہ میں بس اس سے محبوب کی طرح محبت کرونگا۔ شاہ جہاں کا جواب شہنشاہ کے ساتھ ساتھ ملکہ کے لئے بھی بہت ہی حیران کن تھا، شہنشاہ نے پھر پوچھا، ہم آپ کا مطلب نہیں سمجھے۔ تب شاہ جہاں نے اپنی بات کو آگے بڑھایا اور کہا ” حضور! ماں سے محبت ایمان کا حصہ ہے مگر آج تک کبھی کسی بیٹے نے اپنی ماں کے لئے جان نہیں دی، لیکن دنیا میں محبوب ہی وہ واحد رشتہ ہے جس کے لئے لوگ جان دیتے بھی ہیں اور جان لیتے ہیں اور میں بھی اس ملک کو اپنی محبوبہ سمجھوں گا اور محبوب کے لئے اگر مجھے جان لینا پڑی تو لونگا اور اگر جان دینا پڑی تو اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ “۔ شاہ جہاں کا جواب سن کر شہنشاہ مسکرا پڑا اور اپنی پیاری ملکہ کی طرف دیکھا، ملکہ خاموش تھی، فیصلہ ہو چکا تھا کہ ہندوستان کا ولی عہد کون ہو گا۔

شہنشاہ جہانگیر 28 اکتوبر 1627 کو انتقال پا گیا اور تخت و تاج اب شاہ جہاں کا ہو گیا اور 30 سال تک شاہ جہاں ہندوستان کا شہنشاہ بن کر رہا، کہا جاتا ہے کہ یہی وہ 30 سال تھےجن میں شاہ جہاں نے کئی کارنامے انجام دیئے۔ جن میں تاج محل سرفہرست ہے۔ تاج محل دنیا کے 7 عجوبوں میں شامل ہے، یہ ہندوستان میں گنبد والی پہلی عمارت ہے اور اس پر اس دور میں 32 ملین ہندوستانی روپے لاگت آئی اور اس طرح سے تاج محل اس وقت کا مہنگا ترین شاہکار بن گیا تھا۔ لاہور قلعے کی موتی مسجد، شیش محل اور دہلی کا لال قلعہ بھی شاہ جہاں نے بنوایا۔ لاہور کے شیش محل کا پرانا نام سونے کا محل تھا کیونکہ یہ سونے کا بنا ہو تھا لیکن جب شاہ جہاں کی بیوی ملکہ ممتاز کو پتا چلا تو اس نے شاہ جہاں سے کہا کہ سونے کے محل تو پوری دنیا میں ہیں، آپ اگر مجھ سے محبت کرتے ہیں تو مجھے ستاروں کا محل بنوا کر دیں۔ شہنشاہ شاہ جہاں نے غلاموں کو حکم دیا، محل گر دیا جائے، محل گرا دیا گیا جس کے بعد اسی جگہ پر شیشوں کا محل یعنی شیش محل بنایا گیا۔ کبھی آپ اندھیرے میں اس محل کو ٹارچ سے دیکھیں تو ایسے ہی لگتا ہے جیسے یہ ستاروں کو محل ہو۔

اس کے علاوہ شاہ جہاں کے شاہکاروں میں دہلی کے کتب مینارکی توسیع ، لاہور کی مسجد وزیر خان، دہلی کی جامع مسجد، ٹھٹھہ کی شاہ جہاں مسجد بھی شامل ہے۔ دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا کوہِ نور بھی شاہ جہاں نے ہی سب سے پہلے اپنے تاج میں لگوایا تھا جو آج ملکہ برطانیہ کے پاس ہے۔ عمارات کے علاوہ شاہ جہاں کے کمالات میں مغل آرٹ، مغل موسیقی اور مغل لٹریچر کا پروان بھی شامل ہے۔ یعنی شاہ جہاں نے جو اپنے والد سے کہا تھا، وہ کر کے دکھایا، زمین سے محبت، اپنے وطن کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کی انتہا کر دی۔ لیکن یہ سب کرتے کرتے وہ وطن کی جگہ ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اپنی عقل سے محروم ہو گیا اور 1658 میں شاہ جہاں کے ہی بیٹے جہانگیر نے تختہ الٹ کر شاہ جہاں کو قید کر دیا اور اس طرح کل کا سب سے طاقتور ترین انسان آج کچھ نہ رہا۔ یہ عقل اور زبان ہی تھی کہ جس نے مغلوں کو مجبور کیا کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو زبان دیں اور پھر اسی عقل اور زبان نے مغلوں کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ کل کا دنیا کا طاقتور ترین اور پیسے والا ملک غلامی میں چلا گیا۔

جہاں ایک طرف دنیا یونیورٹیز اور ہسپتال بنا رہی تھی وہیں مغل بادشاہ پانی کی پیسہ اپنے اور اپنی بیویوں کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے شاہی عمارتیں بنوا رہے تھے۔ اور پھر انجام تو یہی ہونا تھا۔ وقت نے بتایا کہ عقل کامل علم سے آتی ہے اور زبان بھی کامل علم سے ہی الفاظ کا چناؤ کرتی ہے۔ اگر علم کامل نہ رہے تو انسان بھی گمراہی کی کھائی میں چلے جاتا ہے اور وہ فیصلے کرتا ہے جو اسے کہیں کا نہیں چھوڑتے۔ اس لئے خود علم حاصل کریں، کامل علم۔ اور اپنی عقل اور زبان کو اپنے لئے فائدہ مند بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں