Lahore Attack near Data Darbar 7

لاہور کو پھر نشانہ بنایا گیا- داتا دربار دھماکہ

آج صبح آٹھ بج کرسینتالیس میٹ کے قریب لاہور میں داتا دربارکے گیٹ نمبر2 کے قریب ایلیٹ فورس کی گاڑی کے پاس دھماکا ہوا ہے۔ ایلیٹ فورس کے جوان داتا دربار کی سیکیورٹی پر معمورتھے۔ دھماکے میں 8 افراد شہید ہو چکے ہیں،جن میں 5 پولیس اہلکاروں کے شہید ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کر دی گئی ہیں اور چوبیس سے زائد زخمی افراد کو میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جب کہ جائے وقوع پرپولیس کی بھاری نفری اور فورسز پہنچ چکی ہے۔ دھماکہ کی شدت بہت زیادہ تھی جس کی آواز دوردور تک سنی گئی ہے، قریب عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ پولیس کی گاڑی کوشدید نقصان پہنچا ہے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینسز اورریسکیو اہلکاروں کو فوری مدد کے لیے طلب کیا گیا اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ زخمیوں میں زیادہ تر پولیس کے جوان شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 4 سے 6 افراد کی حالت بہت نازک ہے۔ ریسکیو حکام نے خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء بھی اکھٹے کر لئے ہیں۔ جائے وقوع سے مزید شواہد اکھٹے کرنے کا عمل جاری ہے۔

حادثے کی جگہ پر عام معمولات میں بہت رش ہوتا ہے لیکن رمضان اور سکول و دفاتر کی ٹائمنگ کی وجہ سے عوام کی بہت زیادہ تعداد نہیں تھی۔ خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ خودکش حملہ آور داتا دربار کے اندر جانا چاہتا تھا، پولیس کے روکنے پر اس نے خود کو اڑا لیا۔ تاہم ابھی تک کسی نے بھی اس دھماکے کی زمہ داری قبول نہیں کی۔ DG آپریشنز نے میڈیا سے انتظار کا کہا ہے کہ تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا- عوام سےزخمیوں کے لئے دعاوں کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس وین کے ڈرائیور جو معجزانہ طور پر بچ گیا، کا کہنا ہے کہ میں سامنے بنک میں گیا تھا، ATM کے پاس جاتے ہی دھماکہ ہو گیا، بھاگتا ہوا واپس آیا تو ساتھی خون میں لت پت تھے۔

وزیرِاعظم نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کی ہے اور فوری رپورٹ طلب کر لی گئی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں