Life is of knowledge or by practice 7

زندگی علم سے بنتی ہے یا عمل سے

ایک تاجراپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی گزار رہا تھا لیکن اچانک اس تاجر کی موت واقع ہو گئی، جس کے بعد اس کا خاندان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہوئے پریشانیوں میں میں ڈوب گیا، یہاں تک کہ اب کھانے کے بھی لالے پڑ گئے۔ آخرکار ایک دن تاجر کی بیوی نے اپنے بیٹے کو ہیروں کا ایک ہار دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا، اس ہار کو احتیاط سے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ اور کہنا کہ اس ہار کو بیچ کر کچھ پیسے دے دیں، تاکہ ہم اپنی گزربسر کر سکیں۔ ماں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ ہار بہت قیمتی ہے اور بہت اچھے پیسے مل جائیں گے۔

بیٹا ہیروں کا وہ ہار لے کر اپنے چچا کے پاس گیا اور چچا کو ساری بات بتائی اور یہ بھی بتایا کہ ہار بہت مہنگا ہے، تو چچا نے پہلے تو ہار کو عجیب سی نظر سے دیکھا، پھر ہار کو اچھی طرح دیکھنے اور پرکھنے کے بعد اپنے بھتیجے سے کہا، بیٹا اپنی ماں سے کہنا کہ آجکل مارکیٹ بہت زیادہ مندی چل رہی ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرلیں، بعد میں بیچنے پر کا فی اچھے دام مل جائیں گے۔ اس کے بعد چچا نے لڑکے کو تھوڑے پیسے دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیسے اپنی والدہ کو دے دینا اور تم کل سے میرے پاس دکان پر آکر کام سیکھو۔ بیٹے نے واپس جا کر ماں کو ساری بات بتائی اور ہار بھی دیا۔ ماں نے بیٹے کو چچا کے پاس کام سیکھنے کی اجازت دے دی۔ اگلے دن سے وه لڑکا چچا کی دکان پر کام سیکھنے کے لئے جانے لگا اور وہاں سونا، چاندی، ہیرے اور جواہرات کی پرکھ اور بیچنے کا کام سیکھنے لگا۔ چچا اسے معقول تنخواہ دینے لگ گیا، جس سے گھر کے کافی حد تک مالی مسائل کم ہونا شروع ہو گئے۔

ایک سال بعد وه لڑکا ایک ماہر جوہری بن گیا، اور اس کی رائے کی تعریف دور دور سے آنے والے لوگ بھی کرنے لگ گئے تو ایک دن چچا نے لڑکے سے کہا، بیٹا اپنی اماں سے وه ہیروں کا ہار لے کر آنا اور بتانا کہ اب مارکیٹ میں کافی تیزی ہے اور ہارکے دام اچھے مل جائیں گے۔ بیٹا جب اگلے دن کام پر آنے لگا تو اس نے ماں سے ہار لے کر پرکھا تو وہ بھی ایک بار حیران رہ گیا کہ وه ہار تو جعلی اور نقلی ہے۔ ماں کو ہار واپس دے کر وہ دکان پر آ گیا تو چچا نے اسے دیکھ کر پوچھا، ہار نہیں لائے؟ لڑکے نے جواب دیا کہ وه ہار تو نقلی ہے، اس کے کوئی کیا پیسے دیگا۔ جواب سن کرچچا جان مسکرائے اور کہا، جب تم پہلی بار وہ ہیروں کا ہار میرے پاس لے کر آئے تھے، اسی وقت میں ہار دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا اور مجھے یاد آگیا تھا کہ تمھارے والد نے بتایا تھا کہ ان کے ایک دوست نے انھیں ہیروں کا ہار تحفے میں دیا تھا، اگر میں تمھیں اس وقت بتا دیتا کہ ہار نقلی ہے تو تم یقیناََ سوچتے کہ آج ہم پر برا وقت چل رہا ہے تو چچا ہماری چیز کو جعلی بتا کر کم پیسوں میں خریدنا چاہتے ہیں۔ اب جب تمہیں خود ہیروں کی پرکھ کا علم ہو گیا ہے توتمھیں پتہ چل گیا کہ ہار جعلی ہے۔ تب بتانے سے تم نے مایوس بھی ہو جانا تھا لیکن آج تمھارے پاس ایک ہنر ہے، اس لئے تمھیں کوئی فرق نہیں پڑا۔

دوستو! حقیقت بھی یہی ہے کہ علم کے بغیر ہم جو بھی اس دنیا میں سوچتے، دیکھتے، محسوس کرتے اور جانتے ہیں، زیادہ تر سب غلط ہوتا ہے اور ایسے ہی ہم غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اپنے اچھے بھلے رشتوں کو بگاڑلیتے ہیں، لیکن بعض اوقات ہمارے پاس علم تو ہوتا ہے لیکن وہ علم ہماری سوچ کو بدل نہیں پاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں