Mardana Kamzori A Real Story 8

کہیں آپ بھی کسی مردانہ کمزوری کا شکار تو نہیں

— مردانہ کمزوری ۔۔

مرد اورعورت یکساں طور پر یہ تحریر پڑھ سکتے ہیں۔

ایک آدمی اپنی بیوی کے طعنوں سے تنگ آ کرمشہورحکیم کے پاس جاتا ہے، اب یہ سچی کہانی حکیم کی زبانی سنیں۔

ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻣﺠﮭﮯ روز ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮ، ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺻﻔﺎﺕ ہی ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ بلا بلا۔ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، کہ ﺟﺲ شخص ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ، اس کی کیا حالت ہوگی۔ ﻣﯿﮟ اس  شخص کو ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﺒﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ، اور معائنہ شروع کیا، ﺿﺮﻭﺭﯼ ﭨﯿﺴﭧ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻭﮦ شخص ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ، ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ،نہ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ اس کے علاوہ اس شخص کے پہلے ہی ﺩﻭ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔ سوچ رہا تھا کہ آخر اس کی بیوی اسے ایسے طعنے کیوں دیتی ہے، جب کہ یہ تو بالکل ٹھیک ہے۔

ﺧﯿﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﻮﺗﻮ ﻣﻨﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ، ﺗﻮ ﺍس شخص کو ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐچھ ادویات ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺩﻥ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﺁﻧﮯ کو ﮐﮩﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺮﯾﺾ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺩﻥ سے پہلے ہی صبح صبح ﻭﺍﭘﺲ ﺁگیا، ﺍﺳﮑﯽ ﺣﺎﻟﺖ دیکھ کر ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ شخص ﺫﮨﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ہی ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ، ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﻮﯼ کی ﻭیسی ہی ﺷﮑﺎﯾاﺖ ﮨیں۔ وہ شخص بے اختیار بولنے لگا۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ خدا کے لئے ﮐچھ ﮐﺮﯾﮟ، ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭧ ﮔﮭﭧ ﮐﮯ ﻣﺮﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ، میں تنگ آ گیا ہوں اس زندگی سے، ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺷﻮﮨﺮ ﭘﺮﺍﺳﮑﯽ اپنی ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﺫﮨﻨﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، وہ بھی دو بچوں کے ہوتے ہوئے۔

پہلے تو میں نے سوچا کہ اسے کچھ دن کی دوائی اور دے کر تھوڑی کمائی کر لوں تاکہ پہلی بونی ہو جائے مگر پھر اس کی حالت پر ترس آگیا اور بہت سوچنے کے بعد میں نے اسے کہا ﮐﮧ کل ﺷﺎﻡ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮﺳﺎتھ لائے، ﺍﮔﻠﮯ ہی ﺩﻥ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ میاں بیوی ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ، پہلے تو کچھ لمحے میں اس کی بیوی کو حیرانگی سے دیکھتا رہا کہ آخر یہ کیوں اپنے شوہر کو زلیل کر رہی ہے، پھر بولا ﮨﺎﮞ جی ﺑﯽ ﺑﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ۔

ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻭﮦ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮانتہائی ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺍس عورت کی ﺑﮯ ﺑﺎﮐﯽ ﭘﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺍﺳﮑﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮِ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺍپنی بیوی ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭپھر ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﻃﻠﺐ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﻮﺭﻧﮯ ﻟﮕﺎ، اس سب سے ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺟُﮭﻼ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ آخر یہ ﮐﯿﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﺫﺭﺍ سی ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻡ ﺣﯿﺎ اس میں ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، شاید اس کا یا تو کسی اور مرد سے چکر ہے جس کی وجہ سے یہ عورت ایسا سب کر رہی ہے، ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻡ ﻭ ﺣﯿﺎ ﮐﺎ ﺗقاﺿﺎ بالائےطاق ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ اس عورت سے ﺗﯿﺰ ﺗﯿﺰ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ، اور ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ آخر ﻣﺴﺌﻠﮧ کیا ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ، جب کے سارے ٹیسٹ کے بعد پتا چلتا ہے کہ تمہارا شوہر توبالکل ٹھیک ہے، تم آخر چاہتی کیا ہو، کیوں اپنے شوہر کو زلیل کر رہی ہو۔
میرے رکتے ہی وہ عورت تیز لہجے میں ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ الحداللہ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻭ ﺑﭽﮯ ﮨﯿﮟ اور ﻭﮦ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺑﯽ ﺑﯽ ﭘﮭﺮآپ کے شوہر ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺋﮯ؟ جس پر وہ عورت ایک لمبی آہ بھر کر بولی۔

ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ! ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ ﺩﯾﮩﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﮨﯿﮟ، ﮨﻢ ﺩﻭ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﮨﻤﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ بھی گھر میں بابا نے ﺩﯼ ﺭﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﻼﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ یہاں ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘّﯽ پکارتے ﮨﯿﮟ، بتائیں ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺻﻔﺖ ﮨﮯ، ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻣجھ ﺳﮯ اگرﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ میری اس غلطی پر ﻣﯿﺮﮮ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﯿﮑﮯ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﻧﻨﮕﯽ اور گندی ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، آپ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ میرے میکے کا ﮐﯿﺎ ﻗﺼﻮﺭ ﮨﮯ، کیا ﯾﮧ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺻﻔﺖ ہے کہ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮭﺮ ﻭالوﮞ ﮐﻮ ﮔﺎلیاں ﺩﯼ جائیں۔ کچھ لمحے وہ عورت رکی پھر بولی۔

ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ! ﻣﯿﺮﮮ پیارے ﺑﺎﺑﺎ جان ﻣﺠﮭﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺍﻭﺭمیرے شوہر مجھے ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﺠﺮﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‏جبکہ ﻣﺮﺩ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﻨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﯽ ہی ﻋﺰﺕ ﺩﮮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻨﺠﺮﯼ ﺭﮨﮯ ہی نہ، خاص کر اگر وہ مسلمان بھی ہو ﺍﻭﺭ ﯾﮧ میرا شوہرﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮐﻨﺠﺮﯼ ﭘﮑﺎﺭتا ہے، ﯾﮧ توﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺑﺎﺕ نہ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﺎ! یہ بات بات پر مجھ پر ہاتھ اتھاتے ہیں کیا یہ مردانہ کمزوری نہیں۔ ہر بار غصے میں طلاق کی دھمکی دیتے ہیں کیا یہ مردانہ کمزوری نہیں ہے۔

یہ اپنے ماں باپ اور بہنوں کے سامنے مجھے زلیل کرتے ہیں جبکہ شادی کے بعد مرد پر سب سے پہلا حق اسکی بیوی کا ہوتا ہے، کیا یہ مردانہ کمزوری نہیں ہے، مرد تو گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کا کام تو رشتوں کو جھورنا ہوتا ہے، ماں باپ کی عزت بیوی کے دل میں ڈالنا اور بیوی کی عزت خاندان میں، اگر شوہر ہی اپنی بیوی کو عزت نہ دے تو باقی خاندان بھی نہیں کرتا، بتائیں کیا یہ مردانہ کمزوری نہیں۔

میرے بابا اپنی بیٹیوں کو اللہ کی رحمت کہتے تھے اور میرے شوہر اپنی بیٹی کوبوجھ کہتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں جبکہ بیٹے سے اتنا ہی زیادہ پیار کرتے ہیں، کیا یہ ایک مسلمان مرد کو زیب دیتا ہے کیا یہ مردانہ کمزوری نہیں ہے۔

ﺍﺏ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﭖ ہی ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ! ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ؟

ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، اور کوئی لفظ میں منہ سے نہ نکال سکا جبکہ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﺎﮌ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ جانب سوالیہ نظروں سے ﺩیکھ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، جیسے سوچ رہا ہو کہ ﺍﮔﺮبس ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﺎ، مجھ ﭘﺮ ﺫﮨﻨﯽ ﭨﺎﺭﭼﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ؟

ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، اور کوئی لفظ میں منہ سے نہ نکال سکا جبکہ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﺎﮌ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ جانب سوالیہ نظروں سے ﺩیکھ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، جیسے سوچ رہا ہو کہ ﺍﮔﺮبس ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﺎ، مجھ ﭘﺮ ﺫﮨﻨﯽ ﭨﺎﺭﭼﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ؟
اس شخص کی بیوِی میرِی خاموشی دیکھ کراپنے شوہر کی طرف دیکھ کر بولنے لگی جیسے وہ اپنے شوہر کے سوالات سمجھ گئی تھی، ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ! ﺁﭖ ﺟﺐ جب ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺭﺷﺘﮯ ﺟﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ؟ جب آپ مجھے گالیاں دیتے ہیں ، مارتے ہیں، گھر سے نکالنے، طلاق کی دھمکیاں دیتے ہیں، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ؟ جب آپ مجھے بہن بھائیوں کے سامنے رسواہ کرتے ہیں، زلیل کرتے ہیں، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ؟

میں ﺍﺗﻨﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﭘکے ﮐﯿﺎ کیا ﺫﮨﻨﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ، آپ کو اندازہ بھی ہے۔ کیا میں انسان نہیں ہوں؟ کیا میرا حق نہیں بنتا کہ آپ میری عزت کریں؟ میں آپ کی بیوِی ہوں، میں آپ کے بچوں کی ماں ہوں، آپ کی شریکِ حیات ہوں، کیا میرا حق نہیں بنتا خوش رہنے کا؟ اچھی زندگی گزارنے کا؟ کیا میرے کوئی جزبات نہیں؟ اس کا شوہر سر جھائے سب سنتا رہا۔

ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ تو ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ لیکن ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ کہ کیسا بدبخت مرد تھا، اور خاتون کی باتیں میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی۔ کیبن سے ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺑﻮﻻ، ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻭﮦ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ جو ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ پہلے ہی ﭘﯿﮏ ﮐﺮدی تھی، اس آدمی کو ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﭘﺮﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﺗﯿﺰ ﻧﮑﻠﯽ۔
ﺍﺳﻨﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ مجھ سے پکڑ کر ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﭘﺮدے ﻣﺎﺭﯼ … اورﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻣﺮﺩ ﻟﭩﯿﺮﮮ ﺣﮑﯿﻢ بھی ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺩﯾﻨﺎ ۔

ﮐﯿﺎ ………… ؟

ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮔﺎﻟﯽ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﺭﮎ گئی۔ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﺫہن میں سوالات ﺍﺑﮭﺮﻧﮯ لگے۔ میرے ﺫہن میں اس عورت کی باتیں آنے لگی۔

اب آپ نے دیکھنا ہے کہ کہیں آپ تو کسی مردانہ کمزوری کا شکار تو نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں