Muslims are not safe now in Sri Lanka 7

سری لنکا میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی

سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر دھماکوں کے بعد حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں اور گزشتہ دو روز سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں مسلمانوں کی درجنوں دکانوں اور املاک کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے ایک گاؤں نیگومبو میں کیتھولک عیسائیوں کے ایک گروپ نے ہلکی تلخ کلامی کے بعد قریب واقع مقامی مارکیٹ میں مسلمانوں کی دکانوں میں تھوڑ پھوڑ کی اورکچھ دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا۔سری لنکن آرمی کے اہلکار نے سی این این کو انٹرویودیتے ہوئے بتایا کہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب کیتھولک عیسائیوں کے گروپ نے ایک مسلمان رکشہ چلانے والے سے تلاشی دینے کا مطالبہ کیا، اصرار پربات تلخ کلامی کی حد تک جا پہنچی۔ جس کے بعد عیسائیوں کا ہجوم مشتعل ہو گیا اور فسادات میں 10 سے زائد دکانوں میں تھوڑ پھوڑ کی گئی، دو دکانوں کو مکمل طور پر نذر آتش کردیا گیا جبکہ بہت سی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔ جس کے بعد علاقہ کی مسلمان آبادی خوف زدہ ہو کر تھانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئی۔

Muslims Life Changed in Sri Lanka

سری لنکن پولیس کے ترجمان روآن گونا سیکیرا نے میڈیا کوبتایا ہے کہ جن عیسائیوں نے مسلمانوں سے جھگڑا کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا، وہ یمام افراد نشے میں لت تھے۔ حکومت ان افراد کے خلاف ایکشن لے رہی ہے اور فسادات سے بچنے کے لیے متاثرہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری پہنچا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیتھولک چرچ نے بھی عیسائی باشندوں سے پُرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکوں کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا حکومت نے وعدہ کیا ہے، عیسائی بھائی قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں اورانتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ یہی سب کے لئے بہتر ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں حالات کی خرابی ایسٹر کے موقع پر 3 چرچز اور 3 ہوٹلوں میں خود کش دھماکوں سے 250 سے زائد افراد ہلاک اور 600 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہوئی، جس کے بعد ملک بھر میں مقیم مسلمانوں کی آبادیوں اور املاک پر حملے کے متعدد واقعات جاری ہیں، جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں