Name of Twelve Month History 3

سال کے بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے

کیا آپ جانتے ہیں کہ سال کے بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے
انگریزی سال کے365 دن 12 مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی مہینہ 30، کوئی31 اور کوئی مہینہ 28 یا 29 دن کا ہوتا ہے۔
ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے، آئیں جانتے ہیں

جنوری (January)

ماہ جنوری31 دِنوں پر مشتمل ہے۔ انگریزی یا عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔ جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی نہ کہ امن میں۔ جانس دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیا کہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے اور پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی اپنے ماضی و حال کا جائزہ جنوری میں لیتا ہے۔اس کےعلاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا لغوی مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔

فروری (February)

ماہ فروری 28 یا 29 دِنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ لفظ فروری بھی لاطینی زبان کے لفظ فیبرام (Febru m) سے اخذ کیا گیا جس کا مطلب ہے ’’پاکیزگی کا ذریعہ‘‘۔ کسی زمانے میں فروری سال کا آخری اور دسمبر دوسرا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں فروری سال کا دوسرا مہینہ قرار پایا۔ یہ مہینا اس لحاظ سے بھی الگ ہے کہ یہ سب سے کم یعنی28 دن رکھتا ہے جبکہ لیپ (Leap) کے سال میں فروری کے29 دن ہوتے ہیں۔ چنانچہ لیپ کا سال 366 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر چوتھا سال لیپ کا سال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کرۂ ارض کے گرد اپنے مدار کا سفر 365 دن اور چھ گھنٹوں میں طے کرتا ہے۔ لیکن3 سال کے دوران اس کا ہر سال365 دنوں کا ہی شمار ہوتا ہے جبکہ چوتھے سال میں 1/4حصے جمع کریں تو یہ ایک دن کے برابر بن جاتا ہے۔ یوں ایک دن زیادہ جمع کرکے یہ 366 دن کا یعنی لیپ کا سال کہلاتاہے۔

مارچ (March)

مارچ کا مہینہ 31 دنوں پر مشتمل ہے اوراس مہینے میں عموماً موسمِ بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ مارچ مہینے کا نام رومیوں کے دیوتا مارس (Mars) کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مارس کو اُردُو میں مریخ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیوتا بڑا خطرناک تھا۔ رومی دیومالا کے مطابق اس کے رتھ میں انتہائی منہ زور گھوڑے جتے ہوئے ہوتے تھے اور رتھ میں مارس دیوتا نیزہ تھامے کھڑا ہوتا تھا۔ نیزے کی انی کا رُخ آسمان کی طرف ہوتا تھا اوردوسرے ہاتھ میں ڈھال ہوتی تھی۔
دیوتا کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوتا تھا۔ اہلِ روم اپنے اس دیوتا کو سب سے طاقتور دیوتا سمجھتے تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق مارس دیوتا کے ہاتھ میں بارش، بجلی، بادل اور گرج چمک سب تھا، وہ جب چاہے کچھ بھی کر دے۔ لفظ مارچ لاطینی زبان کے لفظ مارٹئیس (Martius) سے اخذ کیاگیا۔اسی لفظ سے سیارہ مریخ کا نام (Mars) بھی بنایا گیا۔

اپریل (April)

اپریل کا مہینہ 30 دِنوں پر محیط ہوتا ہے۔ اپریل لاطینی زبان کے لفظ، اپریلس (Aprilis) سے اخز کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے آغاز کرنے والا یا کھولنے والا۔ اپریل کے مہینے میں چونکہ نئے درختوں اور پودوں کی نشوونما کا آغاز ہوتا ہے،چنانچہ اسے کسی دیوی یا دیوتا کے نام سے نہیں بلکہ بہار کے فرشتے سے منسوب کیا گیا۔

مئی (May)

مئی سال کا پانچواں مہینہ اور 30 دن رکھتا ہے۔ اس مہینے میں بھی بہار کے کچھ اثرات باقی ہوتے ہیں۔ لفظ مئی انگریزی زبان میں فرانسیسی زبان کے لفظ مائی (MAI) سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مئی کا نام لاطینی زبان کے لفظ مائیس (Maius) سے اخذ شدہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مہینے کا نام ایک رومی دیوی میا (Maia) کے نام پررکھا گیا۔ رومیوں کے نزدیک اس وسیع و عریض زمین کو دیوتا نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ اس دیوتا کی سات بیٹیاں تھیں جن میں میا دیوی کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی، جس کی شان و شوکت کی وجہ سے اس مہینہ کا نام مئی رکھا گیا۔

جون (June)

جون سال کا چھٹا مہینہ اوریہ بھی 30 دن پرمحیط ہوتا ہے۔ اس مہینے کا نام بھی ایک دیوی جونو (Juno) کے نام پررکھا گیا۔ البتہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ نام روم کے مشہور شخص جونی لیس کے نام پر رکھا گیا۔ جونو دیوتائوں کے سردار جیوپیٹر کی بیٹی تھی جبکہ جونی لیس ایک بے رحم اور سفاک قسم کا انسان تھا۔

جولائی (July)

جولائی سال کا ساتواں مہینہ اوریہ 31 د ن پرمحیط ہوتا ہے۔ اس مہینے کا نام کسی دیوی دیوتا کے نام پر نہیں بلکہ اٹلی کے شہرروم کے ایک مشہور حکمران جولیس سیزر کے نام پر رکھا گیا ۔ کسی زمانے میں یہ سال کا پانچواں مہینا ہوتا تھا۔ جولیس سیزر قدیم روم کا مشہور شہنشاہ تھا۔ مشہور شاعر و ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے ’’جولیئس سیزر‘‘ پر ایک ڈرامہ بھی لکھا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔

اگست (August)

اگست سال کا آٹھواں مہینا ہے اور اس میں31 دن ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ چھٹا مہینا ہوتا تھا کیونکہ تب سال کا آغاز مارچ سے کیا جاتا تھا اور کل دس مہینے ہوتے یعنی مارچ تا دسمبر۔ وہ اس طرح کہ قمری سال اور شمسی سال کے مہینوں میں فرق ہوتا تھا۔ قمری سال کے تو بارہ مہینے ہوتے تھے جبکہ شمسی سال کے10 ماہ بنتے تھے۔ بعد میں ِاس کمی کو پورا کرنے کے لیے دو مہینوں کا اضافہ کیا گیا۔ یعنی جنوری اور فروری۔ اس طرح سے شمسی سال میں بھی 12 مہینے ہوگئے۔ شمسی سال میں اضا فہ کرنے کے بعد ماہِ اگست کا نام ایک قدیم رومی شہنشاہ آگسٹس (Augustus) کے نام پر رکھا گیا ۔ اگست کے مہینے میں پہلے29 دن تھے، بعد میں جولیئس سیزر نے2 دن کا اضافہ کرکے31 دنوں کا مہینہ کردیا تھا۔ رومی شہنشاہ آگسٹس کا پہلے نام کچھ اورہوتا تھا لیکن جب شہنشاہ نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت زیادہ کام کیے تو رومی لوگ اپنے شہنشاہ کے اتنے گرویدہ ہوگئے کہ اسے آگسٹس کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اس نام کا مطلب ہے، دانا یا دانشمند۔ چنانچہ اس مہینے کو آگسٹس کے نام پر اگست کہا جانے گیا۔

ستمبر (September)

ستمبر سال کا نواں مہینہ اور30 دن کا ہوتا ہے۔ اس ماہ کا نام لاطینی زبان کے لفظ سیپٹ (Se pt) سے بنا جس کا مطلب ہے ’’ساتواں۔‘‘ اس لیے ستمبر کا مطلب ہے ’’ساتواں مہینا‘‘۔ مگر پھر شمسی کیلنڈر کی نئی ترتیب سامنے آئی تو یہ نویں درجے پر چلا گیا لیکن نام پھر بھی ستمبر ہی رہا۔

اکتوبر (October)

اکتوبرسال کا دسواں مہینہ اور31 دن کا ہوتا ہے۔ لاطینی میں آٹھ کو اوکٹو (Octo) کہا جاتا ہے۔ اسی سے سال کے آٹھویں مہینے کا نام اکتوبر رکھا گیا۔ اکتوبرلفظی مطلب ہے ’’آٹھواں مہینا‘‘ لیکن کیلنڈر کی نئی ترتیب سامنے آنے کے بعد اب یہ سال کا دسواں مہینا ہے۔

نومبر (November)

نومبرسال کا گیارواں مہینہ اور30 دن کا ہوتا ہے۔ لاطینی زبان میں9 کو نووم (Novum) کہتے ہیں۔ اس طرح سے اس مہینے کانام نومبرنکلا۔ نومبر کا مطلب ہے ’’نواں مہینا‘‘۔ ستمبر کو ساتواں، اکتوبر کو آٹھواں اور نومبر کو نواں مہینہ۔ یہ اس وقت کہا گیا جب جنوری اور فروری کے مہینے سال میں شامل نہیں تھے۔ بعد میں ان مہینوں کے نام تو وہی رہے البتہ ستمبر نواں درجہ پر، اکتوبر دسواں پر اور نومبر گیارھواں مہینہ پر آ گئے۔

دسمبر (December)

دسمبر سال کا آخری مہینہ اور31 دن کاہوتا ہے۔ لاطینی زبان کی گنتی میں دس کا مطلب ہے دسم (De cem)۔ اس مناسبت سے دسویں مہینے کو دسمبر کہا گیا۔ لیکن کیلنڈر کی نئی ترتیب سامنے کے بعد جب جنوری اور فروری کو بھی سال کا حصہ بنایا کیا توپھر یہ سال کا بارھواں مہینا بن گیا-

آپ لوگ تحریر سے اندازہ لگا چکے ہوں گے کہ مہینوں کے زیادہ تر ناپ رومیوں نے رکھے تھے لیکن اب تو رومی کب کے اپنی اس دیوی دیوتائوں کی مائتھالوجی کو ترک کر کے عیسائیت اختیار کر چکےہیں۔ اب رومیوں کے نزدیک یہ صرف قصےہیں یا کہانیوں کی حد تک باتیں رہ گئی ہیں۔

ماہا خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں