No Oil Reserves in Pakistani Water 2

پاکستانی سمندر میں تیل کی ڈرلنگ کیوں نکام ہوئی

جنوری سے سمندر میں کراچی کے قریب کیکڑا ون کے مقام پر ڈرلنگ چل رہی تھی، ڈرلنگ میں چار کمپنیوں ایگزون، ای این آئی، ای پی ایل، او جی ڈی نے حصہ لیا لیکن اب تازہ رپورٹ یہ ہے کہ سمندر میں 5500 میٹر سے زائد ڈرلنگ کرنے کے بعد ملنے والے نمونہ کی جانچ کے بعد پتا چلا ہے کہ سمندر میں اس مقام پر جو تیل کے زخائر ہیں ان میں ہائیڈرو کاربن کی بجائے پانی کی مقدار بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہ تیل استعمال کے قابل نہیں ہے۔ اور اب کچھ مزید گہرائی کے بعد دوبارہ نمونے چیک کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سمندر میں کئے گئے سوراخ کو جلد بند کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رپورٹ بھی جاری کرتے ہوئے وزیرِاعظم کو بھیج دی گئی ہے کہ سمندر سے کوئی بھی تیل کے ذخائر نہیں ملے، جبکہ گیس کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔

اس ساری ڈرلنگ میں 100 ملین ڈالرز سے زائد کی خطیر رقم خرچ ہوئی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباََ 15 ارب روپے بنتے ہیں۔ پی ٹی آئی گورمنٹ اور خاص کر وزیرِاعظم عمران خان کو بہت زیادہ امید تھی، اور انھوں نے عوام کو امید دلائی تھی کہ تیل کے وسیع ذخائر سمندر میں موجود ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی بھی بہت پرجوش تھے لیکن آج تمام امیدیں دم توڑ گئی۔ یہ تو تھی گورمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ لیکن عوام میں کنفیوزن کی لہر اس وقت پیدا ہوئی جب میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنا شروع ہوئی کہ ڈرلنگ والی جگہ کا کنٹرول پاک فوج نے سمبھال لیا ہے جس کے بعد کچھ صحافیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے بھی کچھ خیالات کا اظہار کیا، ان کی باتوں کی نوعیت دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ان کی باتوں میں بہت زیادہ وزن اور سچائی ہے اور حالیہ حالات بھی کشیدہ ہیں۔

عمران خان نے جو قوم کو سہانے خواب دکھائے تھے وہ خوان اچانک کیوں بکھر گئے، کیا وہاں تیل کا کوئی قابلِ استعمال زخیرہ نہیں ہے یا حقیقت کچھ اور ہے؟ آج کی دنیا حیرت انگیز سائنسی اور جدید سیٹلائیٹ کا دور ہے، زمین یا سمندر کے کس حصے میں تیل کا یا کوئی اور ذخیرہ موجود ہے، سب سے پہلے آج اس بات کا پتہ سیٹلائیٹ سے چلتا ہے اس کے بعد جب بھی کہیں کوئی ڈرلنگ کی جانے والی ہوتی ہے، اس سے پہلے اس جگہ کا جدید ترین مشینری سے سروے کیا جاتا ہے۔ یہ سروے ایک قسم کا زمین کی پرتوں کا الکسرے ہوتا ہے، جس کی مدد سے تیل وگیس کے ذخائر کو باآسانی ماپا جا سکتا ہے لیکن ذخائر کی کوالٹی کو جانچنے کے بعد ہی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ ذخائر استعمال کے قابل بھی ہیں یا نہیں۔ اس وجہ سے یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ چار بڑی کمپنیوں نے 100 ملین ڈالرز کا ٹھیکہ لے کرسمندر میں دنیا دوسرا بڑا ڈرلنگ سسٹم لگا کر تیل ڈھونڈنا صرف افواہوں کی بنیاد پر تھا۔ ذرائع کہنا ہے کہ وہاں تیل کے سو فیصد قابلِ استعمال ذخائر موجود ہیں مگر انہیں نکالنے کی بجائے ذخائر ہونے کا ہی انکار کردینا صرف بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے ۔ یہ دباؤ کیا تھا ؟ کس کا تھا اور اس کے مقاصد کیا تھے اس کا جائزہ ہم لینے کہ کوشش کرتے ہیں۔

آج کی دنیا اور حتیٰ کہ امریکہ پر بھی دو بڑے مافیہ کا بہت زیادہ اثرورژوخ ہے جن میں ایک تیل اور دوسرا ہتھیاروں کا مافیہ ہے۔ تیل کے وسیع ذخائر خلیجی ممالک میں ہیں لیکن ان ذخائر کا ذیادہ تر شئیرز امریکہ اور یورپی کمپنیوں کے پاس ہیں۔ یہ تمام کمپنیاں ایسا شیطانی گٹھ جوڑ رکھتی ہیں کہ یہ فی الحال تیل کو محدود علاقوں میں رکھتے ہوئے دنیا کو مہنگا بیچنا چاہتی ہیں، اسی لئے اگر دنیا کے کسی دوسرے ملک میں تیل نکل آیا تو خلیج کا مہنگا تیل کون خریدے گا ؟ اب یہ مافیا کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ ان باتوں سے کر لیں کہ خود امریکہ اپنے ملک کا ذیادہ تر تیل استعمال نہیں کر پا رہا اور وہ بھی خلیجی ممالک سے مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہے۔ امریکہ نے جیسے ہی اپنے تیل کے ذخائر کھولے تو اس مافیا نے تیل کی قیمت کو 145 ڈالر فی بیرل سے صرف 30 بیرل تک گرا دیا جس کے نتیجہ یہ ہوا کہ جن کمپنیوں نے امریکی تیل و گیس میں سرمایہ کاری کی تھی وہ ایک جٹکے میں دیوالیہ ہو گئیں کیونکہ امریکہ میں تیل نکالنے پر لاگت ہی 50 ڈالر فی بیرل آرہی تھی۔ امریکہ کو یہ گارینٹی دی گئی ہے کہ پوری دنیا میں تیل و گیس صرف ڈالرز میں ہی بیچا جائے گا جس سے امریکی معیشیت کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اسی لئے جب کوئی ملک تیل کو ڈالر کی بجائے کسی اور کرنسی میں بیچنے کی بات کرتا ہے تو یا تو اس ملک کے سربراہ کو مار دیا جاتا ہے یا پھر اس ملک پر حملہ کر دیا جاتا ہے، جیسا سعودیہ کے ساتھ ہوا، عراق کے ساتھ ہوا اور باقی عرب ممالک کے ساتھ ہوا۔ کینیڈا نے جب مٹی کو صاف کر کے تیل نکالنا شروع کیا تو وہ سعودی عرب کے بعد تیل پیدا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا مگر یہاں بھی لاگت زیادہ تھی چنانچہ اس مافیا نے کینیڈا کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔

امریکی صدر اوبامہ نے جب اپنا عہدہ کا چارج سنبھالا تو انہیں جوسب سے پہلی بریفنگ دی گئی، اس میں انہیں بتایا گیا کہ امریکہ متبادل انرجی کی تلاش کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور جس دن ہم نے نئی انرجی اپنے ملک کے ساتھ باقی دنیا میں متعارف کرا دی، اس دن ہماری طاقت اور ذیادہ بڑھ جائے گی اور ساتھ ساتھ امریکہ پر جو 14 کھرب ڈالرز کا قرضہ ہے وہ بھی ادا ہو جائے گا۔ لیکن اوبامہ آٹھ سال گزار گئے، امریکہ کو متبادل انرجی کی چابی نہ ملی، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن مگرمچھوں کی تیل پر اجارہ داری تھی وہ اس تحقیق کو آگے ہی بڑھنے نہیں دے رہی تھیں۔ آج سولر پینل سسٹم 16 یا 18 فیصد پر کام کررہا ہے لیکن اگر یہ پینل 40 فیصد پر کام شروع کر دے تو دنیا سے بجلی کی تاریں گرڈ سٹیشن اور پاور ہاؤس غائب ہونا شروع ہو جائیں، آہستہ آہستہ تمام گاڑیاں سولر پاور پر شفٹ ہو جائیں۔ جرمنی کی ایک کمپنی نے دو سال پہلے 47 فیصد پر کامیاب تجربہ کیا مگر پھر اچانک اس کمپنی نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا اور یہ غائب ہو گئی۔ ٹیسلا کمپنی جس نے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کروائیں تھیں اور کہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو سولر انرجی پر منتقل کر سکتی ہے، اس پر آئے دن دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ تیل کہ کمپنیاں اپنی اجرہ داری کبھی ختم نہیں کرنا چاہیں گی۔

آپ اگر اس طرف بھی نظر دوڑائیں کہ کیا وجہ تھی کہ جب پاکستان سے تیل نکلنے کا مرحلہ چل رہا تھا، عین اسی وقت امریکہ کا جنگی بحری بیڑہ ایران سے جنگ کا بہانہ بنا کربحیرہ عرب میں ڈیرے ڈال رہا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سمندر میں تیل نہ نکالنے کی ایک اور بڑی وجہ پاکستانی جیو سٹریٹجک اہمیت ہے۔ پاکستان کو پچھلے دس سالوں سے قرضوں کے ایک بہت بڑے جھال میں پھنسایا جا چکا ہے تاکہ پاکستان کو اس مقام تک لے جایا جائے کہ آسانی سے اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کروایا جا سکے۔ سی پیک کے شروع ہوتے ہی قرضوں کا سلسلہ تیزی سے شروع ہو تھا۔ روپے کی گرتی ہوئی مسلسل ساکھ، FATF کی تلوار اور عالمی اداروں کی جانب سے سخت شرائط کا مقصد صاف ہے کہ ملک کو معاشی لحاظ سے بحران کی طرف لے جایا جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ IMF کی جانب سے ایک شرط یہ بھی رکھی گئی تھی کہ پاکستان فوراََ سمندر میں تیل کی تلاش بند کر دے، لیکن پاکسان کی جانب سے انکار کیا جاتا رہا۔ ان حالات میں اس بات پر مافیہ کی جانب سے غور کیا گیا کہ کیسے یہ ممکن ہے کہ تیل کے ذخائر کی بدلے پاکستان کے ہاتھ میں دس سے پندرہ ارب ڈالر سالانہ کی لاٹری دے دی جائے۔ لیکن پھر پاکستان پر عالمی دباو ڈال کر اس منصوبہ کو بند کر دیا گیا۔ آج سے کچھ سال پہلے بھی پنڈی گھیب میں میانوالہ ون نامی رگ لگایا گیا تو تب اعلان تک کر دیا گیا کہ ایشیا کا سب سے بڑے تیل کا ذخائر دریافت ہو گئے ہیں۔ وہاں تیل اور گیس کا پریشر اتنا زیادہ تھا کہ رگ کے سیفٹی والو تک پھٹ گئے تھے اور گاؤں کو خالی کرایا گیا تھا، جس کے بعد امریکہ سے ہائی پریشر والوو خصوصی آرڈر پر تیار کروائے گئے اور حتیٰ کہ محدود پیمانے پرتیل نکالنے کی سپلائی بھی شروع کر دی گئی تھی، اس مقام سے تیل نکال کرریفائنری تک لے جانے کے لئے پائپ لائن بھی بچھا دی گئی، مگر پھر دو سال بعد وہ تیل کے کنویں جنھیں ایشیا کے سب سے بڑے ذخائر کہا گیا تھا، اچانک بند کر دیے گئے۔ اور تب بھی یہی بہانہ بنایا گیا تھا کہ تیل کی کوالٹی اچھی نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ جہاں جہاں امریکی اور یورپی کمپنیاں ڈرلنگ کرتی ہیں، وہ زیادہ تر ناکام کیوں ہوجاتی ہیں اور جہاں چینی کمپنیاں ڈرلنگ کرتی ہیں، وہاں کامیابی کا تناسب کیوں زیادہ ہے؟

اس کے علاوہ اگر اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جیسے ہی پاکستان نے تیل کی ڈرلنگ شروع کی تھی، کچھ ہی عرصہ بعد انڈیا اور اسرائیل پاکستان پر حملہ کرنے آ گئے تھے۔ اب حالیہ حالات میں ذرائع کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان بغیر پیسوں کے نہ اس تیل کو نکال سکتا ہے، اور اگر نکالے گا تو IMF اور عالمی اداروں سے پیسے نہیں لے سکے گا، اسی لئے یہ پیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال تیل نہیں نکالا جائے گا اور اسی لئے کیکڑا ون کا کنٹرول بھی پاک فوج نے سنبھال لیا ہے اور وقت بہتر ہونے تک کا انتظار کیا جائے گا۔

آپ کو یہ بھی یاد کرواتے چلیں کہ یہ ساری رائے کچھ مشہور صحافیوں کی ہے، جو ان تک حکومتی ذرائع سے پہینچی ہیں، لیکن ان میں کتنی صداقت ہے، اس بات کا فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے، ہمیں بس دعا کرنا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنی غیبی مدد فرما کر اس ملک کو بحرانوں سے نکالتے ہوئے پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنا دیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں