Our Body Reaction During Dasting in Ramadan 54

روزےکےدوران ہماراجسمانی ردعمل کیاہوتاہے جانئے دلچسپ معلومات

رمضان میں روزے کی دوران ہمارا جسمانی ردِعمل کیا ہوتا ہے اسکے بارے میں جانیے دلچسپ معلومات

رمضان میں روزے کی حالت میں چکر آنا، سر درد ہونا، دل کی دھڑکن کا سست ہو جانا، بلڈ پریشر کا گِرنا، زبان کا کڑوا رہنا، جسم کے حصّوں میں درد رہنا، پٹھوں میں کھچاو اور وزن کا کم ہوجانا، عام بات ہوتی ہے۔ خاص کر یہ سب شروع کے روزوں میں زیادہ ہوتا ہے اور ساری شکایات رمضانِ کریم کے اختتام سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان خود کو آخری عشرے میں زیادہ توانا محسوس کرتا ہے، تو آخر یہ سب ہوتا کیسے ہے۔ آئیے جانتے ہیں۔

پہلے دو روزوں کے دوران

پہلے ہی روزے سے بلڈ شُگر لیول گِرجاتا ہے یعنی ہمارے خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہوجاتا ہے، دھڑکن سّست ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہوتا جاتا ہے۔ اعصاب جمع شدہ گلائیکوجن کو آزاد کر دیتا ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری کا تھوڑا تھوڑا احساس ہوتا ہے۔ اس سارے عمل یعنی زہریلے مادوں کی صفائی کے ابتدائی مرحلے میں چکرآنا، ہلکا سردرد، منہ کا بدبودار ہونا اور زبان پر کڑوے مواد کا جمع ہونا، شامل ہوتا ہے۔

تیسرے سے ساتویں روزے کے دوران

زہریلے مادوں کی صفائی کے ابتدائی مرحلے کے بعد جسم کی چربی ٹوٹ پوٹ کا شکار ہوجاتی ہے اور ابتدائی مرحلے میں گلوکوز میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے جسم بھوک کا عادی ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر تو لوگوں کی جلد کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کچھ لوگوں کی جلد ملائم اور چکنی ہوجاتی ہے۔ اور اس سب سے سال بھر مصروف رہنے والا نظامِ ہاضمہ کو آرام مل جاتا ہے جسکی ایک تو اسے اشد ضرورت تھی اور دوسرا نظامِ ہاضمہ کے اندر جو گندے مادے جمع ہو گئے تھے وہ بھی زائل ہوجاتے ہیں۔ انتڑیوں کی مرمت کا کام بھی شروع ہوجاتا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ انتڑیوں کی دیواروں پرجمع شدہ مواد بھی ڈھیلا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس سب سے خون کے سفید جرمومے میں اضافہ ہوجاتا ہے جس سے قوتِ مدافعت بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس دوران کھبی کھبی روزیدار کو پھیپھٹروں میں درد کا احساس ہوتا ہے، یہ اس لئے کہ زہریلے مادوں کی صفائی کا عمل چل رہا ہوتا ہے۔

آٹھویں سے پندرویں روزے کے دوران

سات روزے گزر جانے کے بعد جس میں کافی حد تک زہریلے مادوں کی صفائی ہو چکی ہوتی ہے، روزے دار پہلے سے زیادہ چست، توانا اورہلکا محسوس کرتا ہے۔ کبھی کبھی کسی پرانے زخم میں درد کا احساس شروع ہوجاتا ہے اوراعصاب میں تناو کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں، یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اب آپکا جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیلز کو کھانا شروع کردیتا ہے، جنھیں عام طور پر کیموتھراپی سے ختم کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پرانے زخموں میں تکالیف واپس آجاتی ہے۔ اس سے روزے دار کا جسم پہلے سے زیادہ اپنے دفاع کیلئے فعال اور مضبوط ہوجاتا ہے۔ روزانہ نمک کے غرارے کرنے سےاعصابی تناو کی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔

سولویں سے تیسویں روزے کے اختتام تک

پندرہ روزوں کے دوران جسم کے سارے مادوں کا اخراج ہوجاتا ہے، نظامِ ہاضمہ کی بھی مرمت ہو چکی ہوتی ہے اور اسکے علاوہ جسم سے فالتوچربی اور زہریلے مادے بھی زائل ہو چکے ہوتے ہیں۔ اب روزے دار کا جسم پوری طرح سے بھوک پیاس کا عادی ہو چکا ہوتا ہے، جسم پوری طاقت کے ساتھ اپنے کام سرانجام دینا شروع ہو جاتا ہے اور اس سے انسان خود کو پہلے سے زیادہ چست اور چاک وچوبند محسوس کرتا ہے۔ زبان کا کڑواپن بھی ختم ہو چکا ہوتا ہے اور زبان بالکل سرخی مائل ہو چکی ہوتی ہے۔ تیسرے عشرے کے آغاز تک دماغ اور یادداشت بھی تیز ہوجاتی ہے، تمام حسّوں کی صلاحیت بھی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ جس سے جسم اور روع آخری عشرے کی تمام عبادات کو مکمل طور پر ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

اللہُ اکبر۔۔ یعنی رمضانِ مبارک میں ایک تو ہمیں روزے کی حالت میں بے شمار انعمات سے نوازا جاتا ہے اور دوسرا فائدہ ہمارے جسم کو ہوتا ہے اور انسان بے شمار آنے والی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ اللہ رباُلعزت نے دیکھیے کیسے ہم مسلمانوں پراپنا انعام فرمایا ہے کہ اس کے احکامات کو پورا کرنے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بندوبست کردیا۔

زرا غور کیجئے

تحریر پڑھنے کے بعد شاید آپ کے دل میں آئے کہ روزے رکھنے سے آپ کے جسم کا فائدہ ہو سکتا ہے اور آپ بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، یا آپ صرف وزن کو کم کرنے کے لئے روزہ رکھ رہے ہیں تو جان لیں کہ روزہ خالصتاََ صرف اور صرف اللہ کے لئے رکھا جاتا ہے، اس کی خوشنودی کے لئے اور یہی نیت بھی ہونی چاہئے۔ بےشک روزے ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہیں۔

صدقہ جاریہ کی نیت سے پوسٹ کو شیّر کریں تاکہ کسی ایک بھی انسان کا بھلا ہو سکے۔ جزاک اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں