pakistani films on eid ul fitar 1

عیدالفطر کے موقع پرسینما مالکان فلموں کی نمائش کو لے کر کشمکش کا شکار

پاکستانی فلم انڈسٹری حال ہی میں کئی دھائیوں کے بعد اپنے پائوں پر دوبارہ کھڑی ہوئی ہے لیکن ابھی بھی اس تعداد میں فلمیں نہیں بن رہی جو سینما گھروں اور عوام میں بہتر وابستگی پیدا کر سکیں، خاص کر علاقائی فلمیں جو ابھی تک اپنی پہچان بھی نہیں بنا سکیں۔ عیدالفطر آنے کو ہے اور اسی وجہ سے نجی چینلزاورپروڈکشن ہاؤسز کی جانب سے بننے والی فلموں کوسینما گھروں میں زیادہ سے زیادہ شو دینے کیلئے جہاں فلم مالکان کی طرف سے تعلقات کا استعمال ہو رہا ہے وہیں سینما گھروں کو دوسروں سے زیادہ رقم ادا کرنے کی بھی بھاری پیشکش کی جارہی ہے۔

مجموعی طور پر اس وقت پاکستان بھر میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل سینما گھروں کی تعداد صرف 100 کے قریب ہے لیکن سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان میں نمائش کیلئے پیش کی جانے والی فلموں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ اس کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے انڈین فلموں پر لگائی جانے والی پابندی بھی ہے۔ عیدالفطرکے موقع پرنمائش کیلئے پیش ہونے والی فلموں کے تعداد اب تک پانچ بتائی جا رہی ہے۔ اصل پریشانی کی بات بھی یہی ہے کہ عید کے تین دن ہرسینما گھر میں بس یہی فلمز ہو گی جس کی وجہ سے سینما گھروں کی اجارہ داری بن جائے گی اور ان کی مرضی ہو گی، تو اب جو فلم کا مالک زیادہ رقم دے گا، اس کی فلم پرائم ٹائم میں دکھائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھی، پشتو، سرائیکی اور پنجابی سمیت دیگرعلاقائی فلمیں بھی عید کے مواقع پر نمائش کیلئے سینما گھروں میں دکھائی جا سکتی ہیں، مگر اب تک اس قابل علاقائی فلمیں بنائی ہی نہیں جا سکیں جوملٹی سکرین سینما گھروں کی زینت بن سکیں۔ اس حوالے سے فلم کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے۔

پاکستانی حلقوں میں یہ بات بہت ہی خوش آئند سمجھی جاتی ہے کہ عید الفطر اوربڑے ایونٹس پر کسی بھی غیر ملکی فلم کو نمائش کیلئے پیش نہیں کیا جائے گا۔ تو اب انتظار اس بات کا ہے کہ کب پاکستان میں ہر طرز کی فلمیں بننا شروع ہو گی، جبکہ زیادہ تر تو پاکستانی فلیمیں انڈین فلموں کی کاپی ہی ہیں ، وہی پیار کی کہانی، 4 گانے اور تھوڑی سی لڑائی۔ جانے پاکستان کب سائنس فکشن فلمز اور لوَو سٹوریز سے ہٹ کے فلمیں بنانا شروع کے گا۔ خیر دیکھنا یہ ہے کہ کون سی پاکستانی فلم اس عید پر سُپرہٹ ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں