Pakistani girls get married to Chinese boys Scandal 1

1500 سے زائد پاکستانی لڑکیوں کا چینی لڑکوں سے شادیوں کا انکشاف

ایف آئی اے راولپنڈی کی تحقیقات کے مطابق اب تک 1500 چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ شادیوں کا انکشاف ہوا ہے، جن میں کچھ لڑکیوں کی 2 سے زیادہ بار چینی لڑکوں کے ساتھ شادیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے جمیل میو کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں یہ ایک دو نہیں بہت سے گروہ ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں اور شادیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، ریکارڈ قبضے میں لے کر گرفتار افراد اور خواتین سے تحقیقات جاری ہیں۔

ایف آئی اے کے زرائع کے مطابق پاکستانی غریب گھرانے کی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے بھاری رقم کے عوض شادیوں میں اضافے کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے، اور اب تک کی تحقیقات کے مطابق 1500 سے زائد لڑکیوں کی شادیاں چینی لڑکوں کے ساتھ ہوچکی ہیں۔ جن میں مسلمان اور کرسچنزلڑکیاں شامل ہیں۔ چین کے افراد پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ مل کر باقائدہ کچھ گینگ چلا رہے تھے، جن میں ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا بیٹا بھی چینی گینگ کا حصہ تھا۔ کچھ گھرانے باقائدہ پیسے لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی چینی لڑکوں سے کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل نے روالپنڈی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے مزید 14 چینی شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے، جو پاکستانی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین لے جاتے اور وہاں ان پر دباو ڈال کر ان سے غیراخلاقی کام کروایا جاتا، یا ان کے گھر والوں سے تاوان مانگا جاتا، یا ان کے جسم کے اعضاء نکال کر بیچ دئے جاتے۔ روالپنڈی گرفتار کئے گئے چینی باشندوں کے قبضے سے 3 پاکستانی لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں شادیوں کا جھانسہ دے کر چین اسمگل کیا جانے کا پلان تھا، جب کہ اس بار پہلی مرتبہ چینی باشندوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، چینی باشندوں کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: فٹ بال کلب میں کھیل کی جگہ سیکس پارٹیز ہورہی تھی

دوسری طرف ایف آئی اے لاہور نے بھی ڈی ایچ اے اور ڈیوائن گارڈن میں کارروائی کرتے ہوئے ایک چینی اور 3 پاکستانی عورتوں کو گرفتار کیا ہے، ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گرفتار عورتیں چینی لڑکوں کے ساتھ شادی کرانے میں مالی معاملات سمیت دیگر معاملات جیسے رشتے کروانا طے کرتی تھی، ایف آئی نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کو مزید تیزکردیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے مطابق وہ لڑکیوں کے گھر والوں کو پیسوں کا لالچ دے کر شادی کراتے ہیں، بہت سی لڑکیوں کی شادی ہو گئی اور وہ چین بھی چلی گئی ہیں، لیکن ان کے بارے کوئی اطلاعات نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

چند دن پہلے چائنہ میں پاکستان ایمبیسی نے ایک پاکستانی لڑکی کو بازیاب کروا کر واپس پاکستان بھیجا ہے، اس لڑکی نےچائنہ سے ایف آئی اے کو رپورٹ کی تھی، جس میں اس کا کہنا تھا کہ شادی کروا کر مجھے چائنہ لایا گیا اور جسم فروشی پر مجبور کیا گیا، جس پر ایف آئی اے نے چائنیز حکام سے رابطہ کیا اور لڑکی کو بازیاب کروایا۔سا تھ ساتھ آپکو یہ بھی بتاتے چلیں کہ تحقیقات میں کچھ لڑکیوں نے بتایا ہے کہ ایک شادی کے بعد ان کی 2 یا 3 مختلف چینی لڑکوں کے ساتھ شادیاں کرادی گئیں اور شکایت کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں، اور اب تک تقریباً 1500 سے زائد پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں، جن میں سے اکثریت چائنہ ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ لڑکیوں کے اپنے رشتہ دار بھی اس گندے کام میں ملوث پا ئے جا رہے ہیں۔

چائنیز وزارتِ داخلہ نے تمام چینی شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ جو بھی اس جرم میں شریک ہوا، ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں