Prophet Hazrat Esa A.S and his Student 5

حضرت عیسیٰ ؑ اور تین روٹیاں ۔۔ ایمان افروز واقعہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کے ساتھ ایک سفر پر جا رہے تھے، راستے میں ایک جگہ آرام کی غرض سے رکے اور شاگرد سے پوچھا، تمھاری جیب میں کچھ ہے؟ شاگرد نے جواب دیا، جی میرے پاس دو درہم ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر شاگرد کو دیا اور فرمایا، یہ تین درہم ہو جائیں گے، قریب ہی آبادی ہے، تم وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔

شاگرد چلا گیا اور تین روٹیاں لیں، راستے میں واپس آتے ہوئے سوچنے لگا، حضرت عیسیٰ ؑ نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے، جبکہ روٹیاں تین ہیں، ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسیٰ ؑ کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھا لوں، چنانچہ اس نے راستے میں ہی ایک روٹی کھا لی اور باقی دو روٹیاں لے کر حضرت عیسیٰ ؑ کے پاس پہنچا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ایک روٹی کھا لی اور دوسری شاگرد نے۔ کھانے سے فارغ ہوکرحضرت عیسیٰ ؑ نے شاگرد سے پوچھا کہ تین درہم کہ کتنی روٹیاں ملی تھیں؟ شاگرد نے جواب دیا۔ اے اللہ کے نبی، دو روٹیاں ملی تھیں۔ ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے۔ حضرت عیسیٰ ؑ خاموش ہو گئے۔

کچھ دیر بعد وہاں سے روانہ ہو گئے، راستے میں ایک دریا آیا، شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا، اے اللہ کے نبی! ہم دریا عبور کیسے کریں گے، جبکہ یہاں تو کوئی کشتی بھی نظر نہیں آ رہی۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، گھبراؤ مت، میں آگے چلو گا، تم میرا دامن پکڑ کر پیچھے چلتے آنا، خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کر لیں گے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا۔ اللہ کے حکم سے آپ نے دریا اس طرح سے عبور کر لیا کہ آپ کے پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے، شاگرد نے یہ دیکھ کر کہا، میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان ہوں۔ آپ جیسا صاحب اعجاز نبی پہلے کبھی معبوث ہی نہیں ہوا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا یہ معجزہ دیکھ کر تیرے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا، شاگرد نےجواب دیا، جی ہاں میرا دل نور سے بھر گیا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا اگر تمھارا دل نورانی ہو چکا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں؟ شاگرد نے جواب دیا، اے اللہ کے نبی! روٹیاں صرف دو ہی تھیں۔

پھر حضرت عیسیٰ ؑ وہاں سے آگے چلے دئیے، راستے میں ہرنوں کا ایک غول گزر رہا تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا تو وہ آپ کے پاس چلا آیا، آپ نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا، جب دونوں گوشت کھا چکے تو حضرت عیسیٰ ؑ نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا کہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا، ہرن زندہ ہو گیا اور واپس دوسرے ہرنوں سے جا ملا۔ شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہو گیا اور کہنے لگا اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور استاد عطا فرمایا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا یہ معجزہ دیکھ کر تمھارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا۔ شاگرد نے کہا اے اللہ کے نبی! میرا ایمان پہلے سے دگنا ہو چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، پھر بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں؟ شاگرد نے پھروہی جواب دیا۔ اے اللہ کے نبی! روٹیاں بس دو ہی تھیں۔

حضرت عیسیٰ ؑ پھر آگے کے جانب چل پڑے، ایک جگہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، ایک اینٹ میری ہے اور ایک انیٹ تمھاری ہے اور تیسری اینٹ اس آدمی کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی تھی۔ یہ سن کر شاگر شرمندگی سے بولا، تیسری روٹی میں نے کھائی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا، تینوں اینٹیں تم لے جاؤ اور یہ کہہ کر حضرت عیسیٰ ؑ وہاں سے روانہ ہو گئے اور لالچی شاگرد اینٹوں کے پاس بیٹھ کر یہ سوچنے لگا انھیں کیسے گھر لے جایا جائے۔

اسی دوران کچھ ڈاکووں کا وہاں سے گزر ہوا، انھوں نے جب دیکھا کہ ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں تو انھوں نے اسے قتل کر دیا اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں، لہذا ہر ایک شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آئے گی۔ اتفاق سے وہ تینوں ڈاکو بھی بھوکے تھے، انھوں نے ایک ساتھی کو پیسے دے کر کہا کہ شہر قریب ہی ہے، تم وہاں سے روٹیاں لے کر آؤ اور کھانا کھانے کے بعد ہم اپنا اپنا حصہ تقسیم کر لیں گے۔ چنانچہ وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں ذہر ملا دوں تو باقی دونوں ساتھی مر جائیں گے اور میں تینوں انیٹوں کا اکیلا مالک بن جاؤں گا۔ جبکہ دوسری طرف اس کے دونوں ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے ساتھی کو قتل کر دیں تو ہمارے حصے میں ڈھیر ڈھیر اینٹ آئے گی۔ جب ان کا تیسرا ساتھی ذہر آلود روٹیاں لے کر آیا تو انھوں نے منصوبے کے مطابق اس پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا۔ قتل کرنے کے بعد انھوں نے خوشی میں سوچا کہ اب کھانا کھا لیں، ہمیں کھانا بھی ذیادہ مل گیا اور سونا بھی۔ پھر جب انھوں نے روٹیاں کھائیں تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے مر گئے۔

واپسی پر حضرت عیسیٰ ؑ اسی راستے سے گزرے تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی رکھی ہیں جبکہ پاس چار لاشیں پڑی ہیں۔ آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا۔۔۔ دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے۔

میرے عزیز دوستوں دنیا سے محبت کرنے والا اس عارضی دنیا کو اپنا گھر سمجھ لیتا ہے تو اس کا انجام یہی ہوتا ہے۔

انوار نعمانیہ  (صفحہ: 353  )

انوار نعمانیہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں