Prophet Solomon A.S Story with A Fish 8

حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے مخلوقات کی ضیافت

شیخ عبدالرحمٰن بن سلام المقری نے کتاب العقائد میں نقل کیا ہے کہ
حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا کو وسیع کردیا ہے اور دنیا کی طاقت ان کے ہاتھ میں ہو گئی تو کہنے لگے۔ اے میرے معبود!! اگر آپ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی تمام مخلوقات کو پورے سال کھلاؤں، ( تو بہتر ہوتا )۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ تو اس پر ہرگز قدرت نہیں رکھتا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے پھر درخواست کی، یا الہیٰ!! ایک ہفتہ کے لیے ایسا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے پھر درخواست کی کہ یاللہ!! ایک دن کے لیے اجازت دیں دیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ملی کہ تو اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا لیکن ایک دن کی ضیافت کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی۔

اجازت ملنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمام جنات اور انسانوں کو حکم دیا کہ وہ تمام کے تمام ان چیزوں کو جو زمین پر حلال ہیں یعنی گائے، بیل، بکریاں، دنبے وغیرہ اور ان تمام چیزوں کو جو جنس حیوان میں سے ہیں، یعنی پرندے وغیرہ، ان کو جمع کریں۔ چنانچہ جن و انس نے ان تمام کو جمع کرلیا اور بڑی بڑی دیگیں تیار کی گئی اور پھر ان تمام جانوروں کو ذبح کر کے ان کو پکایا گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہوا کو حکم دیا کہ کھانے پر چلے تاکہ خراب نہ ہو۔ پھر کھانوں کو جنگل میں پھیلا دیا گیا، اس کھانے کی دعوت کی لمبائی ایک مہینے کی مسافت کے برابر تھا اور اس کی چوڑائی بھی اتنی ہی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ سے حضرت سلیمان علیہ السلام سے دعا فرمائی تو اللہ رب العزت نے وحی نازل فرمائی۔ اے سلیمان! تو مخلوقات میں سے کس سے دعوت شروع کرے گا؟؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دریا کے جانوروں سےشروع کرونگا۔ اللہ تعالیٰ نے بحر محیط کی ایک مچھلی کو حکم دیا کہ وہ سلیمان علیہ السلام کی ضیافت میں سے کھائے۔ چنانچہ وہ مچھلی آ گئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ تو نے ضیافت کا دروازہ کھول دیا ہے اور آج میری ضیافت تو کرے گا؟

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا، ہاں ایسا ہی ہے اور کھانا شروع کر۔ چنانچہ وہ مچھلی آگے بڑھی اور دسترخوان کے شروع سے کھانے لگی، مچھلی نے اس قدر کھایا کہ کچھ دیر میں جتنا بھی کھانا تھا سب کچھ اکیلے کھا گئی۔ سب کھا کر مچھلی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو آواز لگا کر کہا، اے سلیمان! مجھے اور کھانا کھلاؤ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حیرانگی سے فرمایا کہ تو تو سب کچھ کھا گئی ہے، اب بھی تیرا پیٹ نہیں بھرا؟؟؟ یہ جواب سن کرمچھلی بولی! کیا ایسا میزبان کا جواب ہوتا ہے مہمان کے لئے۔ اے سلیمان! آپ خوب جان لیں کہ میرے لئے جتنا آپ نے پکایا، اتنا کھانا میرا اللہ مجھے دن میں تین مرتبہ دیتا ہے۔ جبکہ تو آج میرے کھانے میں کمی کی وجہ بن گیا ہے اور تو نے میرے کھانے میں کمی کر دی۔
یہ سننا تھا کہ اسی وقت اسی لمحے حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ رب العزت کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے اور کہنے لگے، پاک ہے وہ ذات جو مخلوقات کی روزیوں کے ساتھ کفالت کرنے والی ہے، کہ جہاں سے مخلوق جانتی بھی نہیں کہ آتا کہاں سے ہے۔

اس کہانی کا حاصل یہ ہے کہ بے شک ہمارا رازق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ ہمیں صرف اور صرف رزق اسی سے مانگنا چاہئیے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائیں اور ہمارے رزق کو کشادہ فرمائیں۔ آمین

101 سبق آموز واقعات مولانا ہارون معاویہ (صفحہ: 125 سے 127)
 

سبق آموز واقعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں