Real Life Story of Hazrat Bashar Bin Haris R.A 97

وہ شرابی جو بسم اللہ کا احترام کر کے اللہ کا ولی بن گیا

اللہ کے نزدیک کون گناہ گار ہے اور کون نیک ہے، وہ کب کسس کی توبہ قبول فرما لے اور کب کس کو نواز دے، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ وہ جب چاہے تو بخشش کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے، وہ جب چاہتا ہے زندگیاں بدل دیتا ہے۔ بزرگانِ دین کی بہت سی کُتب میں ایسے ہزاروں واقعات درج ہیں کہ جب اللہ نے ایسے لوگوں کو ایک پل میں ہدایت سے نواز دیا جو گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔ ایک مشہور قصہ ملاحظہ کریں۔

نویں صدی کے مشہور بزرگ حضرت بشر بن حارث المعروف بشر حافیؒ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کرم اللہ نے فرمایا تھا۔ ان کے ولی کے مقام تک پہنچنے تک کا سفر صرف بسمِ اللہ لفظ کا احترام اور اکرام کرنے پر نصیب ہوا تھا، حضرت ابوتیمیہ اور حضرت غوث اعظم ؒ دونوں آپ ؒ کے اس اعلیٰ مقام پر فخر کرتے تھے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اکثر انکی خدمت میں آیا کرتے جو کہ خود بڑے اللہ والے تھے اور بشر حافیؒ سے فیض پاتے تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ بشر حافیؒ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے ولی ہونے سے پہلے آپکی ابتدائی حالت کیا تھی ؟ تو بشر حافیؒ کہنے لگے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ میں ایک چالاک قسم کا آدمی تھا، عصبیت اور فخر کا بہت عادی تھا۔ ایک دن جب میں شراب کے دھت تھا اور نشے میں چلتا جارہا تھا تو راستے میں زمین پر پڑے ایک پرچہ پر نظر پڑی، جس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا۔ میں نے اس پرچہ پر اللہ رب العزت کا نام دیکھ کراٹھا لیا اور صاف کر کے جیب میں رکھ لیا۔ ان دنوں میرے پاس دو درہم کے سوا کچھ بھی نہ تھا لیکن میں نے ان پیسوں سے عطر خریدا اور عطر کو بسم اللہ والے پرچہ پر خوب ملا اور حفاظت سے رکھ لیا۔ اس کے بعد جب میں رات کو سوگیا تو خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا جو کہ مجھے ایک پیغام دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ مجھ تک یہ پیغام پہنچا دیں۔ اور پیغام یہ تھا کہ اے بشر! تو نے میرے نام کو خوشبو سے مہکایا ہے، ہم بھی تیرا نام دنیا اور آخرت میں خوشبودار اور مشہور کریں گے۔ بس اس کے بعد میری زندگی ہی بدل گئی۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت منصور بن عمار ؒ کے ساتھ پیش آیا اور بسم اللہ شریف کی برکت انکی توبہ کا سبب بن گئی۔ ان کا قصہ کچھ یوں تھا کہ منصور ؒ ایک راستہ سے گزر رہے تھے کہ انھوں نے راستہے میں ایک پرچہ پڑا دیکھا، اسے اٹھایا تو پرچہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا، انھوں نے ِادھر ُادھر دیکھا لیکن کوئی بھی ایسی جگہ نہ ملی جہاں وہ ُاس پرچہ کو حفاظ سے رکھ سکیں تو منصور ؒ نے اس پرچہ کو منہ میں ڈالا اور چبا گئے۔ شب کو خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی کہہ رہا تھا کہ اللہ کے نام کے پرچہ کے احترام اورعزت کے سبب حق تعالیٰ نے تجھ پر دروازے حکمت کے کھول دیئے۔ سبحان اللہ

یہ سب اللہ کا کرم ہے کہ کب کس پر کرم کر کے اس کی زندگی بدل دیں۔

دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں پر اپنا خاص رحم اور کرم فرما کر ہماری بھی زندگیاں بدل دیں اور ہمیں اس راستے پر چلا دیں جو اُس کا راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں