Hazrat Hassan Basri Story 44

حضرت حسن بصری کے زمانے میں ایک نوجوان کا عجیب قصہ

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ تھا۔ آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی اور وہ نہایت عبادت گزاربھی تھی۔ اس بے چاری خاتون کا خاوند جوانی میں ہی چل بسا تب اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا، لیکن اس سے شاید میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے۔ ”یہی میرا سہارا سہی“ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہ سب سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دے دی۔

وہ ماں اپنے بچے کا گھر میں تو پورا خیال رکھتی لیکن جب وہ بچہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی۔ اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی۔ اٹھتی ہوئی جوانی بھی تھی یہ جوانی دیوانی مستانی ہوجاتی ہے چنانچہ آہستہ آہستہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا۔ شباب اور شراب کے کاموں میں پڑ گیا، ماں برابر سمجھاتی رہی لیکن اس لڑکے پر کچھ اثر نہ ہوتا‘ چکنا گھڑا بن گیا‘ چناچہ وہ خاتون اپنے بیٹے کو حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس لے کر آتی، حضرت حسن بصری بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا۔ حضرت حسن بصری کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اس کا دل پتھر بن گیا ہے،اس کے دل پر مہر لگ گئی ہے بہرحال ماں تو ماں ہوتی ہے۔ ماں اسے پیار سے سمجھاتی رہی، میرے بیٹے نیک بن جاو تمہاری زندگی اچھی ہوجائے گی۔

وقت گزرتا گیا اورکئی سال برے کاموں میں لگا کراس نے اپنی دولت کے ساتھ ساتھ اپنی صحت بھی برباد کرلی اوراس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہوگئیں۔ معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ آہستہ آہستہ اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑگیا۔ اب اسے آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا ماں نے پھر سمجھایا کہ بیٹا! تم نے اپنی زندگی توخراب کرلی‘ اب آخرت بنالے اور توبہ کرلے، اللہ تعالیٰ بڑا غفور الرحیم ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کومعاف کر دیگا۔ جب ماں نے سمجھایا اس کے دل پر کچھ اثر ہوا۔ اورکہنے لگا! ماں میں کیسے توبہ کروں؟ میں نے بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں۔

ماں نے کہا بیٹا حضرت حسن بصری سے پوچھ لیتے ہیں۔ بیٹے نے کہا ماں اگرمیں فوت ہوجائوں تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ پڑھائیں۔ ماں حضرت حسن بصری کے پاس گئی، حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا۔ اس لیے قیلولہ کیلئے لیٹنا چاہتے تھے۔ ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا کون؟ خاتون نےعرض کیا کہ حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں۔ میرا بچہ اب آخری وقت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ گھرتشریف لے چلیں۔ حضرت حسن بصری نے سوچا یہ پھر دھوکا دے رہا ہے اور میرا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا۔ سالوں گزرگئے اب تک اس پرکوئی بات اثر نہ کرسکی اب کیا کرے گی۔ کہنے لگے!میں اپنا وقت ضائع کیوں کروں؟ میں نہیں آتا۔ ماں نے کہا حضرت اس نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری پڑھائیں۔ حضرت نے کہا میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاوں گا۔ اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی۔ اب وہ شاگردہ تھی چپ کرگئی، روتی ہوئی گھر آگئی۔

ماں کو دیکھتے ہی بیٹے نے پوچھا، ماں کیا ہوا؟ ماں نے جواب دیا، ایک طرف تیری حالت ہے اور دوسری طرف حضرت نے انکار کردیا ہے۔ اب یہ بات لڑکے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہنے لگا، ماں میری ایک وصیت سن لیجئے ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیا؟

عجیب وصیت

بیٹا کہنے لگا امی میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا، میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا، جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے۔ ماں نے دکھ بھرے لہجے میں پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔ میری پیاری ماں مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا۔ ماں نے کہا وہ کیوں؟ کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کردینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے

جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی، روح قبض ہوگئی، ابھی روح نکلی ہی تھی ماں آنکھیں بند کررہی تھی تو دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا حسن بصری ہوں۔ کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سوگیا۔ خواب میں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا۔ پروردگار نے فرمایا حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے۔ تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے۔ اللہُ اکبر

یا اللہ! آپ کتنے کریم ہیں کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے تمام گناہوں کو معاف کردیتے ہیں.

یا اللہ ہمیں بھی معاف فرما دیں اور ہدایت سے ہمکنارفرمائیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں