Strange story of a funeral 6

ایک جنازہ کی عجیب کہانی

ایک علاقے میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا، جب جنازہ اٹھا کر قبرستان جانے لگے تو ایک آدمی آگے آیا اور چارپائی کا ایک پائوں پکڑ کر بولا کہ مرنے والے نے میرے دس لاکھ روپے دینے ہیں، پہلے مجھے بتاؤ کہ میرے وہ پیسے کون دے گا، پھر ہی اس کا جنازہ اٹھانے دونگا۔ تاکہ میں اس کے لئے دعا کروں تاکہ اس کی قبر کی منزلیں آسان ہو سکیں۔ تمام لوگ ایک بار سکتے میں آ گئے اور ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھنے لگے۔ کچھ کہنے لگے کہ وہ آدمی مر گیا اور اس کو اپنے پیسوں کی پڑی ہے۔

آخر اس کا ایک بیٹا آگے بڑھا اور بولا کہ والد نے ہمیں اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا کہ وہ مقروض ہیں۔ دوسرا بیٹا بھی بولا، ہم کیسے مان لیں کہ تو سچھ کہہ رہا ہے۔ یا اس بات کا کوئی گواہ ہے تو بھی بتا، ورنہ ہم نہ مقروض ہیں اور نہ رقم ادا کریں گے۔ لیکن وہ آدمی بضد رہا کہ میرے پیسے ابھی دو ورنہ چارپائی نہیں چھوڑوں گا۔ سب نے اس شخص کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ بات نکلتے نکلتے اس مرحوم کی اکلوتی بیٹی تک بھی جا پہنچی۔ جیسے ہی بیٹی نے یہ سب سنا تو بلا کسی عزر اس نے اپنا سارا زیور اس آدمی کو بھجوا دیا اورپیغام بھجوایا کہ اس آدمی سے پوچھنا کہ اگر تیرا سارا قرض ادا ہو گیا تو میرے والد کے لئے دعا کرنا اور جنازے کو جانے دینا۔ اور اگر تیرا پھر بھی قرض رہتا ہے تو بھی میرے والد کا جنازہ جانے دے اور رقم مجھ سے آکر لے لو۔

مرحوم کی بیٹی کا پیغام سن کر وہ آدمی کھڑا ہوا اور بولا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے دس لاکھ لینے نہیں بلکہ اس کو ادا کرنے تھے اور میں مرحوم کے کسی بھی وارث کو جانتا نہ تھا تو میں نے جاننے کے لئے یہ سب کیا، تاکہ مرحوم کی امانت اس کے وارث کو واپس کر سکوں۔ اور اب مجھے پتا چل گیا ہے کہ اس کا بس ایک ہی وارث ہے جو کہ اس کی بیٹی ہے۔ یہ کہ کر اس نے مرحوم کے لئے دعا کی اور بولا خوش نصیب ہے یہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے بیٹی جیسی نعمت سے نوازا، جس نے کچھ نہ جانتے ہوئے بھی اپنے باپ کے مرنے کے بعد بھی قرض ادا کرنے کی حامی بھر لی، تا کہ اس کے والد کی آخری منزلیں بھی آسان ہو سکیں۔ یہ کہ کر وہ شخص گھر واپس گیا اور رقم لا کر اس شخص کی بیٹی کے حوالے کی اور دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔

اللہ آپ سب کا حافظ و نگہبان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں