The Best Way of Sleeping by ISLAM 49

سنت نبوی ﷺ کےمطابق سونے سے پہلے3 مرتبہ بستر جھاڑنے، دائیں کروٹ سونے اور سونے سے پہلے وضو کرنے کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ جانئیے

سنت نبوی ﷺ کےمطابق سونے سے پہلے3 مرتبہ بستر جھاڑنے دائیں کروٹ سونے اور سونے سے پہلے وضو کا حکم کیوں دیا گیا ؟
اسلام میں ہر حکم کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے، نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ جب بھی سونے لگو تو بستر کو تین بار جھاڑ لو اور دائیں طرف کروٹ لے کر سویا کرو۔ اب سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو نتائج نے سب کو حیران کر دیا، ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی بے اختیار سبحان الله کہہ اٹھیں گے اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 14 سو سال قبل جو سبق دیا تھا اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا، آج سائنس بھی ان احکامات کو مسلم تسلیم کر رہی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ سونے سے قبل اپنے بستر کو تین بار جھاڑ لینا چاہئے۔ بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے کہ اس حکم کا مقصد بستر پر کیڑے مکوڑوں یا کسی اور نقصان دہ چیز سے صاف کرنا ہے، لیکن اب سائنس دانوں نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق انسانی جسم میں میٹابولزم کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے جس کے باعث ہر پل سینکڑوں نئے سیل بنتے اور پرانے ٹوٹتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کے دوران جسم میں ٹوٹنے والے سیل بستر ہی پر گر جاتے ہیں جو انتہائی چھوٹے ہونے کے باعث نظر نہیں آتے۔ اگر بستر کو بغیر جھاڑے اس پرسونے کیلئے لیٹ جائیں تو یہ مردہ سیل جسم میں داخل ہو کر کئی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں اور سائنس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ان مردہ سیلز کو صاف کرنے کیلئے بستر کو کم از کم تین بار جھاڑنا لازمی ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے خطرہ ٹل جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے ہوئے دائیں کروٹ پر لیٹنے کا بھی حکم دیا ہے اور اس ضمن میں سائنس کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے دل پر دباﺅ بہت کم ہوتا ہے، جس کے باعث دل صحیح اور بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور سونے کے دوران بھی پورے جسم کو خون کی سپلائی بہترین انداز میں ہوتی ہے جبکہ دل کے دورے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ دائیں کروٹ پر سونے سے معدہ بھی اوپر کی جانب ہوجاتا ہے اور اسے رات میں کھائی جانے والی غذا کو ہضم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ رات سونے کے دوران معدے میں موجود غذا اچھی طرح ہضم ہوتی ہے جس کے باعث انسان بیدار ہونے پر خود کو تروتازہ محسوس کرتا ہے اور تیزابیت بھی نہیں ہوتی۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے مطابق سونے سے قبل باوضو ہو کر سونے کا حکم دیا گیا ہے۔ عشاء کی نماز سے قبل دانتوں کو مسواک کرنے اور پھر باوضو حالت ہی میں سونے کا حکم موجود ہے۔ اس کی سائنسی توجیح جو آج کے سائنسدان پیش کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ رات میں دانت صاف کرنے کے سبب انسان دانتوں کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ دل کی مہلک بیماریوں سے اور معدے کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ منہ میں موجود کھانے کے ذرات کو اگر سونے سے پہلے صاف نہ کیا جاۓ تو وہ جراثیموں کا سبب بنتے ہیں۔ رات میں وضو کے بعد کچھ نہ کھانے پینے کا بھی حکم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سونے سے قبل جب انسان وضو کرتا ہے تو اپنا مثانہ پیشاب سے خالی کر لیتا ہے جس کے سبب انسان گردوں کی بھی کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، الغرض اس حکم میں انسان کے لئے بے شمار فوائد ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتے لیکن سائنس کی مدد سے آج وہ سب کے سامنے عیاں ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ یورپ کے لوگ سائنس کی بات مان کر اس حکم پر عمل کر رہے ہیں لیکن ہم آقا دو عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر آج بھی عمل نہیں کرتے۔
اللّه پاک ہمیں اپنے محبوب کے تمام احکامات پر عمل کرنے اور سنت کے مطابق سونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں