The Prime name in Islam is ALLAH 27

اسم اعظم کیا ہے؟ اس کے ورد کے فضائل

شیخ عبد القادر جیلانی ؒ اور اسم اعظم

شیخ عبد القادر جیلانیؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسم اعظم لفظ اللہ ہے۔ بشرطیکہ اس پاک نام کو جب لیا جائے تو دل میں اس کے سوا کچھ بھی نہ ہو، عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ عوام کیلئے اس پاک نام کو اس طرح لینا چاہیے کہ جب یہ زبان پر جاری ہو تو عظمت و خوف کے ساتھ ہو اور خواص و بڑے بزرگوں کیلئے اس طرح ہو کہ اس پاک نام والے کی ذات و صفات کا بھی استحضار ہو اور اخص الخواص کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس پاک ذات کے سوا دل میں کوئی چیز بھی نہ ہو، یاد رہے کہ پہلے درجے کے لوگ عوام ہیں، دوسرے درجے کے خواص اور تیسرے درجے کےاخص الخواص بزرگ جیسا کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ، حضرت جنید بغدادیؒ وغیرہ۔ شیخ عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی یہ مبارک نام اتنی کثرت سے ذکر کیا گیا ہے کہ حد نہیں، جس کی مقدار 2584 دو ہزار پانچ سو چوراسی بتاتے ہیں۔

اسم اعظم کیا ہے؟

یہ اسم مبارک یعنی لفظ اللہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے اور کسی پر نہیں بولا جاتا اور اس کا لفظ اشتقاق (یعنی جس سے لفظ نکلتا ہے)، یا تو الوہیت کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے عبادت۔ مطلب یہ ہے کہ اس ذات کی عبادت جو مستحق عبادت ہے یا اس لفظ کا مادہ یعنی اصل ولہ ہے۔ یعنی حیرانی۔ کیونکہ تمام عقلیں اس ذات باری تعالیٰ کی حقیقت و عظمت معلوم کرنے میں عاجز و بے بس ہیں۔
جیسا کہ اکبر نے کہا ہے۔
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
یا اس لفظ کا مادہ اشتقاق الہت سے ہے۔ جس کا مطلب ہے خوف زدہ ہو کر رجوع کرنا، کیونکہ تمام مخلوقات اپنی حوائج میں اسی کی طرف رجوع کرتی ہیں اور مخلوق اسی ذات اقدس کے ذکر پاک سے ہی سکون حاصل کرتی ہے، قلوب اس کے ذکر سے اطمینان و چین پکڑتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: خبردار خدا کی یاد ہی سے چین و سکون پاتے ہیں دل۔ (پ 13 س الرعد آیت 13) (بحوالہ نماز مسنون کلاں ص 424)

اسم اعظم کی خاصیت

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے اسماء الحسنیٰ میں بیان فرمایا ہے کہ اسم مبارک کی خاصیت یہ ہے کہ جو شخص اس کو ہر نماز کے بعد صدق دل سے سو مرتبہ پڑھے، خداتعالیٰ اس کے دل کو نورانی کر دیتا ہے۔ (شرح انواع جلد 1 ص5-4)
جو شخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ یا اللہ کا وظیفہ پڑھے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے دل سے تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے اور عزم و یقین کی قوت نصیب ہوگی۔ جو لاعلاج مریض بکثرت یا اللہ کا ورد رکھے گا، اس کے بعد شفاء کی دعا مانگے، اس کو کامل شفاء نصیب ہوگی۔ (حصن حصین و معارف الحدیث جلد 5)
علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے
نگاہ الجھی ہوئی رنگ و بو میں
خرد کھو گئی چار سو میں
نہ چھوڑ اے دل فعاں صبح گاہی
امان شاید ملے اللہ ہُو میں
کہا جاتا ہے کہ لفظ اللہ کا ورد تمام مشکلات کو دور کر دیتا ہے لیکن جب بھی پڑھو تو دل کی گہرائیوں سے، لفظ میں ڈوب کر، اللہ کی بڑائی دل میں رکھ کر، اللہ سے محبت اور خوف کے ساتھ، تو دل کو ایک تو جو سکون ملے گا اور دوسرا معاملاتِ زندگی میں آسانیاں پیدا ہونگی۔
اللہ ہم سب کو اس پاک کلام کا صبح و شام ورد کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں