The Question-Answer Section between Bayazid Bastami and Jewish 5

حضرت بایزید بسطامی ؒ اور یہودی راہب کے درمیان سوالات و جوابات کا تاریخی قصہ

یہودی خطیب اپنی قوم سے مخاطب تھا کہ اچانک سامنے بیٹھے شخص پر اس کی نظر پڑی اور ایک دم سے وہ رک گیا پھر بولا، ہم میں کوئی محمدی آگیا ہے ۔ یہ یہودیوں کا ایک نامی گرامی خطیب تھا جس کی زبان اچانک بولتے بولتے بند ہوگئی اور بدحواسی کا شکارہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ کیا اس محمدی کو قتل کردیں؟ نہیں نہیں قتل مت کرو۔ یہودی خطیب پر لرزہ طاری تھا، اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی، پھر اس شخص سے مخاطب ہو کر بولا، او محمد کے کلمہ گو۔ کیا تو میرا مقابلہ کرسکتا ہے؟ مجمے میں سے ایک بزرگ کھڑے ہوگئے جنہیں دنیا حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کے نام سے یاد کرتی ہے انہوں نے کہا او یہودی تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ گو کے بارے میں سنا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ گو کو نہیں سنا۔ پوچھ کیا پوچھنا چاہتا ہے لیکن ایک بات یاد رکھ، میں بھی تجھ سے ایک سوال کروں گا، کیا تو جواب دے گا؟ یہودی خطیب نے کہا کہ ہاں دوں گا، مجھے قبول ہے۔ حضرت بایزید رحمہ اللہ سٹیج پر چلے گئے، دونوں اب آمنے سامنے تھے، سوالات کا سلسلہ یہودی خطیب کی طرف سے شروع ہوا اور اس نے اپنا پہلا سوال پوچھا۔

ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہیں؟ فرمایا اللہ ایک ہے اس کے ساتھ دوسرا نہیں۔ جواب سنتے ہی یہودی خطیب نے سوالات کے سلسلہ کو آگے بڑھایا اور پوچھا۔
دو بتاؤ جس کا تیسرا نہ ہو؟ فرمایا “الیل والنھار” دن اور رات اس کا تیسرا نہیں۔
تین بتاؤ جس کا چوتھا نہیں؟ فرمایا لوح، قلم اور کرسی یہ تین ہیں اس کا چوتھا نہیں۔
چار بتاؤ جس کا پانچواں نہیں؟ فرمایا تورات، زبور، انجیل اور قرآن یہ چار ہیں ان کا پانچواں نہیں۔
پانچ بتاؤ جس کا چھٹا نہیں؟ فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں چھ نہیں۔
چھ بتاؤ جس کا ساتواں نہیں؟ فرمایا “خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش” اللہ نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے سات نہیں۔
سات بتاؤ جس کا آٹھواں نہیں؟ فرمایا “الم تروا کیف خلق اللہ سبع سموات طباقا وجعل القمر فیھن نورا وجعل الشمس سراجا” میرا رب کہتا ہے میں نے سات آسمان بنائے اس لیے آسمان سات ہیں اس کا آٹھواں نہیں۔
آٹھ بتاؤ جس کا نواں نہیں؟ فرمایا “ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ” میرے رب کے عرش کوآٹھ فرشتوں نے پکڑا ہوا ہے 9 نے نہیں۔
نو بتاؤ جس کا دسواں نہیں؟ فرمایا “وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون” حضرت صالح علیہ السلام کی قوم میں 9 بڑے بڑے بدمعاش تھے دسواں نہیں تھا اللہ نے9 کہا، دس نہیں۔
دس بتاؤ جس کا گیارہوا نہیں؟ فرمایا حج میں کوئی غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات روزے وہیں رکھنے اور تین گھر میں رکھنے کا حکم دیا ہے، تلک عشرۃ کاملہ یہ دس ہیں گیارہ نہیں۔
گیارہ بتاؤ جس کا بارہواں نہیں؟ فرمایا یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی تھے بارہ نہیں۔
وہ بارہواں جس کا تیرہواں نہیں؟ فرمایا سال میں اللہ نے بارہ مہینے بنائے ہیں تیرہ نہیں۔
وہ تیرہ جس کا چودہ نہیں؟ فرمایا “رایت احد عشرکوکبا والشمس والقمر رایتھم لی سجدین” حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہا کہ میں نے گیارہ ستارے دیکھے اور ایک سورج دیکھا اور ایک چاند دیکھا جو مجھے سجدہ کر رہے ہیں، یہ تیرہ ہیں چودہ نہیں۔

یہودی خطیب نے اگلا سوال پوچھا کہ وہ چیز بتاؤ جس کو خود اللہ نے پیدا فرمایا اور پھر اسی کے بارے میں خود ہی سوال کیا؟ فرمایا حضرت موسی علیہ السلام کا عصا یعنی ڈنڈا اللہ کی پیداوار ہے لیکن خود اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام سے اس کے بارے میں سوال کیا “وما تلک بیمینک یموسی” کہ اے موسی تیرے ہاتھ میں کیا ہے۔
سب سے بہترین سواری کون سے ہے؟ فرمایا سب سے بہترین سواری گھوڑا ہے۔
سب سے بہترین دن کو ن سا ہے؟ فرمایا جمعہ کا دن تمام دنوں میں سب سے بہترین ہے۔
سب سے بہترین رات کون سی ہے؟ فرمایا لیلۃ القدر کی رات سب سے بہترین ہے۔
سب سے بہترین مہینہ کون سا ہے؟ فرمایا رمضان کا مہینہ سب سے بہترین ہے۔
وہ کون سی چیز ہے جس کو اللہ نے پیدا کر کے اس کی عظمت کا اقرار فرمایا؟ فرمایا اللہ نے عورت کو مکار بنایا اور اس کے مکر کا اقرار کیا “ان کید ھن عظیم” عورت کا مکر بڑا زبر دست ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ بڑے سے بڑے عقلمند کے قدم اکھاڑنے والی ہو اور کوئی چیز نہیں ہے سوائے عورت کے مکر کے، بڑوں بڑوں کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
وہ کون سی چیز ہے جو بے جان مگر سانس لیتی ہے؟ فرمایا “والصبح اذا تنفس” میرا رب فرماتا ہے، مجھے صبح کی قسم جب وہ سانس لیتی ہے۔
وہ کون سی چودہ چیزیں ہیں جنہیں اللہ نے اطاعت کا حکم دیا اور ان سے بات کی؟ فرمایا سات آسمان سات زمین “ثم استوی الی السماء وھی دخان فقال لھا وللارض ائیتا طوعا او کرھا قالتا اتینا طائعین” اللہ نے سات زمین سات آسمان بنائے اور ان چودہ کو مخاطب کر کے فرمایا میرے سامنے جھک جاؤ تو ان چودہ کے چودہ نے کہا یا اللہ ہم آپ کے سامنے جھک رہے ہیں۔
وہ کون سی چیز ہے جسے اللہ نے خود پیدا فرمایا پھر اللہ نے اسے خرید لیا؟ فرمایا اللہ تعالی نے مسلمانوں کو پیدا کیا اور ان کو خود خرید لیا جنت کے بدلے میں “ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ” اے مسلمان اللہ کی قسم نہ تو بیوی کا ہے نہ تو بچوں کا ہے نہ تو تجارت کا ہے نہ تو صدارت کا ہے نہ تو حکومت کا ہے نہ تو کسی جماعت کا ہے تو اللہ اور اس کے رسول کا ہے، تو اللہ اور اللہ کے رسول کا بن کر چلے گا تو یہ سارا نقشہ تیرے تابع ہو کر چلے گا اور اگر تو اللہ اور اس کے رسول سے ٹکرائے گا تو اللہ تجھے ذلیل کر دے گا۔

وہ کون سی بے جان چیز ہے جس نے بے جان ہو کے بیت اللہ کا طواف کیا؟ فرمایا نوح علیہ السلام کی کشتی پانی پر چلی اور چلتے چلتے جب بیت اللہ پر آئی اور بیت اللہ کے سات چکر لگائے۔
وہ کون سی قبر ہے جو اپنے مردے کو لے کر چلی؟ فرمایا حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی جو حضرت یونس علیہ السلام کو چالیس دن لے کر اندر چلتے پھرتی رہی وہ قبر کی طرح تھی اور قبر کی طرح چل رہی تھی، حضرت یونس علیہ السلام کو پیٹ میں بیٹھا کر نہ مرنے دیا اور نہ بھوکا رکھا نہ پیاسا رکھا نہ بیمار کیا نہ پریشان، حضرت یونس امانت بن کے بیٹھے رہے۔
کہا بتائو وہ کونسی قوم ہے جس نے جھوٹ بولا پھر بھی جنت میں جائے گی؟ فرمایا یوسف علیہ السلام کے بھائی وجاؤا علی قمیصہ بدم کذب قال بل سولت لکم انفسکم امرا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی شام کو آئے اور بکرے کا خون کرتے پر مل کر لے آئے اور جھوٹ بولا کہ یوسف کو بھیڑیا اٹھا کے لے گیا ہے لیکن حضرت یعقوب کی توبہ اور استغفار کرنے پر اللہ ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔
وہ کون سی قوم ہے جو سچ بولے گی پھر بھی جہنم میں جائے گی؟ فرمایا یہودی اور عیسائی ایک بول میں سچے ہیں یہودی کہتے ہیں عیسائی باطل پر ہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہودی باطل پر ہیں اس بول میں دونوں سچے ہیں “وقالت الیہود لیست النصاری علی شیء وقالت النصاری لیست الیھود علی شیء” دونوں سچے ہیں اس بول میں لیکن دونوں جہنم میں جائیں گے۔

اس کے بعد یہودی عالم خاموش ہوگیا، اب اس کے پاس کوئی بھی سوال نہ تھا۔ اب باری حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی۔ انہوں نے یہودی عالم کو مخاطب بنا کر ایک سوال کیا کہ “ما مفتاح الجنۃ” مجھے بتا جنت کی چابی کیا ہے؟ یہودی عالم خاموش ہو گیا تو نیچے مجمع سے لوگوں نے کہا بولتے کیوں نہیں؟ بولو تم نے سوالوں کی بوچھاڑ کی وہ ہر ایک کا جواب دیتا رہا اور آپ ایک کا بھی جواب نہیں دے رہے۔ یہودی خطیب کہنے لگا، جواب مجھے آتا ہے مگر تم مانو گے نہیں۔ حضرت با یزید نے فرمایا پتہ ہے تو مانتے کیوں نہیں؟ لوگوں نے کہا اگر توں کہے گا تو ہم مان لیں گے۔ اس نے کہا کہ جنت کی چابی تو محمد رسول اللہ ہیں۔ چنانچہ سارا مجمع یہودی خطیب کی یہ بات سن کے حیران ہوا کہ اگر معاملہ یہ ہے تو پھر تم نے آج تلک یہ ہم سے کیوں چھپایا۔ یہودی خطیب تو وہاں سے سرک گیا لیکن وہاں پر موجود سینکڑوں حقیقت پسند اور منصف مزاج لوگوں نے سرکار دوعالم کا کلمہ پڑھ لیا اور اسلام میں داخل ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں