The Second Name of Love is Body 7

محبت کا دوسرا نام جسم، آج کی محبت کا انجام

یہ کل رات کا واقعہ ھے ایک کالج کی طالبہ ہسپتال آئی اور اُس کے ساتھ اُسکی ہوسٹل کی ایک رُوم میٹ بھی تھی۔ دونوں کسی گرلز ھاسٹل سے آئیں تھیں۔ ایک طالبہ نے گائنا کالوجسٹ لیڈی ڈاکٹر کے سامنے رونا شروع کر دیا کہ میرا بوائے فرینڈ مُجھے چھوڑ کر جا چُکا ھے اور میں اُس کی وجہ سے حاملہ ھو چُکی ھوں، اللّہ کا واسطہ ہے، میرا ہونے والا بچہ ضائع کر دیجیئے۔ ڈاکٹر جو ایسے کیسیز پہلے بھی دیکھ چکی تھی اس نے فوراََ انکار کر دیا۔

لڑکی کے ساتھ آنے والی دوست نے بتایا کہ یہ ایک بہت عزت دار گھر سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا بوائے فرینڈ چھوڑکر جا چُکا ہے اور حال ہی میں ا س کے گھر والوں نے اس کی شادی رشتہ داروں میں طے کر دی ہے، کُچھ ہی ماہ بعد اس کی شادی ہے، مگر یہ حاملہ ہے، اگر یہ بات کھل گئی تو اس کے ماں باپ پورے خاندان میں شرمندہ ہو جائیگے، اس کے والد پہلے ہی دل کے مریض ہیں۔ یہ اس لڑکے سے سچا پیار کرتی تھی، اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سے شادی بھی کرے گا، لیکن پھر ایک دن ملنے کے بہانے اسے بلا کر پیار کا ثبوت مانگا لیکن جب یہ نہ مانی تو چھوڑنے کی دھمکی دینے لگا، جس پر یہ اس کی باتوں میں آ گئی۔ وہ دونوں لڑکیاں ڈاکٹرز کے سامنے گڑگڑا کے رونے لگیں کہ آپ ہی بدنامی سے پورے خاندان کو بچا سکتی ہیں اور اس کی ذندگی برباد ہونے سے بچا سکتی ہیں۔

لیڈی ڈاکٹر آخر کار مان گئی اور اُس لڑکی کا اَبارشن کر دیا، جس کے دوران خون ذیادہ بہ جانے کی وجہ سے وہ لڑکی مر گئی جبکہ بچہ تو دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ یہ صرف ایک تحریر نہیں ہے، ہمارے معاشرے کا ایک چہرہ ہے، آئے روز پورے ملک میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، کہیں لڑکی مر جاتی ہے تو کہیں مردہ بچہ کسی کوڑے کے ڈھیر میں پڑا ملتا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائیرل ہوئی جس میں ایک مردہ بچہ نالے سے نکالا جا رہا تھا، جسے اس کی اپنی ہی ماں نے بدنامی کے ڈر سے مار دیا تھا۔ حیرت کی بات یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ رحجان پڑھی لکھی لڑکیوں میں ذیادہ ہے۔

آج کل یہ حالات لومیرج میں بھی ہیں پسند کی شادی کسی نہ کسی طرح تو ہو جاتی ہے لیکن گھر والے ، لڑکی / لڑکے کو قبول نہیں کرتے اور پسند کی شادی کو توڑنے کیلئے کبھی کالا جادو والوں کے پاس جاتے ہیں اور کبھی لڑکی کا حمل ضائع کرنے کی ایس ہی کوشیشیں کی جاتی ہیں۔ ماں ،باپ انّا اور تسکین کرودہ کیلئے اپنی اولاد کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اُنکی زندگی بھی تباہی کر دیتے ہیں،آج کل تو بھاری شرائط پر بیٹیاں رخصت کی جاتی ہیں اور کچھ والدین تو معاوضہ بھی وصول کرتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بیٹیاں بیچنے والی رسم آج دوبارہ مسلمانوں میں قائم ہو رہی ہے، جیسا کہ ابھی چائینیز گینگ کی شادیوں والے معاملے میں سامنے آیا۔ ہمارے ہاں کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جہاں پیسے لے کر بیٹی بیچ دی جاتی ہے اور ماں نے پہلے ہی اپنی بیٹی کو پٹٹیاں پڑھا دی ہوتی ہے کہ بیٹی کسی نہ کسی طرح پیسہ یا زیورات لے کر بھاگ آنا، یا طلاق لے کر آ جانا تاکہ پھر کسی اور سے پیسے لے کر تمھیں بیچا جا سکے۔ اور کبھی ماں بیٹے کو بھڑکاتی ہے کہ بیٹا طلاق دے دے اور انہی کوششوں میں کبھی کبھی نوبت اسی طرح حمل گرانے تک آجاتی ہے کہ یہاں طلاق کروا کر فوراً وہاں شادی کر دیں گے۔ اور کبھی کبھی تو بال بچےدار ہونے کے باوجود والدین اپنے ، بیٹا ، بیٹی کی طلاق کروا دیتے ہیں اور اپنی سگی اولاد کے علاوہ معصوم بچوں کی بھی زندگی تباہی کر دیتے ہیں۔ پیدا کر لینے سے کوئی ماں،باپ نہیں بن جاتا،ماں،باپ بننے کیلئے ظرف،احساس کا ھونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوچنا چائیے کہ یہ ہماری بہن یا بیٹی سے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ مکافاتِ عمل تو چلنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں