True Prayer Facts in Islam 73

آج نماز بے حیائی سے کیوں نہیں روکتی؟ جان کریقین پختہ ہو جائیگا

ایک طالبِ علم اپنے استاد محترم کے پاس جا کر وہی سوال کرتا ہے جو کہ ہم میں سے ہر دوسرے شخص کے ذہن میں ہوتا ہے۔ آئیں شاگرد کی زبانی قصہ ملاحضہ کریں۔ میں نے سوال کیا کہ قرانِ مجید میں کہا گیا ہے: بے شک نماز بْرائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔(سورہ عنکبوت آیت 45) لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں، سود بھی کھاتے ہیں اور ان کے گھریلو معاملات میں بھی ناچاقی ہوتی ہے، بے حیائی کے کام بھی کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہم خود بھی نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے مکمل طور پر کنارہ کش نہیں کر پاتے، تو اِس آیت کا پھر مطلب کیا ہوا؟ استاد محترم نے بڑے دھیان سے بات سنی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ بیٹا، قرانِ مجید کی آیت پر نہیں بلکہ ہمیں اپنی نمازوں پر شک کرنا چاہئیے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آخر ہماری نمازوں میں ایسی کونسی کمی ہے جو ہمیں گناہوں سے نہیں روک پا رہا۔ صحابہ کرام نےکبھی بھی یہ سوال نہیں کیا، کیونکہ انکی نمازیں حقیقی نمازیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ صحابہ کرام تو فرماتے تھے کہ اگر ان کو کوئی پریشانی یا بیماری آ جاتی تو وہ صرف 2 نفل پڑھ کروہ اپنی پریشانی سے نجاد حاصل کر لیتے تھے۔ اب بھلا اس طرح سے سوچو کہ اگر ایک آدمی کو دن میں پانچ بار عدالت میں جج صاحب کا سامنا کرنا پڑے تو کیا وہ انسان جرم کرنے کے بارے میں سوچے گا بھی؟ جرم تو وہ انسان کرتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ عدالت سے بچ جائیگا۔ استاد محترم کا جواب سن کر مجھے اچانک وہ حدیث یاد آ گئی کہ بہت سے نمازیوں کی نمازیں انکے منہ پر مار دی جائینگی۔ اس کے ساتھ ہی میں دل میں دعا کرنے لگا کہ یا اللہ ہمیں حقیقی اور سچی نمازیں پڑھنے اور اس پر پابند رہنے کی توفیق عطا فرما دے. آمین۔

پھر میں نے دوسرا سوال کیا کہ نماز میں شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھنا کیسا عمل ہے؟ کیونکی بعض افراد کہتے ہیں کہ پینٹ فولڈ کر کے یا کوئی بھی کپڑا فولڈ کر کے مثلاً آ ستین وغیرہ فولڈ کر کے نماز پڑھنے سے نماز مکروہ تحریمی ہوجاتی ہے، اس طرح سے نماز نہیں ہوتی اور نماز کا دوبارہ پڑھنا لازم ہو جاتا ہے۔ کیا نماز میں کوئی بھی کپڑا فولڈ نہیں ہونا چاہیے اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر آپ کے دل میں تکبر نہیں ہے تو نماز میں ٹخنوں سے نیچے شلوار یا پینٹ رکھناجائز ہے، اور اس طرح سے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ استاد محترم نے جواب دیا کہ شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا تکبر کے قصد سے ہوتوحرام ہے اور بلاقصدِ تکبر مکروہ تحریمی ہے۔ اگر غیر ارادی طور پر کبھی شلوار کا پانچہ ٹخنوں سے نیچے لٹک جائے تو معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا یا لباس ہی ایسا سلوانا جائز نہیں۔ یہ متکبرین کی علامت ہے اور جب یہ فعل ہی متکبرین کی علامت ہے تو پھر یہ کہہ کر ٹخنوں کو چھپانا کہ نیت میں تکبر نہیں، بالکل بھی درست نہیں ہے۔ اگرکسی کالباس ایسا ہوکہ ٹخنے ڈھک جاتے ہوں تو اسے کم ازکم نمازسے پہلے پائنچہ لازمی اوپر کرلینا چاہیے، کیونکہ جو فعل نماز سے باہر گناہ ہو، نماز میں اس کا گناہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح نماز سے پہلے پائنچہ موڑدینے سے نماز مکروہ تحریمی نہیں ہوگی، کیونکہ حدیث میں وعید کف ثوب(کپڑے کو فولڈ کرنے) کے متعلق آئی ہے اورکف ثوب یہ ہے کہ نمازی دوران نماز آستین وغیرہ فولڈ کرے۔

حدیث کے شارحین نے کف ثوب کا یہی مطلب لکھا ہے اورپھر کف ثوب مکروہ تحریمی بھی نہیں، بلکہ مکروہ تنزیہی ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء اسے ان افعال کے تحت ذکر کرتے ہیں جو نماز میں مکروہ تنزیہی ہیں۔ یہ امر میری سمجھ سے بالا ہے کہ اگر تکبر نہیں ہے تو شلواریا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھنا جائز ہے۔ جیسا کہ بیان ہواکہ یہ فعل ہی تکبر کی علامت ہے، توکون ایسا ہے جو اپنے متعلق یہ ضمانت دے سکے کہ وہ متکبر نہیں ہے، البتہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ایسی ہستی گزری ہیں، جن کے متعلق قرآن وحدیث میں ہے کہ وہ کبر کے مرض سے پاک تھے، چناںچہ قرآن کریم نے انہیں اتقیٰ یعنی بہت زیادہ پرہیزگار کا لقب دیا ہے اور ان کے بدن کی ساخت ایسی تھی کہ لباس نیچے سرک جاتا تھا تو رسول پاک ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو، جوتکبر کے طورپر لباس نیچے لٹکاتے ہیں۔

(ابوداؤد شریف، کتاب اللباس، باب ماجاء فی اسبال الازار، النسخۃ الہندیۃ۲/ ۵۶۵، بیت الافکار رقم:۴۰۸۶) (صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، باب ما أسفل من الکعبین ففی النار۲/۸۶۱، رقم:۵۵۵۹))

اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کے دلوں کو ہدایت سے روشن فرما دیں اور ہماری نمازیں ایسی بنا دیں جو ہمیں برائی اور بے حیائی سے روک سکیں۔ آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں