Islamic Wedding story of Hazrat Zainab R.A 63

یا رسول اللہﷺ میں آپ سے آپ کی بیٹی زینبؓ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں، محبت کی ایک لازوال داستان

ابو العاص ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں اپنے لیے آپ کی بڑی بیٹی زینبؓ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: میں زینب کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کہ سکتا۔ بعد میں گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی زینب سے کہا، تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا ہاتھ مانگا ہے، کیا تم اس پر راضی ہو ؟ ایک دم سے زینبؓ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور مسکرائیں۔ رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور پھر ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینبؓ کے لیے قبول کر لیا۔ اس لمحے کے بعد سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے۔

ابو العاص سے زینبؓ کا ایک بیٹا علی اور ایک بیٹی امامۃ پیدا ہوئے۔ اس کے بعد آزمائشوں کا دور شروع ہوجاتا ہے کیونکہ کچھ عرصہ بعد نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوجاتی ہے اور آپﷺ اللہ کے رسول بن گئے۔ اس دوران ابو العاص کہیں سفر میں تھا لیکن جب گھر واپس آیا تو بیوی یعنی زینبؓ اسلام قبول کر چکی تھیں۔ جیسے ہی ابو العاص گھر میں داخل ہوا تو زینبؓ نے کہا : میرے پاس تمہارے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ یہ سننا تھا کہ ابو العاص اٹھ کر باہر نکلنے لگتا ہے تو زینبؓ خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے نکلتی ہے اور کہتی ہیں : میرے ابا جان نبی بنائے گئے ہیں اور میں اب اسلام قبول کر چکی ہوں۔ ابو العاص کہتا ہے : تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ اب دونوں میاں بیوی کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو کہ درحقیقت عقیدہ کا مسئلہ تھا۔ زینبؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے ابا جان کونہیں جھٹلا سکتی، نہ ہی میرے ابا جان کبھی جھوٹے تھے، وہ تو صادق اور امین ہیں، اور نہ میں اکیلی ہوں، جس نے اسلام قبول کیا ہے، میری والدہ اور بہنیں بھی دل سے اسلام قبول کر چکی ہیں، میرا چچا زاد بھائی علیؓ بن ابی طالب بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چچا زاد بھائی عثمانؓ بن عفان بھی اسلام قبول کر کے مسلمان ہوچکے ہیں، تیرے دوست ابوبکرؓ بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ابو العاص کہتا ہے لیکن میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھے یہ کہیں کہ اس نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے تمام آباو اجداد کو جھٹلا دیا۔ میں تیرے ابا جان کو ملامت نہیں کرتا۔ بہرحال ابو العاص نے اسلام قبول نہ کیا، حتیٰ کہ آپﷺ کی ہجرت کا وقت آگیا اورتب زینبؓ اپنے ابا جان رسول اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا، اے اللہ کے رسولﷺ : کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟ رسول اکرم ﷺ نےجواب دیا : تم اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا اور دونوں میاں بیوی اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی مقیم رہے حتیٰ کہ غزوہ بدر کا وقت آن پہنچا اور ابو العاص قریش کے لشکر کے ساتھ اپنے سسَر یعنی رسول اکرم ﷺ کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے روانہ ہوگیا۔ زینبؓ بہت پریشان اورخوفزدہ تھی کہ ان کا شوہر انہی کے ابا جان کے خلاف جنگ لڑنے جا رہا ہے، اسی وجہ سے روتی ہوئی کہتی ہیں: اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہو جائیں یا میں اپنے ابا جان کو کھودوں۔ خیر جنگ شروع ہوجاتی ہے اور ابو العاص بن الربیع رسول اکرم ﷺ کے خلاف بدر میں لڑتا ہے۔

جنگ ختم ہونے کے بعد اب داماد سسر کے قید میں تھا، خبر پھیلتے پھیلتے مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص کو جنگی قیدی بنا لیا گیا ہے۔ زینبؓ پوچھتی رہی کہ میرے ابا جان کا کیا بنا ؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے ہیں، اس پر زینبؓ نے سجدہ شکر ادا کیا۔ پھر سوال کیا کہ میرے شوہرابو العاص کا کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : اس کو مسلمانوں نے باقی قیدیوں کے ساتھ جنگی قیدی بنا لیا گیا ہے۔ یہ سن کر زینبؓ نے کہا : میں اپنے شوہر کا فدیہ (دیت) بھیج دوں گی۔ لیکن شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینبؓ کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز نہ تھی، اسی لیے زینبؓ نے اپنی والدہ ام المومنین حضرت خدیجہؓ کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اوراپنے شوہر ابو العاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد محترم کی خدمت میں روانہ کر دیا۔ رسول اکرم ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کرنے کے بعد انھیں آزاد کر رہے تھے کہ اچانک اپنی زوجہ خدیجہؓ کے ہار پر نظر پڑی توفوراََ پوچھا : یہ کس کا فدیہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو العاص بن الربیع کا فدیہ ہے۔ یہ سننا تھا کہ رسول اکرم ﷺ روپڑے اور فرمایا : یہ تو خدیجہؓ کا ہار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے لوگو یہ شخص میرا داماد نہیں، کیا میں اس کو رہا کردوں؟ اگر تم لوگ اجازت دیتے ہو تو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسولﷺ۔ رسول اکرم ﷺ نے ہار ابو لعاص کو دیا اور فرمایا : زینبؓ سے کہنا کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔ پھر فرمایا : اے ابو العاص کیا میں تم سے اکیلے میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟ اس کے بعد داماد کو ایک طرف لے جا کر فرمایا : اے ابو العاص اللہ رب العزت نے مجھے غیر مسلم شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے کیا تم میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟ ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔

دوسری جانب زینبؓ اپنے شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی تو فوراََ کہا : میں جا رہا ہوں۔ زینبؓ نے کہا : کہاں؟ ابو العاص نے جواب دیا، تم اپنے والد کے پاس جانے والی ہو۔ زینبؓ نے پوچھا: کیوں؟ ابو العاص نے جواب دیا، میری اور تمہاری جدائی کے لیے، جاو اپنے ابا جان کے پاس چلی جاو، اور ساری بات بتائی۔ زینبؓ نے پھر پوچھا: کیا تم بھی میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟ ابو العاص کہتا ہے، نہیں۔ تو زینبؓ اپنے بیٹی اور بیٹے کو لے کر مدینہ منورہ چلی جاتی ہیں۔ زینبؓ کے مدینہ آنے کے بعد 6 سالوں کے دوران کئی رشتے آئے لیکن زینبؓ نے کوئی بھی قبول نہیں کیا کیونکہ وہ اسی امید سے انتظار کر رہی تھیں کہ شاید شوہراسلام قبول کر لے اور واپس آ جائے، لیکن ابو العاص نہ آیا اور نہ ہی اسلام قبول کیا۔

6 سال بعد جب ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پرتھا، تو صحابہ کی ایک جماعت نے ابو العاص کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ مدینہ لے گئی، ابو العاص نے مدینہ جاتے ہوئے زینبؓ اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا، فجر کی آذان کے وقت ابو العاص کو حضرت زینبؓ کے دروازے پر پہنچایا گیا تو زینبؓ نے اپنے شوہر کو دیکھتے ہی پوچھا، کیا اسلام قبول کر چکے ہو؟ ابو العاص نے جواب دیا، نہیں۔ تو زینبؓ نے کہا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں، خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے والد کو خوش آمدید۔ فجر کا وقت ہو گیا اور رسول اکرم ﷺ نے فجر کی نماز کی امامت کی، نماز کے بعد مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟ سب لوگوں نے کہا :جی ہاں یا رسولﷺ۔ اس کے بعد زینبؓ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا والد بھی ہے، میں ان کو پناہ دیتی ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے قبول کر لیا اور فرمایا : اے لوگو یہ میرا داماد نہیں، اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی، سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کا مال واپس کر کے چھوڑ دیا جائے تاکہ یہ اپنے شہر واپس چلا جائے، یہ مجھے پسند ہے۔ اگر تم لوگ نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے، میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔ لوگوں نے فوراََ کہا کہ ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔ جس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : اے زینب تم نے جس کو پناہ دی، ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔ اس کے بعد ابو العاص اپنی بیوی زینبؓ کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے۔ رسول اکرم ﷺ نے زینبؓ سے تاکید کی تھی کہ اے زینب اس کا اکرام کرو، یہ تیرا خالہ زاد ہے اور بچوں کا باپ ہے، مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے، کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔

گھر جا کر زینبؓ نے ابو العاص بن ربیع سے کہا : اے ابو العاص، جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے، کیا اب اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے۔ ابو العاص نے پھر بھی وہی کہا : نہیں۔ بعد میں ابو العاص اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گیا۔ جب مکہ پہنچا تو لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! یہ لو اپنا اپنا مال، مال دینے کے بعد پھر کہا کہ کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے؟ لوگوں نے جواب دیا، اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔ اس کے بعد ابو العاص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد ابو العاص مدینہ روانہ ہوگئے اور سفر کے بعد جب مدینہ پہنچے تواس وقت پھر فجر کا ہی وقت تھا۔ سیدھا نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور کہا، کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ اس کے بعد ابو العاصؓ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ کیا آپ زینبؓ کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟ یہ سننے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ابوالعاصؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : آو میرے ساتھ، زینبؓ کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینبؓ سے فرمایا : یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟ زینبؓ کا چہرہ پھر سرخ ہوا اور مسکرائیں۔ اور پھر اس طرح دونوں کی جدائی کے دن ختم ہو گئے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے صرف ایک سال بعد ہی حضرت زینبؓ کا انتقال ہوگیا، جس پر ابو العاصؓ لوگوں کے سامنے زارو قطار رونے لگے، حتیٰ کہ رسول اکرم ﷺ ابو العاصؓ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تسلی دیتے تھے، جواب میں ابو العاصؓ بس یہی کہتے :اے اللہ کے رسول ﷺ، اللہ کی قسم، زینب کے بغیر میں دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا اورپھر ایک سال کے بعد ہی ابو العاصؓ بھی انتقال کر گئے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں پکا اور سچا مسلمان بنائیں اور ہماری تمام خطاوں کو معاف فرما دیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں