Jesus Miracle when he Raised Israels Wife 7

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اسرائیلی کی بیوی کو زندہ کیا تب کیا ہوا؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ

بیان کیا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا، جس کی بیوی نہایت حسین تھی، وہ اسرائیلی اپنی بیوی سے انتہا کی محبت کرتا تھا۔ جب اس عورت کا انتقال ہو گیا تو اس اسرائیلی کو بہت زیادہ صدمہ ہوا اور وہ اس کی قبر پر بیٹھ کر ایک مدت تک روتا رہا، ایک دن اتفاقاََ حضرت عیسیٰ ؑ کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے اس اسرائیلی کو پریشان حال دیکھ کر اس کی وجہ پوچھی۔ جب اسرائیلی نے اپنا واقعہ بیان کیا تو حضرت عیسیٰ ؑ نےدریافت فرمایا، کیا تو چاہتا ہے کہ میں اس کو تیرے لیے زندہ کر دوں؟ اسرائیلی نے درخواست کی، جی ہاں! میں یہی چاہتا ہوں۔

چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس قبر کے مردہ کو آواز دی کہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا! تو قبر سے ایک حبشی غلام جس کے ناک کے نتھنوں، آنکھوں اور جسم کے دوسرے سوراخوں سے آگ کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں، حضرت عیسیٰ ؑ کو دیکھتے ہی غلام نے کلمہ پڑھا “لا الہٰہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ”۔ اسرائیلی نے یہ دیکھ کر عرض کیا۔ حضور! مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، میری بیوی کی قبر تو دوسری ہے۔ یہ سن کر حضرت عیسیٰ ؑ نے حبشی کو حکم دیا کہ تم اپنی قبر میں واپس ہو جاؤ، چنانچہ وہ حبشی مردہ ہو کر گر گیا اور اس کو پھر مٹی سے چھپا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ نے اس دوسری قبر کی جانب توجہ فرمائی اور حکم دیا کہ اے صاحبِ قبر اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا! چنانچہ قبر پھٹی اور اس سے ایک عورت سر سے مٹھی جھاڑتی ہوئی باہر آ گئی، جسے دیکھ کر وہ اسرائیلی بولا کہ یا روح اللہ! یہی میری بیوی ہے۔ اور پھر حضرت عیسیٰ ؑ کے حکم سے وہ اسرئیلی اپنی بیوی کو لے کر واپس روانہ ہو گیا۔ عرصہ دراز سے جاگنے اور تھکے ہونے باعث اسرائیلی پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔ بیوی نے جواب دیا کہ کرلیں آپ آرام۔ چنانچہ وہ اسرائیلی اپنی بیوی کے زانو پر سر رکھ کر سو گیا۔۔۔

کچھ دیر بعد ایک شہزادے کا وہاں سے گزر ہوا، شہزادہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور شہزادہ بھی کمال کا حسین تھا۔ شہزاے کو دیکھ کر اسرائیلی کی بیوی اس پر عاشق ہو گئی اور اس کا دل قابو میں نہ رہا، اس نے اپنے شوہر کا سر زانو سے نیچے رکھا اور فرطِ محبت و غلبہ عشق سے مجبور ہو کر شہزادے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ دوسری طرف جیسے ہی شہزادے کی نظر اس پر پڑی وہ بھی اس پر فریفتہ ہو گیا۔ پھر عورت کی خواہش پر اس کو اپنے گھوڑے پر بٹھا کر لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب اسرائیلی کی آنکھ کھلی اور اس نے اپنی بیوی کو آس پاس نہ دیکھا تو پریشانی میں اسے ڈھونڈنے لگا۔ اسے گھوڑے کے پاؤں کے نشان نظر آئے، جن کے پیچھے چلتا ہوا آخرکار وہ شہزادے کے پاس جا پہنچا اور اپنی بیوی کو بھی اس کے ساتھ دیکھا۔ اسرائیلی نے شہزادے سے کہا، یہ میری بیوی ہے آپ اس کو چھوڑ دیں۔ ابھی شہزادہ حیران ہو کر دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ عورت بولی، میں تیری بیوی نہیں ہوں، بلکہ شہزادے کی لونڈی ہوں۔ یہ سن کر شہزادہ بھی اسرائیلی سے کہنے لگا کہ کیا تو میری لونڈی کو لینا چاہتا ہے؟ اسرائیلی ہکا بکا رہ گیا اور بولا، خدا کی قسم! یہ میری بیوی ہے، جس کو میرے سردار حضرت عیسیٰ ؑ نے مرنے کے بعد زندہ کیا ہے۔

ابھی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ اتفاقاََ حضرت عیسیٰ ؑ بھی وہاں تشریف لے آئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو دیکھتے ہی اسرائیلی بولا، یا روح اللہ! کیا یہ میری بیوی نہیں ہے؟ جس کو آپنے میرے لیے زندہ کیا ہے؟ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، ہاں! یہ وہی ہے۔ یہ سنتے ہی عورت پھر بولی یا روح اللہ! یہ شخص جھوٹا ہے، میں تو اس شہزادے کی لونڈی ہوں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، تو وہ عورت نہیں جس کو میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کیا ہے؟ عورت نے جواب دیا، یا روح اللہ! بخدا میں وہ نہیں ہوں۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، جو جان میں نے خدا کے حکم سے تجھے دی ہے، اس کو واپس کر دے!!! یہ سنتے ہی وہ عورت پھر سے مردہ ہو کر گر پڑی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے کہ جو شخص ایسے آدمی کو دیکھنا چاہے جو کافر مرا تھا اور زندہ ہو کر ایمان لایا تو وہ اس حبشی غلام کو دیکھ لے، جو پھر ایمان کی حالت میں مرا ہے۔۔۔ اور جو کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو مومن مرا تھا، پھر اللہ نے اس کو زندہ کیا اور وہ کافر ہو کر اسی حالت میں مر گیا تو وہ اس عورت کو دیکھ لے۔

اس واقعہ کے بعد اسرائیلی نے قسم کھا لی کہ وہ کبھی دوبارہ نکاح نہیں کرے گا، ساتھ ہی وہ میدانوں کی طرف نکل گیا، جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہ کر اسے موت آ گئی ، اللہ تعالی اس پر رحم فرمائے۔ (بحوالہ حکایتِ الصالحین)

اس کہانی کا حاصل یہ ہے کہ نبی اور رسول کے اقرار و انکار کا نتیجہ اس حکایت سے ظاہر ہوتا ہے اور سبق ملتا ہے کہ کامیابی اپنے نبی کی اطاعت و محبت سے ہی مل سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس واقعہ سے سبق حاصل کر نے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین

101 سبق آموز واقعات – مولانا ہارون معاویہ (صفحہ: 16 سے 18)
 

سبق آموز واقعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں