Jesus Miracle when he Raised Israels Wife 8

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اسرائیلی کی بیوی کو زندہ کیا تب کیا ہوا؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ

بیان کیا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا، جس کی بیوی بہت حسین تھی، وہ اسرائیلی اپنی بیوی سے انتہا کی محبت کرتا، اس کا ہر طرح سے خیال کرتا۔ ایک دن اچانک اس کی بیوی انتقال کر گئی جس کا اسرائیلی کو بہت صدمہ ہوا اور وہ ایک عرصے تک اپنی بیوی کی قبر پر بیٹھا روتا رہا۔ ایک دن اتفاقاََ حضرت عیسیٰ ؑ کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے اس اسرائیلی کو پریشان حال دیکھ کر اس کی وجہ پوچھی تو اسرائیلی نے روتے ہوئے اپنا سارا واقعہ بیان کر دیا۔ ساری بات سن کر حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، کیا تو چاہتا ہے کہ میں تیری بیوی کو تیرے لیے زندہ کر دوں؟ اسرائیلی نےالتجا کی، جی ہاں! میں یہی چاہتا ہوں۔

چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس قبر کے مردہ کو آواز دی، اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا! فوراََ قبر سے ایک حبشی غلام باہر نکل آیا، جس کے ناک کے نتھنوں، آنکھوں اور جسم کے دوسرے سوراخوں سے آگ کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں، حضرت عیسیٰ ؑ کو دیکھتے ہی غلام نے کلمہ پڑھا “لا الہٰہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ”۔ اسرائیلی یہ دیکھ کر حیران ہو گیا اور کہنے لگا۔ حضور! شاید مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، میری بیوی کی قبر دوسری ہے۔ یہ سن کر حضرت عیسیٰ ؑ نے حبشی کو حکم دیا کہ تم اپنی قبر میں واپس ہو جاؤ، چنانچہ وہ حبشی مردہ ہو کر گر گیا جس کو ایک بار پھر مٹی سے چھپا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ نے اس دوسری قبر کی جانب دیکھا اور حکم دیا کہ اے صاحبِ قبر! اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا! ابھی یہ کلمات ادا ہی ہوئے تھے، قبر پھٹی اور اس سے ایک عورت سر سے مٹھی جھاڑتی باہر آ گئی، جسے دیکھ کر وہ اسرائیلی بولا، یا روح اللہ! یہی میری بیوی ہے، یہی میری بیوی ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ کے حکم سے وہ اسرئیلی اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گیا اور حضرت عیسیٰ ؑ اپنی راہ چل دیے۔ عرصہ دراز سے جاگنے اور تھکے ہونے کے باعث اسرائیلی پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا، مجھے بہت تھکان محسوس ہو رہی ہے اور میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔ بیوی نے جواب دیا کہ کرلیں آپ آرام، میں تب تک آپ کا خیال رکھتی ہوں، چنانچہ وہ اسرائیلی اپنی بیوی کے زانو پر سر رکھ کر سو گیا۔۔۔

اسرائیلی سو چکا تھا اور بیوی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں ایک شہزادے کا وہاں سے گزر ہوا، شہزادہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کمال کا حسین نظر آ رہا تھا۔ شہزاے کو دیکھنا تھا کہ اسرائیلی کی بیوی اس پر عاشق ہو گئی، اس کا دل اپنے قابو میں نہ رہا، اس نے اپنے شوہر کا سر زانو سے نیچے رکھا اور فرطِ محبت اور غلبہ عشق سے مجبور ہو کر شہزادے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ دوسری طرف جیسے ہی شہزادے کی نظر اس پر پڑی وہ بھی اسے دل دے بیٹھا اور اس خاتون کی تعریف کرنے لگا، اسرائیلی کی بیوی مسکراتی رہی۔ پھرشہزادہ خاتون کی خواہش پر اس کو اپنے گھوڑے پر بٹھا کرساتھ لے گیا۔

جب اسرائیلی کی آنکھ کھلی اور اس نے اپنی بیوی کو آس پاس نہ دیکھا تو پریشان ہو گیا اور پریشانی میں اِدھر اُدھر اسے ڈھونڈنے لگا۔ ایک جگہ اسے گھوڑے کے پاؤں کے نشان نظر آئے، اس نے سوچا کہ کوئی اس کی بیوی کو اغوا کر کے لے گیا ہے۔ اس نے ان نشانوں کے پیچھے چلنا شروع کر دیا، چلتے چلتے آخر وہ شہزادے کے سامنے جا پہنچا، شہزادے کے پاس اپنی بیوی کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر وہ پہلے سے اور ذیادہ حیران و پریشان ہو گیا۔ آخر اسرائیلی نے شہزادے سے کہا، یہ میری بیوی ہے آپ اسے میرے ساتھ جانے دیں۔ یہ سننا تھا کہ شہزادہ حیران ہو کر اسرائیلی کی طرف دیکھنے لگا، ابھی شہزادہ کوئی جواب دے ہی نہیں پایا تھا کہ وہ عورت بولی، میں تو تیری بیوی نہیں ہوں، بلکہ اپنے شہزادے کی لونڈی ہوں۔ یہ سن کر شہزادہ بھی اسرائیلی سے کہنے لگا کہ کیا تو میری لونڈی کو مجھ سے چھیننا چاہتا ہے؟ تیری ہمت کیسے ہوئی میری لونڈی کو اپنی بیوی بولنے کی، اسرائیلی ہکا بکا رہ گیا اور بولا، خدا کی قسم! یہ میری بیوی ہے، جس کو میرے سردار حضرت عیسیٰ ؑ نے مرنے کے بعد زندہ کیا ہے۔ بیوی انکار کرتی رہی، شہزادے اور اسرائیلی میں بحث جاری رہی۔

ابھی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ ایک دفعہ پھر حضرت عیسیٰ ؑ اسی طرف تشریف لے آئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو دیکھنا تھا کہ اسرائیلی بھاگ کر آپ کی جانب آیا اور بولا، یا روح اللہ! یا روح اللہ! کیا یہ میری بیوی نہیں ہے؟ جس کو آپنے میرے لیے زندہ کیا ہے؟ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا، ہاں! یہ وہی ہے۔
یہ سنتے ہی عورت پھر بولی یا روح اللہ! یہ شخص جھوٹا ہے، میں تو اس شہزادے کی لونڈی ہوں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس خاتون کی طرف دیکھا اور فرمایا، کیا تو وہ عورت نہیں جس کو میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کیا ہے؟ عورت نے ڈھٹائی سے جواب دیا، یا روح اللہ! بخدا میں وہ نہیں ہوں۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جلال سے فرمایا، جو جان میں نے خدا کے حکم سے تجھے دی، اسے واپس کر دے!!! یہ کلمات سننے تھے، اسرائیلی کی بیوی ایک بار پھر سے مردہ ہو کر گر پڑی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے کہ جو شخص اس آدمی کو دیکھنا چاہے جو مرا تو کافر تھا لیکن زندہ ہو کر ایمان لے آیا تو وہ اس حبشی غلام کو دیکھ لے، جو پھر ایمان کی حالت میں مرا ہے، اور جہنم سے بچ گیا اور جو کوئی ایسے انسان کو دیکھنا چاہے جو مرا تو مومن تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کیا لیکن وہ کافر ہو گیا اور اسی حالت میں مر گیا اور جہنم کو اپنا مقدر بنا لیا تو وہ اس عورت کو دیکھ لے۔ یہ کہہ کر حضرت عیسیٰ ؑ وہاں سے چل دیے۔
اس واقعہ کے بعد اسرائیلی نے قسم کھا لی کہ وہ کبھی دوبارہ شادی نہیں کرے گا، ساتھ ہی وہ میدانوں کی طرف نکل گیا، جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہ کر اسے موت آ گئی ، اللہ تعالی اس پر رحم فرمائے۔ (بحوالہ حکایتِ الصالحین)

اس کہانی کا حاصل یہ ہے کہ نبی اور رسول کے اقرار و انکار کا نتیجہ اس حکایت سے ظاہر ہوتا ہے اور سبق ملتا ہے کہ کامیابی اپنے نبی کی اطاعت و محبت سے ہی مل سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس واقعہ سے سبق حاصل کر نے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین

101 سبق آموز واقعات – مولانا ہارون معاویہ (صفحہ: 16 سے 18)
 

سبق آموز واقعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں