What Happened with Hajjaj Bin Yousuf 5

ایک ظالم کے ظلم کا انجام

محترم دوستوں، حجاج بن یوسف کے نام اور شخصیت سے یقیناََ آپ سب لوگ واقف ہوں گے۔ حجاج کو خلیفہ عبدالملک نے مکہ، مدینہ، طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا، جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان مقامات میں بیس سال حجاج کا عمل دخل قائم رہا، اس نے کوفہ میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں، اس کے دور میں اسلامی فتوحات کا دائرہ سندھ اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں تک پھیل گیا، حتیٰ کہ مسلمان مجاہدین چین تک پہنچ گئے تھے۔ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے قرآنِ کریم پر اعراب لگوائے، اللہ تعالیٰ نے اسے بڑی فصاحت و بلا غت اور شجاعت سے نوازا تھا۔ یہ حافظِ قرآن بھی تھا، شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا، وہ جہاد کا شدائی اور فتوحات کا حریص تھا۔ مگر اس کی ان ساری خوبیوں پر اس کی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی تھی بھی ایسی کہ تمام خوبیوں پر چھا جاتی ہے اور تمام اچھے اوصاف کو ڈھانپ دیتی ہے اور وہ برائی کیا تھی؟ اس کا ظلم۔۔۔

حجاج بن یوسف ان تمام خوبیوں کے باوجود بہت بڑا ظالم شخص تھا، اس نے اپنی زندگی میں خونخوار درندے کا روپ اختیار کر لیا تھا۔ ایک طرف اس کے دور کے نامور مجاہدین قتیبہ بن مسلم، موسیٰ بن نضیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڈا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود اللہ کے بندوں اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔

امام ابنِ کثیر نے “ابدایہ والنہایہ” میں ہشام بن حسان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے، اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسّی اسیّ ہزار قیدی بیک وقت رہے ہیں، جن میں سے تیس ہزار عورتیں ہوتیں تھیں۔ اس نے جو آخری قتل کیا ہے وہ عظیم تابعی اور زاہد وپارسا انسان حضرت سعید بن جبیرؒ کا قتل تھا۔ انہیں قتل کرانے کے بعد حجاج پر دہشت سی سوار ہو گئی تھی۔ وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا، جب وہ سوتا تھا تو حضرت سعید بن جبیر اس کا دامن پکڑ کر کہتے تھے اے دشمنِ خدا آخر تو نے مجھے قتل کیوں کیا، میرا کیا جرم تھا؟ جواب میں حجاج کہتا تھا مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے، مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔ یہ وہ اندر کی آگ تھی جو جب بھڑک اٹھتی ہے تو امن و سکون سب کچھ راکھ کر دیتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی تھی جسے زمہریری کہا جاتا ہے۔ سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی اور وہ کانپتا جاتا تھا، آگ سے بھری ہوئی انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتیں اور اس قدر اس کے قریب رکھ دی جاتیں کہ اس کی کھال جل جاتی مگر اسے احساس تک نہیں ہوتا تھا۔ حکیموں کو بلایا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ کے پیٹ میں سرطان ہے۔ ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا، تھوڑی دیر کے بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت سارے کیڑے لپٹے ہوئے تھے، حجاج جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمته الله علیه کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی وہ آئے اور حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے، میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، انہیں تنگ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا مگر تو باز نہ آیا۔

آج حجاج باعثِ عبرت بنا ہوا تھا۔ وہ اندر سے بھی جل رہا تھا اور باہر سے بھی جل رہا تھا۔ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ چناچہ وہ حضرت سعید بن جبیر رحمته الله علیه کو قتل کرنے کے بعد زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکا اور صرف چالیس دن کے بعد وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر حضرت سعید اور حجاج کی موت میں بڑا فرق تھا۔ حضرت سعید رحمته الله علیه کو شہادت کی موت نصیب ہوئی تھی، وہ ایسی آن بان سے دنیا سے رخصت ہوئے کہ بعد میں آنے والے مجاہدین کے لئے ایک سنگِ میل قائم کر گئے۔ وہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کا دل مطمئن تھا اور چہرے پر تبسم تھا لیکن حجاج بن یوسف جب دنیا سے جا رہا تھا تواندر کی آگ میں جل رہا تھا۔ چہرے پر ندامت کی ظلمت تھی، اسے اس کا ایک ایک ظلم یاد آ رہا تھا۔

حضرت سعید رحمته الله علیه کی شہادت پر تمام صلحاء اور علماء افسردہ تھے لیکن حجاج کی موت پر اللہ کے نیک بندوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ حضرت ابراہیم نخعی نے حجاج کی موت کی خبر سنی تو خوشی سے رو پڑے، مرنے کے بعد اس ڈر سے اس کی قبر کے تمام نشانات مٹا دئیے گئے تاکہ لوگ اس کی لاش کو باہر نکال کر جلا نہ ڈالیں۔ یہ اندیشے اس شخص کی قبر کے بارے میں ہو رہے تھے جس کے سامنے اس کی زندگی میں لوگ کھڑے ہوتے تھے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا اور لوگ اس کے ڈر سے دیوانے بن جایا کرتے تھے۔

اصمعی نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ جب حجاج بن ہوسف حضرت عبداللہ بن زبیر کے قتل سے فارغ ہو کر مدینہ آیا تو اسے مدینہ سے باہر راستے میں ایک شیخ ملا، چونکہ حجاج کے چہرے پر نقاب تھا اس لئے اس نے حجاج کو نہیں پہچانا۔ حجاج نے اس سے مدینہ کا حال احوال دریافت کیا۔ شیخ نے جواب دیا کہ بہت برا حال ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری قتل کر دیئے گئے ہیں۔ حجاج نے پوچھا، ان کو کس نے قتل کیا ہے؟ شیخ نے جواب دیا۔ ایک فاجروفاسق اور لعین شخص، جس کا نام حجاج ہے، اللہ اس کو ہلاک کرے اور سب لعنت بھیجنے والے اس پر لعنت بھیجیں۔
حجاج یہ سن کر غضب آ لود ہو گیا اور اس نے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب ہٹادی اور پوچھا کہ تم مجھے پہچانتے ہو؟ شیخ نے کہا، ہاں…. میں تمھیں پہنچانتا ہوں مگر تم مجھے نہیں پہچانتے، میں یہاں کا مشہور دیوانہ ہوں، مجھے دن میں پانچ مرتبہ مرگی کے دورے پڑتے ہیں، اور ابھی بھی مجھے جب میں الٹی سیدھی باتیں کر رہا تھا تو مجھے دورہ پڑا ہوا تھا۔
تو وہ شخص جس سے بات کرتے ہوئے بڑوں بڑوں کے جسم پر رعشہ طاری ہو جاتا تھا اور وہ کہ جس کے عتاب سے بچنے کے لئے لوگ مصنوعی دیوانے بن جاتے تھے۔ آج جب اس کے جسم سے جان نکل گئی تو اندیشے پیدا ہونے لگے کہ کہیں لوگ شدتِ غیظ و غضب میں اس کی لاش ہی کو نہ جلا ڈالیں۔ وہ اقتدار، وہ ہیبت و دبدبہ سب کچھ جاتا رہا۔

اس کے متعلقین کو اس کی لاش کی بے حرمتی کے بارے میں دنیا والوں سے جو خطرہ تھا انہوں نے اس کی قبر کا نام و نشان مٹا کر بظاہر اسے خطرے سے تو بچا لیا لیکن ظالموں کے لئے جو آخرت میں سزائیں ہیں ان سے اسے کون بچا سکتا تھا۔ وہاں تو کسی کا بس نہیں چلتا، کسی کی سفارش کام نہیں آتی، خاندانی وجاہت فائدہ نہیں دیتی۔ اصمعی کے والد نے حجاج کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے جتنے قتل کئے تھے ان میں سے ہر ایک کے بدلے مجھے بھی قتل کیا گیا۔

محترم دوستوں اس واقعہ کو صرف حجاج بن یوسف کا واقعہ نہ سمجھئے گا بلکہ ہر ظالم کے ساتھ آخرت میں یہی ہو گا، جس نے اللہ کے بندوں کو تنگ کیا۔
اس واقعہ سے حاصل یہ نکلا کہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے، لہذا انسان زندگی کے کسی بھی موڑ پر ظالم نہ بنے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ظلم سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

101 سبق آموز واقعات – مولانا ہارون معاویہ (صفحہ: 285 سے 289)

سبق آموز واقعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں