What kind of women were they 5

وہ کیسی عورتیں تھیں، زمانے کے ایک یاد

ایک زمانہ تھا کہ عورت ان پڑھ تھی، بچوں کی کثیر تعداد ساس، سسر کے ساتھ، ساتھ نندوں اور دیوروں کی کفالت اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا، اوپر سے ایک عجیب الفطرت مرد بطور مجازی خدا اسے برداشت کرنا پڑتا تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی، پرسکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی بچوں پر حکم، فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا۔ پھر زمانہ جدید ہوا عورت کا اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی۔ سسرال تو بہت بعید اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگی، اور پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے، پھر زمانے نے مزید ترقی کر لی اور اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے، خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے میں اس کے بلکل خلاف نہیں، مگر !! عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا اتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت حد ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے،

اب اس کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا۔ یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے ابھی سے مستقبل کی تیاری شروع کرا دی، ایک اشتہار میں ایک عورت اپنے دفتر سے ویڈیو کال میں گھر بیٹھے بچے کو آ آ آ آں ں ں ں کی آواز نکال کر بچے کو منہ کھولنے کو کہتی ہے اور بچہ منہ کھولتا ہے تو اس بچے کا باپ اس کے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے۔ ایک اشتہار میں گھر بیٹھی ماں اپنی جوان بیٹی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جو رات کے دس بج کر دس منٹ پر گھر پہچتی ہے اور ماں کو چائے بنا کر دیتی ہے، عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے،
■ بچے کے گرنے پرماں کا میں صدقے کہہ کر لپکنا،
■ بچے کے ہر آہٹ پر بے چین ہو جانے والی ماں،
■ بڑھتی عمر کے بچوں کے لئے فکرمند ماں،
■ وہ سب کی پسند نا پسند کا خیال کر کے ہانڈی پکانے والی ماں،
■ قصے کہانیاں اور لوری سنا کر سلانے والی ماں،
■ غلط کاموں پر ڈانٹنے اور چپلیں پھینک کر ڈرانے والی ماں،
■ اپنی اولاد کی پرورش میں گم صم رہنے والی اور اپنی اولاد میں کیڑے نکالنے اور نکتہ چینیاں کر کے دل ہی دل میں خوش ہونے والی ماں، لیکن آج کی مائیں اب مغرب کی طرزپر چلنا چاہتی ہیں، معاشرہ بدل رہا ہے، سب دیکھنے کے باوجود کہ کیسے مغرب کا معاشرہ تباہ حال ہے

لیکن پھر بھی خواہش ان جیسی بننے کی ہے۔ وہ بھی ایک دور تھا جب
جو سِل پر سرخ مرچیں پیس کر، سالن پکاتی تھیں
صبح سے شام تک مصروف ،لیکن مسکراتی تھیں
بھری دوپہر میں سر اپنا ڈھک کر،ملنے آتی تھیں
جو دروازے پہ رک کر،دیر تک رسمیں نبھاتی تھیں
پلنگوں پر نفاست سے، نئی چادر بچھاتی تھیں
بصد اسرار مہمانوں کو،سرہانے بٹھاتی تھیں
دعائیں پھونک کر بچوں کو، جو بستر پر سلاتی تھیں
کوئی سائل جو دستک دے، اسے کھانا کھلاتی تھیں
وہ کیسی عورتیں تھیں ؟
جو رشتوں کو برتنے کے، کئی نسخے بتاتی تھیں
محلے میں کوئی مر جائے تو، آنسو بہاتی تھیں
کوئی بیمار پڑ جائے، تو اُس کے پاس جاتی تھیں
کوئی تہوار ہو تو خوب، مل جل کر مناتی تھیں
وہ کیسی عورتیں تھیں ؟
اُنھیں میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں ،گلیوں اور مکانوں میں
کسی میلاد میں، جزدان میں، تسبیح کے دانوں میں
کسی برآمدے کے طاق پر، باورچی خانوں میں
مگر اپنا زمانہ ساتھ لےکر،کھو گئی ہیں وہ
کسی اک قبر میں ساری کی ساری، سو گئی ہیں وہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں